تازہ ترین

کو رپشن کے خلاف بھر پور جنگ!

27 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست میں کورپشن کے بڑھتے ہوئے ناسور پر پھر ایک بار اپنے خیالات کو بغیر کسی لاگ لپٹی کے اظہار کی زبان دی ۔ سچ یہ ہے کہ وہ پہلے دن سے کورپشن کو ریاست کاسب سے بڑا سنگین مسئلہ بتلا تے چلے آئے ہیں۔ ریاست کا عام آدمی چاہتا ہے کہ بدعنوان عناصر کا یوم ِ حساب جلد سے جلد آنا چاہیے ۔ اس میں کوئی رتی بھر بھی شک نہیں کہ ریاست میں بد عنوانیوں کا گھنا جنگل پھل پھول رہاہے مگر یہ جنگل کسی آسمان سے بنا بنایا نہیں اُترا بلکہ اسی سرزمین خود غرضانہ سیاست نے اس کی تخم ریزی کی ، افسر شاہی نے اس کی آب پاشی کی ، عدم جوابدہی سے معمور سیاسی کلچر نے اس کو سر سبز وشاداب رکھا اور چلتے چلتے اب یہ جنگل اپنے کڑوے کسیلے پھل کانٹوں کی صورت میں پورے سماج کی جھولی میں ڈال رہاہے ۔ کورپشن کے سمندر میں جن بڑے بڑے مگرمچھوں نے سرکاری خزانوں کونگل ڈالاوہ بقول گورنر ملک شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، ریاست کے ا ندر اور باہر بڑے محلات کے مالک ہیں ، موٹے موٹے بنک کھاتہ دار ہیں ۔ ان کے مقابلے میں غریب ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب ترہورہے ہیں ۔ گرچہ کور پشن کے جا ن لیوا ناسورکے حوالے سے وزیراعظم مودی نے بھی ملکی عوام کو اس کے مکمل خاتمے کی یقین دہانیاں دیں مگر پھر بھی تاریخ نے دیکھ لیا نیرو مودی ، للت مودی ، وجے مالیہ جیسی کہانیاں بھی بنتی رہیں ۔ نوٹ بندی کامقصد بھی کورپشن کے خلاف جنگ بتایا گیامگر اس کے باوجود بدعنوانیاں کسی نہ کسی صورت اپنا ناپاک وجود منواتی رہیں ۔ اس لئے سوال یہ بنتا ہے کیا کورپشن کے خاتمے کا خواب محض قانونی اور انتظامی سطح کی تیز طرار کارروائیوں سے حقیقت کا روپ دھار سکے گا ؟ کہیں اس خواب کو شر مندہ ٔ  تعبیر کر نے کے لئے ضمیر اور خمیر کے محاذپر بھی انتھک کام کرنے کی اشد ضرورت تو نہیں ہے ؟ مودی جی نے ۲۰۱۴ء میںا پنی انتخابی مہم کے دوران قوم کو کالے دھن کی واپسی اور کورپشن کو جڑ سے اُکھاڑ پھنکنے کے وعدے دئے مگر اس بیماری کی شدت اس درجے کی ہے کہ آج ہمارے گورنر صاحب علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ سرکاری خزانوں کی لوٹ کھسوٹ شدو مد سے جاری ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ بر س قبل انا ہزارے اور کیجروال نے مل کر بھرشٹاچار مخالف تحریک اتنے زور وشور سے چلائی کہ وقت کی کانگریس سرکارکا ناطقہ بند ہوا ۔ اس آندولن کو نصف النہار پر پہنچا کر کیجروال نے اپنی عام آدمی پارٹی بنا ڈالی اور کانگریس کی شیلا ڈکشٹ سرکار کو ہی چلتا نہ کیا بلکہ بھاجپا کو بھی دلی میں سیاسی طور بے دست وپا کر کے رکھ چھوڑا لیکن کیا آج کی تار یخ میں کیجروال یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ’’آپ‘‘ کے اقتدار میں دلی صد فی صدکورپشن فری ہے ؟ ذرا سا پیچھے جاکر دیکھئے تو نظر آئے گا کہ بدعنوانیوں کے سلگتے موضوع پر وقت کی کانگریس حکومت( یو پی اے )اور وقت کی اپوزیشن بھاجپا نے لوک پال بل اتفاق ِ رائے سے منظور کیا مگر کیااس کورپشن مخالف مسودۂ قانون س بھرشٹاچار کا کوئی بال بیکا ہو ا؟ ہماری ریاست میں کورپٹ عناصر کے تعلق سے کڑوا سچ یہ ہے کہ یہاں رنگے سیار اور پرانے پاپی انسداد ِ بدعنوانی قوانین کی آنکھوں میں دُھول جھونکتے ہوئے نہ ہاتھ کی صفائیاں چھوڑنے پر تیار ہیں اور نہ بد عنوانیاں ترک کر نے پر راضی۔ وجہ یہ ہے کہ لاکھ رُکاوٹوں کے باوجودسیاست اور بیروکریسی جیسے خدمت خلق اللہ کے شعبوں میں ایسے منجھے ہوئے کھلاڑی لا محالہ گھس جاتے ہیں جو کورپشن کے عادی مجرم ہوتے ہیں اور جنہیں قانون کا ڈنڈا کسی صورت زیر نہیں کر سکتا۔ ان ماہر چور اُچکوں کے لئے خزانہ ٔ عامرہ کو دو دو ہاتھ لوٹنا ہر دور میں بائیں ہاتھ کا کھیل رہا ہے ۔اس پر مستزاد یہ کہ ووٹ بنک سیاست کے چلتے اُنہیں غیبی ہاتھوں کی آشیرباد بھی حاصل ہوتی ہی رہتی ہے ۔ آج تک جتنے بڑے بڑے غبن گھوٹالوں کی کہانیاں منظر عام پر آئی ہیں ، اُن میں یاتو سیاست کار بذات ِخود ملوث پائے گئے یا ان کے چیلے چانٹے سرکاری افسران، اور یہ سب دُز دان ِ دلاور کی کالی کرتوتیں اس قدر زبان زد عام ہیں کہ آج ہم کسی سیاست دان یا اونچے سرکاری عہدیدار کے بارے میںخواب وخیال میں بھی گمان نہیں کر جا سکتے کہ یہ اپنے اختیارات کانا جا ئز فائدہ اُٹھاکر کوئی نہ کوئی گل نہ کھلارہا ہوگا ، یہ اوپری کمائی کی حرص و ہوس پورا کر نے کے لئے غریب عوام کی پیٹھ میں چھرا نہ گھونپ رہا ہو گا ، یہ عوامی مفاد کا گلا گھونٹ کر سرکاری خزانے کو نچوڑ تے ہوئے اپنی خفیہ تجور یاں نہ بھر رہا ہوگا۔ اسی لئے آئے دن نئے نئے غبن گھوٹالے اور لوٹ پاٹھ کی سر گزشتیں ہر باشعورشہری کو یہی باور کراتے ہیں کہ اس کے اوپر جو حضرات منصب داروں کی حیثیت سے مسلط ہیں ،وہ صرف سرکاری خزانے کو چونا لگا نے کے لئے کرسیوں پر بیٹھے ہیں نہ کہ کسی خدمت خلق کے لئے، الا ماشاء اللہ۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں عام آدمی سر پیٹ کر نہ رہ جا ئے تو اور کیا کرے؟ مایوسی کے عالم میں عام آدمی یہی یقین رکھتا ہے کہ اربابِ حل وعقد کی جانب سے کورپشن مخالف وعدے وعید ، اَنٹی کورپشن اداروں کے چھاپے، کورپشن مخالف نئے نئے سخت قوانین اور تدبیریں اس ناسور زدہ سسٹم کو جزوی طور ٹھیک کریں تو کریں مگر ان سے بوجوہ کلی اصلاح ممکن ہی نہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انسدادِ بدعنوانی کے موضوع پر ہماری ریاست میں قوانین کی بھر مار ہے ، متعلقہ عدالتیں ، ویجی لنس بیورو، احتساب کمیشن اور اَنٹی کورپشن ادارے وغیرہم قطار اندر قطار موجود ہیں مگر اس کے باوجود کورپشن شیطان کی آنت کی بڑھ رہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ سال قبل جموں وکشمیر کوبھارت میں دوسری کورپٹ اسٹیٹ ہو نے کا’’اعزاز‘ بھی ملا تھا۔ ظاہر ہے جب کورپشن کے بحر مردار میں بڑے بڑے مگر مچھ پل رہے ہوں تو گورنر ملک کے لئے ان کو کیفر کردار تک پہنچا ناایک بہت بڑا چلنج ہے۔ بایں ہمہ ہمیں اس تندو تلخ حقیقت سے آنکھیں موندھ نہیں لینی چاہیے کہ محض قانون کی کتابوں کی ضخامت بڑھانے اورسزاؤں کا خوف دل میں بٹھانے سے کورپشن کازمین برد ہو نا خیالِ عبث ہے تاوقتیکہ فرداًفرداً انسانی ضمیر پر اخلاقی حدود وقیود کا ہمہ وقت پہرہ نہ بیٹھ جائے اور سماج میں اوپر سے نیچے تک سچائی ، دیانت داری ، اَمانت داری مستقلاً اپنائی نہ جائے ۔ لہٰذا جب تک ہمارا انفرادی واجتماعی ضمیر بیدا نہ ہو اور ہر کس وناکس باطنی ا صلاح پر آمادہ نہ ہو ،اُ س وقت کورپشن کا خاتمہ صرف ایک ایسا پُر کشش نعرہ ہی ہوسکتا ہے جس کی عملی دنیا کوئی معنویت نہیں ۔ بہر کیف اگر گورنر ریاست کو کورپشن فری بنانے کے اپنے عزم پر ہمہ تن عمل پیرا ہوجاتے ہیں تو کوئی چمتکار ہونا بعیدازامکان بھی نہیں۔