تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

26 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
 سوال:۔ ہمارے معاشرے میں منشیات کی مختلف قسمیں بہت تیزی سے رائج ہو رہی ہیں ۔ نوجوان بہت تیزی کے ساتھ منشیات کاعادی ہوتے جا رہے ہیں ۔ شریف اور معزز خاندانوں کے بچے اس میں بُری طرح پھنس رہے ہیں ۔شراب اور دوسری منشیات کا پھیلائو بہت زیادہ ہے ۔شراب خانوں کے باہر  شراب لینے والوں کی لائینںلگی ہوتی ہیں۔ کہیں پر خفیہ اور کہیں پر کھلم کھلاشراب ، چرس اور دوسری منشیات کی فروختگی کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ یہاںجموں میں حال زیادہ ہی بُرا ہے ۔ برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ منشیات کے متعلق قران اور حدیث کے مطابق روشنی ڈالیں۔میں میڈیکل شعبہ سے وابستہ ایک ڈاکٹر ہوں میرے سامنے بہت شرمناک اور افسوسناک واقعات ہیں۔
ڈاکٹر نجیب اشرف

منشیات کی خوفناک وباء..........

نجات کےلئے انفرادی اوراجتماعی جد وجہد کی ضرورت

جواب :۔ اللہ نے انسان کو جن مخصوص اور اہم نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں ایک خاص اور ممتاز نعمت عقل و فہم او رشعور و ادراک بھی ہے۔ یہ عقل ہے کہ جس کی وجہ سے انسان خلافت کا مستحق قرار پایا اور اسی عقل وشعور کا بہترین ثمرہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو قسم قسم کے سائنسی ،صنعتی اور تمدنی وسائل اور ایجادات سے آراستہ کر رہا ہے ۔اس عقل کی اہمیت اس درجہ ہے کہ اللہ جل شانہ ‘ بار بار قرآن مجید میں اس عقل کو کام میں لانے اوراس سےغور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ عقل ایک جوہر ہے جو انسان کو دوسری تمام مخلوقات سے ممتاز کرنے کا ذریعہ ہے اوراس عقل کو تباہ کرنے والی چیز نشہ ہے ۔ نشہ انسان کی عقل اور تمام عقلی سرگرمیوں کو معطل کرنے ،اُن میں خلل ہی نہیں بلکہ شدید حد تک نقصان پہونچانے کا سبب ہے ۔ اسی لئے اسلام نے تمام ایسی منشیات کو سخت حرام قرار دیا ہے جوانسان کو پاگل بنائے۔ قرآن مجید نے شراب کو اسی لئے حرام قرار دیا ہے اور ناپاک بھی۔ نشہ انسان کو ظاہری ناپاکی کے ساتھ اخلاقی و روحانی نجاست سے بھی آلودہ کرتا ہے اس لئے کہ نشہ کی حالت میں انسان سے گندے افعال اور ناپاک حرکتوں کا صدور ہوتا ہے۔ وہ زبان سے گالیاں بکتا ہے دوسروں کو لعن طعن کرتا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر فحش حرکات کا اقدام کرنے پر بھی اُس میں کوئی غیرت یا حمیت باقی نہیں رہتی۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ نشہ میں لت پت یہ انسان اپنی ماں یا بیٹی میں بھی تمیزنہیں کر پاتا۔ حضرت نبی کریم ﷺ  نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے (بخاری) اور ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جس شیٔ کی کثیر مقدار نشہ کا سبب بنے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔ اس کے معنیٰ یہ ہے کہ شراب کا ایک قطرہ بھی اسی طرح حرام اور نجس ہے جیسے اس کی زیادہ مقدار حرام ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ نشہ کی ابتداء انسان بہت معمولی مقدار سے کرتا ہے اور پھر اسکی عادت ہر اگلے مرحلے میں زیادہ کی طلب گار ہوتی ہے، حتیٰ کہ انسان زہریلے انجکشن تک لگانے لگتا ہے۔
نشہ چاہئے شراب کا ہو چرس کا ہو ، افیون کا ہو یا کسی اور چیز کا اور چاہئے اسے پانی کی طرح پیا جاتا ہو یا بذریعہ انجکشن جسم میں بھرا جاتا ہو پھر وہ پی جانےو الی نشلی چیز ،چاہئے وہسکی کے نام کی ہو یا برانڈی یا پھررم کے نام کی ،سب کے سب حرام ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ فلاں خاص قسم کی شراب میں نشہ کی مقداربہت کم ہے ،یا عادت پختہ ہونے کی وجہ سے وہ بے قابو نہ ہوتا ،تو بھی یہ شراب ہی ہے اور بہر حال حرام ہے۔
حضرت نبی کریم ﷺ  کا ارشاد ہے کہ قیامت کے قریب زناکاری عام ہوگی اور شراب کثرت سے پی جائے گی اور جہالت کا دور ِ دورہ ہوگا ( بخاری) ۔آج کا عہد اسی کا نقشہ پیش کر رہاہے کہ تعلیم کے عام ہونے اور انفارمیشن کے پھیلائو کے باوجود دین سے بے خبری بھی عام ہے اور بے عملی اس سے زیادہ ہے۔ بہت سے اعلی تعلیم یافتہ دین کی بنیادی باتوں سے بھی لاعلم ہیں اور بے عمل بھی اورا س پر طرہ یہ ہے کہ اس لاعلمی اور بے عملی کا کوئی احساس نہیں ہے ۔اس طرح قسم قسم کی منشیات کا دوردورہ ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ نشہ کی تمام اقسام انسان کی صحت کےلئے نہایت مضر ہیں ۔یہ ایک نرم رفتار زہر ہے جو انسان کو اندر ہی اندر سےکھوکھلا کرتاہے۔ چنانچہ کتنے ہی اعلیٰ دماغ کے لوگ شراب نوشی کی کثرت کی بنا پر اپنے دماغ سے وہ کام اور اپنے وجود سےوہ کارنامے انجام نہیںدے پاتے جس کی صلاحیت اُن کو عطا ہوئی تھی۔شراب اور دوسری منشیات کی وجہ سے ہاضمہ کی خرابی، جگر کی خرابی، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں، ہڈیوں کی کمزوریاں، حافظہ کی کمزوری، کئی قسم کے کینسر، نیند کا کم ہونا، اعصاب کا متاثر ہونا، نظام تنفس کا متاثر ہونا، دماغی امراض مثلاً نسیان، دوران سر، مرگی، جنون، قوت فیصلہ کا کمزور ہونا جلدکی بیماریاں اور جنسی امراض کا لاحق ہونا تمام ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے۔
معاشرتی مسائل پیدا ہونے کا ایک بڑا سبب بھی یہی منشیات ہیں۔ نشہ کے عادی لوگ، چوری، ڈکیٹی، فراڈ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ، گھریلو جھگڑے، مارپیٹ کرنےاوراپنے بیوی بچوں کو ضروریات زندگی حتیٰ کہ ضرورت کے کھانےسے بھی محروم رکھنے میںبھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ نشہ کے عادی اپنی ازدواجی زندگی میں بھی نہایت نفرت رسانی کے اقدام کرتے ہیں۔ رفیقہ حیات کی مارپیٹ ، گالی گلوچ حتیٰ کہ کبھی غیر اخلاقی حرکات کی انجام دہی پر بھی اصرارکرتے ہیں۔
نشہ کی وجہ سے نفسیاتی خرابیاں بھی ہوتی ہیں۔ منشّیڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ تردد، وہم ، خوف اوربزدلی اُس پر چھائے رہتے ہیں۔ بر وقت کوئی فیصلہ کرنے کی قوت بھی ختم ہونے لگتی ہے۔ وہ خاندان سے الگ تھلگ رہنےاو رنشہ میں چور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے بچوں سے بھی وحشت بلکہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ شراب کے اخلاقی نقصانات تو بہت زیادہ ہیں ۔نشہ میں بدمست انسان بدکلامی ہذیان گوئی اوراُول فول بکتے رہتےہیں۔ ہوش کی حالت میں جس بات کو سوچنا بھی وہ انسان گوراہ نہیں کرتا نشہ میں وہی بکتا ہے مگر احساس نہیں ہوتا۔ یہ سب اخلاقی نقصانات ہیں۔ اسلئے محسن انسانیت ﷺ  نے شراب کو اُم الخبائث بھی برائیوں کی جڑ اور اُم الفواحش یعنی بے حیائیوں کی جڑ قرار دیا ہے۔ شراب کی وجہ سے دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے ۔وہ ہیں شراب نچوڑنے والا، شراب نچوڑنے کا عمل کرنےوالا، شراب پینے والا، شراب ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والا، شراب پلانے والا، شراب خریدنے والا، شراب بیچنے والا، شراب کی کمائی کھانے والاجس کے حکم سے اس کے پاس شراب لائی جائے( ترمذی)۔
شراب اور دوسری منشیات کے انسداد کے لئے ایک جامع اور ہمہ گیر مگر موثر طریقہ کار اپنانا اور معاشرے کے ہر طبقہ کا اس میں تعاون دینا ہی اس کی نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انسدادی قوانین بنائے جائیں منشیات کی ہر قسم کی خرید و فروخت پر سخت پابندیاں ہوں۔ تعلیمی اداروں میں اس کے نقصانات کو بار بار مؤثر انداز میں سمجھایا جائے میڈیا کے ذریعہ شراب کے نقصانات کو اور شرابیوں اور دوسری منشیات سے تباہ حال لوگوں کے احوال سامنے لائے جائیں۔
اہل ایمان کو ایمانی غیرت کی بنا پر اس سے بچنے کےلئے سمینار کا نفرنسیں ،مجالس تذکیر اور رابطے کےپروگرام منعقد کرنے چاہیں۔نشہ کے عادی لوگوں کو ان عادتوں سے بچانے کی تدابیر جو ماہرین نے مقرر کی ہیں اختیار کی جائیں۔ معاشرے میں منشیات سے جُڑے لوگوں پر اخلاقی دباؤ بڑھایا جائے ۔والدین اپنے بچوں پر خصوصی نگرانی رکھیں۔ اُنہیں ہوٹلوں اور ایسے مقامات میں جانے سے روکا جائے جہاںمنشیات کی دستیابی ہوتی ہے۔ غر ض کہ ایمانی ، اخلاقی، معاشرتی، قانونی اورتذکیری ، غرض ہر ہر پہلو سے اس سیلاب کو روکنے کی کوشش معاشرے کےہر طبقے کی طرف سے ہونے لگے تو اچھے نتائج سامنے آنا یقینی ہے۔ س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟
ارجمند اقبال ۔۔سرینگر

اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر

جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے والا قرار پائے گا ۔
زوجہ کومجبورکرنا کہ وہ اپنی کمائی بچوں پر یا گھر پر ضرور کرے۔یہ شرعاً بھی غلط ہے ، غیرت کے بھی خلاف ہے اور عقل واخلاق سے بھی غلط ہے۔لیکن اگر کوئی خاتون اپنی خوشی ورضامندی سے اپنے گھریا اپنے بچوں پر اپنی آمدنی صرف کرے تو اُس میں نہ کوئی حرج ہے نہ یہ کوئی غیرشرعی چیزہے ۔کمائی ہوی آمدنی بہرحال کہیں نہ کہیں تو خرچ ہونی ہی ہے ۔ اگر اپنی اولاد پر خرچ ہو تو کیا مضائقہ ہے ۔
زوجہ کی کمائی پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر شوہر زوجہ کو مجبورکرے کہ وہ اپنی کمائی ہوئی جائیداد کوشوہر کے نام پر ہی اندراج کرائے تو یہ سراسر غلط ہے اور عورت اگر اس کا انکار کرے تو شوہرجبر نہیںکرسکتااور عورت کا انکاربھی نہ غیر شرعی ہے نہ غیراخلاقی ہے۔لیکن اگرعورت برتر اخلاق کا مظاہرہ کر اور دُوراندیشی ، وسعت ظرفی ،دریادلی کامظاہرہ کرے ۔ اپنا اوراپنے بچوں کا مستقبل بچانے کے لئے اگر وہ جائیداد بچوں کے نام پر اندراج کرائے ،شوہر کی بے جا ضد کوصرف اپنی اور بچوں کی زندگی کو تلخیوں سے بچانے کے لئے قبول کرے اور جائیداد اُسی کے نام اندراج ہوجائے تو اس میں دینی ، دینوی طرح طرح کے فائدے ہوں گے ۔ سوچئے اگر یہ جائیداد عورت کے نام پر رہی تو آگے اس کا حق اولاد کا ہی ہوگا اور اگر جائیداد باپ کے نام پر رہی تو بھی یہ آئندہ اولاد ہی کا حق ہوگا۔لیکن شوہر کو بھی یہ بات ٹھنڈے دل سے سوچناچاہئے کہ اُس کے بچوں کی ماں نے آج تک اُس کے بچوں پر کتنا خرچ کیا اور یہ سب بہرحال اُس کا احسان،جس کا اعتراف نہ کرنا ناشکری ہے اور آگے یہ سوچیں کہ اگر کمائی زوجہ کی ہے تو یہ غلط اصرار کیسے دُرست ہوگاکہ یہ جائیداد شوہرکے نام پر اندراج ہو۔وہ ٹھنڈے دل سے یہ بھی سوچے کہ اگر وہ جائیداد زوجہ کے نام پر ہی اندراج ہو تو بھی آئندہ یہ اُس کے بچوں کا ہی حق ہوگا۔اس لئے اپنے گھرکوتلخیوں سے بچانے اور اپنی زوجہ وبچوں کو ذہنی وجسمانی سکون دینے کے لئے دُوراندیشی اوروسعت قلبی کا روّیہ اپنائے او رزوجہ پر بے جااصرار نہ کیا جائے ۔خلاصہ یہ کہ زوجہ کی کمائی زوجہ کی ہے ۔ اگر وہ اپنی خوشی ورضامندی سے بچوں یا گھر پراپنی آمدنی صرف کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اگر وہ خرچ نہ کرے تو شوہر کاجبر کرناغیرشرعی ہے۔
عورت اگراپنی رضامندی سے اپنی کمائی اپنے شوہر کے نام رکھے تو شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر وہ خوشی سے اس پر آمادہ نہ ہو تو اصرار وجبر کرنا غیر شرعی ہے ۔بچوں کا باپ اور ماں اگر دونوں کماتے ہوں تو بھی بچوں کا تمام تر خرچہ بچوں کے باپ پر لازم ہوگا۔ اگر ماں اپنی اپنی آمدنی میں سے اپنے بچوں پر خرچ کرے تو یہ بھی کوئی غیرشرعی نہیں ہے ۔ ٭٭