تازہ ترین

عمر عبداللہ کے ردعمل کا جواب

غصے میں کچھ زیادہ ہی بول گیا

23 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی

 ایک سابق وزیر کی تفتیش ہوگئی، آئندہ ایک ماہ میں مزید 2تین کی ہوگی:گورنر

 
سرینگر//گورنر ستیہ پال ملک نے کہا ہے کہ آئندہ ایک ماہ میں مزید 2یا 3سابق وزراء سے پوچھ تاچھ کی جائیگی۔جنگجوئوں کو کرپٹ سیاست دان اور بیوروکریٹوں کو مارنے کی صلاح دینے سے متعلق اپنے بیان کو واپس لیتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ مذکورہ بیان رشوت کیخلاف غصے کا اظہار تھا، انہیں اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ’’ میں ایک آئینی پوزیشن پر فائض ہوں، لہٰذااس طرح کا بیان دینے سے احتراز کرنا چاہیے تھا‘‘۔تاہم انکا کہنا تھا کہ اگر گورنر نہیں ہوتا تو اسی طرح کے تاثرات ہوتے۔گورنر نے عمر عبداللہ کے ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا’’عمر عبداللہ ’’سیاسی نابالغ‘‘ ہیں۔ گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ ’’کرپشن کے بے دریغ رواج کیخلاف میرے اندر بہت غصہ تھا۔ میں جہاں بھی پہنچا، وہاں پرکوریشن پایا۔گورنر نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ سیاسی بچے کی طرح  برتائو کررہے ہیں جو ہر ایک معاملے پر ٹویٹ کرتے رہتے ہیں۔گورنر نے بتایا کہ ’’جائو لوگوں سے میری اور عمرعبداللہ سے متعلق دریافت کرو، میں بحیثیت گورنر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ میری نئی دہلی میں کیا پوزیشن ہے، آپ (عمر عبداللہ) اس وقت کہاں کھڑے ہو، اس سے آپ کی پوری پوزیشن معلوم پڑتی ہے‘‘۔گورنر کا کہنا تھا کہ میں اپنے آبائی علاقے سے یہاں پر آیا ہوں، میرے پاس صرف ڈیڑھ کمرے کی جائیداد موجود ہے اور میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ میں کرپٹ عناصر کو بے نقاب کرنے کے بعد ہی یہاں سے چلاجائوں گا۔انہوں نے کہا کہ میں اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ سیاستدانوں کے کورپشن کو بے نقاب کروں گا۔انہوں نے کہا ’’کشمیر کے المیہ کیلئے کچھ لوگ ذمہ دار ہیں،ان لوگوں نے اتنی لوٹ مچائی ، اتنی لوٹ مچائی کہ بھارت کی تاریخ میں کسی بھی ریاست میں اتنی لوٹ کسی نے نہیں مچائی ہے،سارا ستیا ناس انہی لوگوں نے کیا ہے، یہ لوگ ہنوز سلطانوں کی طرح برتائو کرتے ہیں،مگر وہ دن گئے جب وہ باج لیتے تھے،انہیں اب جوابدہ بنایا جائیگا۔‘‘انکا کہنا تھا ’’ کورپشن میں چاہیے میں ملوث ہوگا، یا میرا عملہ یا میرا بھائی ہی کیوں نہ ہو، کسی کو نہیں بخشا جائیگا‘‘۔ گورنر نے کہا ’’ ایک سابق وزیر کی تفتیش ہوچکی ہے اور آئندہ ایک ماہ میں مزید 2تین سابق وزراء کی ہوگی، یہ لوگ تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے عام لوگ ہیں،چاہیے انکا رتبہ بڑا ہی کیوں نہ ہو، بڑی مچھلی ہو یا چھوٹی مچھلی میں کوئی فرق نہیں‘‘۔