تازہ ترین

لہوکا عکس

افسانہ

28 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ساعد حمزہ مظہر
افسانہ ’’سیاہی کے دریا‘‘ میں اس قوت سے کود پڑیں کہ ہر لفظ کی لہر خم بہ خم آپکے وجود کے ذرے ذرے سے لپٹ جاے ٔ۔۔فاروق سر کتاب کے ہر باب کو پڑھانے سے پہلے یہ جملہ کہا کرتے تھے،ہاں! بس ہر بار اس میں یہ فرق ہوتا تھا کہ وہ اسکی شروعات میں صنف کا نام بدل دیتے تھے۔اب تو یہ جملہ سب نے اتنی دفعہ سن لیا تھا کہ وہ ہر ایک کے دماغ کی رگ رگ میں بس چکا تھا اور جب بھی سر کے لب یہ بولنے کے لئے کھلتے تھے ہم سب یکسر زور دار آواز میں سارا جملہ انکے مکمل کرنے سے پہلے ہی اداء دیتے تھے۔فاروق سر یوں تو ہمیشہ ہی ہمارے بولنے پر دھیمے سے مسکرایا کرتے تھے پر آج انہوں نے بڑی ہی سنجیدگی کے ساتھ ہمیں کہا کہ آج جو ہم پڑھنے جارہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ حقیقی صورتحال پر مبنی فکشس ادب کے اس شہکار کو اپنے قلب کی گہرائیوںں تک اُتار لیں۔ان کی یہ باتیں لگ بھگ ہر دوسرے طالب کے سر کے اُوپر سے راکٹ کی طرح نکل گئیں لیکن ان کی سنجیدگی نے پورے کلاس کا ماحول شانت کر دیا۔فاروق سر نے معمول کے مطابق پہلے افسانہ نگار کے حالات زندگی اور ادبی کارناموں کے بارے میں ایک مختصر بیان دیا۔یہ افسانہ دسویں جماعت کے نصاب میں شامل کتاب کا پہلا باب تھا جو ایک مشہور و معتبر افسانہ نگار کی تخلیق تھی۔سر نے اس افسانے کے عنوان کی جانب ہماری خاصی توجہ مبذول کرائی اور بعد وہ کہانی کے بہائو میں جیسے بہہ گئے۔ سر یوں تو خود میں ہی ایک گہری شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہنس مکھ اور ملنسار بھی تھے لیکن ادب کے سمندر کی تہہ میں اُترتے ہوئے وہ طنز و مزاح کے دریا کی سطح پر تیرنا پسند کرتے تھے۔بعض اوقات انکے لہجے کی شیرینی انکے منہّ سے نکلنے والے بے ساختہ الفاظ سے مل کر تلخی کا سامان سُننے والوں کے لئے فکری زخموں کی وجہ بن جایا کرتی تھی۔کلاس میں سبھی کہانی کو خاکے کے نظریئے سے دیکھ و سن رہے تھے لیکن کلاس روم کے بائیں کونے میں بیٹھا ساحل اپنی کرب ناک یادوں کی دنیا کے چکر کاٹتا رہا۔اسکی یہ گردش اُسی لمحے سے شروع ہوئی  جب فاروق سر نے عنوان کی طرف سب کو متوجہ کیا۔ساحل نے عنوان کو بس اک جھلک بھر دیکھا کہ اسکی آنکھیں اُبھرتے اشکوں سے یکسر بھر گئیں۔اس نے اپنے جذبات کے سمندر میں ابھرتے طوفان سے خود کو بچانا تو چاہا لیکن اس دن کی ہولناک یادوں نے اسے پھر اشکوں کے سمندر کی تہہ تک پہنچادیا۔اسے پھر اپنے اندرونی بحران کے سبب ہار محسوس ہوئی ۔اسکے کان اس لمحے بس فاروق  سر کی گفتگو سن رہے تھے لیکن اسکا دماغ دو آوازوں کی تشریح کر رہا تھا۔دونوں آوازوں میں چھپے اثرات اس قدر یکساں تھے کہ ساحل کے دماغ کی جھریوں میں وہ باہم مل گئے اور اس میں سوچنے کی قوت معدوم ہوگیٔ۔سر کہانی کے عنوان کا اسکی واقعاتی فضاء سے موازنہ کرتے رہے اور ساحل سر کے الفاظ کا اپنی زندگی سے۔کلاس میں ان جذباتی تعملات کے علاوہ باقی سب کچھ طبعی تھا لیکن ساحل کی یادوں سے جڑے احساسات نے اسے اس دنیا سے کہیں دور پہنچادیا تھا۔وہ حقیقی احساس کی پرانی دنیا میں کھو گیا تھا اورددر کی کربناک لہروں نے اسکے وجود کے ذرے ذرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔اسکا انگ انگ اب اس درد کو محسوس کر رہا تھا۔وہ چیخنا چاہتا تھا، چلانا چاہتا تھا لیکن اسکا جسم اب اُسکا نہ رہا تھا۔ اسکا انگ انگ سُن پڑ گیا تھا اور وہ کلاس میں بیٹھی محض اک زندہ لاش جیسا تھا۔ساحل یادوں کے ابھرتے سیلاب میں اس قدرِ گھر چکا تھا کہ اسکے کانوں میں اب سر کی آواز بھی نہ جا رہی تھی۔سر افسانے کے ہر پہلو کی تشریح یکساں طور بیان کر رہے تھے اور یہ سب کرتے کرتے وہ ہم سب کے چہروں کی طرف دیکھ کر ہمارے سمجھنے کی قوت کا جائیزہ لے رہے تھے۔ اس سب کے درمیاں انکی نگاہ کونے میں بیٹھے ساحل کی طرف گئی، جو ہماری دنیا سے کوسوں دورتھا۔سر اسے دیکھ کر پہلے تو ہمیں قاعدہ سے ہی سمجھاتے رہے لیکں یہ کرتے کرتے بھی انکی آنکھں ساحل سے نہیں ہٹ پا ئیں اور وہ کچھ لمحے بس اسے ہی دیکھتے رہے۔کلاس میں موجود ہر ایک فرد اس دوران کبھی ساحل کو دیکھتا تو کبھی سر کولیکن  پوری کلاس میں کوئی ایسا نہ تھا جو ساحل کو اسکی دنیا سے نکال کر اس جہاں میں واپس لے آتا۔سر کو اسے اس قدر کھویا ہوئے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی انکی کمائی ہوئی عزت کو نیلام کررہا ہو۔انہیں بے حد غصہ آیا اور ان سے مزید برداشت نہ ہو سکا اور وہ زور دار آواز میں اُس سے مخاطب ہوئے۔انکی آواز اتنی اونچی تھی کہ نیند میں مگن ریحان بھی ایک دم جاگ پڑا۔سر ساحل کو دیکھتا رہا پرساحل کو کچھ فرق نہ پڑا۔ وہ اپنی دنیا کے سمندر میں بس بہتا ہی رہا ۔سر نے پھر زور سے اُسے آواز دی لیکن ساحل پر اس کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ اب سر کے غصے کا باندھ ٹوٹنے لگا اور اس بار انہوں نے چلاتے ہوے ٔ  اس کا نام پکارا۔۔ساحل۔۔!یہ سنتے ہی ساحل کھڑا ہوگیا۔۔کس جنگل میں کھو گئے ہو نا ہنجار،میں بک رہا ہوں کیا ادھر۔۔؟ ساحل نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔ساحل یوں تو انکی آواز پر کھڑا ہوگیا تھا لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ابھی خیالوں کے سمندر میں تیر رہا تھا۔۔بولتے کیوں نہیں تم؟ بولو ذرا میں بھی تو سنو؟۔۔۔ اظہار کرو اپنے خیالوں کا۔۔۔ ساحل اپنی آنکھیں پھاڑ کر بس انہیں دیکھتا رہا لیکن کچھ نہ کہہ سکا۔۔ جگاؤ ذرا۔۔ اسکو۔ پتہ نہیں کیا خواب دیکھ رہا ہے یہ۔۔ کون سے عالم میں ہے یہ ،سر غصیل لہجے میں ہم سے مخاطب ہوئے۔۔چلو بولو!میں نے کیا پڑھایا۔ اس افسانے کے عنواں کا تیسرا حصہ حالات سے جوڑ کر بتائو جلدی جلدی۔۔ساحل ایک لمحے کے لئے پورا جم گیا۔ اسکی نس نس جیسے منجمد ہوگئی۔ پھر جیسے اسکی سوچ کو چابی لگ گئی اور اس دن کی یادیں پھر اسکی آنکھوں کے سامنے بکھرنے لگیں۔۔سر کے منہ سے عنوان کا تیسرا پہلو نکلتے ہی اُسے پھر وہی لمحہ یاد آیا جب اسکا سارا جہاں اُس سے چھن گیا۔ اُسے وہ گاڑی یاد آئی،وہ حادثہ یاد آیا اورپھر گہرائی میں گم ہونے لگا۔۔ ساحل بولو! کیا ہے لہو بولو۔۔ساحل نے ابتک اس یاد سے خود کو بچا لیا تھا پر اب اس سے اور نہ بچاجاسکا۔اسے اپنے امی ابو کے خون میں لت پت بے ہوش جسم یاد آئے۔ اسے اپنی آنکھوں سے بہتا اشکوں کا ایک قطرہ قطرہ یاد آیا۔ اسے اپنا وجود پھر اسی دن کی طرح جیسے ٹوٹتا بکھرتا محسوس ہوا۔ اسکی آنکھیں بھاری ہونے لگیں،زبان لڑکھڑانے لگی اور وہ تھر تھراتے ہوئے بولا۔۔ام م می۔۔۔۔اب بو۔۔۔یہ سنتے ہی اسکے علاوہ کلاس میں موجود ہر کو ئی زور زور سے ہنسنے لگا۔فاروق سر، جو اب تک آگ بگولا ہو رہے تھے، وہ بھی ٹھاہ ٹھاہ کرکے ہنس پڑے۔۔کونے میں کھڑے ساحل کی بھرائی آنکھیں اب اس قدر لبریز ہوگئیں کہ ان سے نکلتا آنسوئوں کا سمندر سا گہرا ہر قطرہ اسکی سرخ پنوں والی کتاب پر گرکر منعکس ہوکے اسکی آنکھوں تک پہنچتے پہنچتے لہو کی صورت اختیار کر گیا۔
 
���
دریش کدل ،سرینگر
موبائل نمبر؛8825054483