تازہ ترین

قیدیوں کی ابتر حالت پر صحرائی فکر مند

جیل خانہ جات میں طبی سہولیات کا فقدان تشویشناک

23 جولائی 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے رُکن خالد حسین یاری پورہ کولگام کی گرفتاری اور سینٹرل جیل میں قید سجاد احمد بٹ ولد حاجی غلام حسن بٹ ناگم چاڈورہ کی دوران اسیری بُری طرح صحت بگڑنے پر تشویش کا اظہار کیاہے ۔ صحرائی نے کہا کہ خالد حسین ایک سیاسی ورکر ہے، اس کی سرگرمیاں کسی بھی طور مجرمانہ یا غیر قانونی نہیں ہیں، لیکن جموں کشمیر جیسی فوجی چھاؤنی میں انسانی ضمیر اور آزادی پر جبر کا شکنجہ کسا گیا ہے اور ضمیر کے مطابق کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خالد حسین کو کل پولیس نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر بند رکھا ہے۔ اُن کے گھروالوں کو بھی ان سے ملنے کی اجازت دی گئی، نہ ہی اُن کو یہ بتایا گیا کہ خالد حسین کو کہاں قید کیا گیا ہے۔ صحرائی نے سینٹرل جیل میں بند سجاد احمد بٹ کی بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور جیل اتھارٹی موصوف کے علاج ومعالجہ میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ سجاد احمد بٹ گزشتہ 3برسوں سے جیل میں بند ہیں اس دوران اُن کے کان میں شدید درد پیدا ہوا۔ انتظامیہ اور جیل اتھارٹی نے مناسب علاج ومعالجہ وقت پر فراہم نہیں کیا جس وجہ سے موصوف کے کان میں درد کی شدّت بڑھ گئی اور ڈاکٹروں نے اُن کے کان کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوئے آپریشن تجویز کیا، مگر جیل انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اب اُن کے کان میں مہلک بیماری پیدا ہوئی اور بار بار اصرار کے بعد پولیس کنٹرول روم نے اُن کے کان کے آپریشن کے لئے 13؍جولائی کی تاریخ مقرر کی تھی، مگر پھر انتظامیہ نے 13؍جولائی کی ہڑتال کا بہانہ بناکر آپریشن کو ٹال دیا جس کی وجہ سے اُن کا آپریشن نہ ہوسکا۔ لواحقین کے مطابق پولیس کنٹرول روم نے آپریشن کے لیے دوسری تاریخ مقرر کی، مگر جیل انتظامیہ نے سجاد احمد راتھر کو 3بجے پولیس کنٹرول روم کے اسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے کہا کہ آپریشن کے لیے صبح 9بجے کا ٹائم ہوتا ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جیل انتظامیہ وقت پر گارڈ فراہم نہ کرکے ایک انسانی جان کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔ صحرائی  نے کہا کہ انسانی جان کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے لیے بہانے تلاش کرنا قانونی، اخلاقی اور سیاسی جرم ہے۔ صحرائی نے جیل حکام اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ سجاد احمد بٹ کی زندگی خطرے میں ہے، لہٰذا انہیں آپریشن کروانے میں دیر نہیں کی جانی چاہیے۔ علاج ومعالجے سے مستفید ہونا ایک قیدی کا بنیادی حق ہے جس سے اس کو محروم کرنا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔