تازہ ترین

ہوئی مدت کہ غالبؔ مرگیا پر یاد آتا ہے

تاثرات

23 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سید آصف ملی ندوی
گزشتہ  دنوں یہ عاجز دہلی کے سفر کے دوران کے سب سے بڑے شاعر غالب ؔکے مزار پر پہنچا ۔ نجم الدولہ دبیرالملک نظام جنگ نواب مرزا نوشہ اسداللہ خان غالبؔ جو اپنے شاعرانہ کمال،مخصوص اسلوبِ نگارش اور خوبصورت نثرنگاری کے سبب ہر طبقہ میں مقبول تھا آج بھی مقبولیت کے نصف النہار پر ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ حسنِ عقیدت ونیازمندی کے جذبات میں جب مزار غالبؔ کو دیکھ کر بڑی  تکلیف ہوئی کہ اردو کے اس عظیم شاعر کے مر قد کا حال بالکل اردو ہی کی طرح ہے کہ یہ ارباب ِاقتدار کی بے اعتنائی سے بڑھ کر خود اُردو کو مادری زبان کہنے والوں کی بے رُخی وبے وفائی کا شکار ہے ۔ مزار غالب کی عمارت کے بیرونی حصہ کو چادر فروشوں ، گُل فروشوں اور بریانی و نان والوں نے مکمل طور گھیر رکھا ہے ۔ عمارت کے سامنے پہنچ کر بھی ایک نووارد کو مزار کا پتہ لوگوں سے دریافت کرنا پڑتا ہے کہ مزارِ غالب کہاں ہے ؟ مزار کی اس ویرانی اور اپنوں ہی کی اس ستم رانی کو دیکھ کر زبان پر بے ساختہ غالبؔ ہی کا یہ شعر آگیا    ؎
ہوئے مرکے ہم جو رُسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا ، نہ کہیں مزار ہوتا
 یوں محسوس ہوا گویا غالبؔ کو اپنی قید حیات ہی میںاپنے مزار کی پس از مرگ زبوں حالی اور تُربت کی ویرانی کا ادراک ہوگیا تھا اور اسی کی پیش بینی پر غالبؔ کی یہ نوحہ خوانی دلالت کر تی ہے۔ بہرحال حیرت و تکلیف کے ملے جلے کیفیات کے ساتھ غالب کا یہ شعر پڑھ کر احاطۂ مزار کا بہ چشم حسرت نظارہ کر تا رہا   ؎ 
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے 
یقیناً مرزا غالبؔ اردو و فارسی زبان کا ایک گنج گراں مایہ تھے ، وہ ایک ایسے باکمال ہمہ رنگ ہمہ پہلو سخن ور تھے جن کی شاعری میں ظرافت و بذلہ سنجی، عشق و محبت، مے و مے خانہ، تصوف و ارادت، مدح سرائی و قصیدہ خوانی کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ خیالات اور ندرتِ افکار کی پر جوش لہریں بھی ٹھاٹھیں مارتی ہوئیں نظر آتی ہیں۔
احاطۂ مزارِ غالبؔ میں غالبؔ کے مرقد کے علاوہ اور بھی متعدد قبریں موجود ہیں، ان میں کون مدفون ہیں ،یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ معروف مورخ و انشاء پرداز مولانا غلام رسول مہرؔ نے غالبؔ کی سوانح حیات پر مشتمل اپنی تصنیف ’’غالبؔ‘‘میں مزارِ غالب کی زندگی اور ادبی مرتبے پر اچھی خاصی روشنی ڈالی ہے ۔ وہ تحریر فرماتے ہیں ’’غالب جس احاطہ میں مدفون ہیں، اس میں کم و بیش چوبیس قبریں ہیں ، احاطہ کے اردگرد قریباً پانچ فٹ اونچی دیوار ہے ۔ تمام قبروں کے متعلق ٹھیک ٹھاک نہیں کہا جاسکتاکہ یہ کس کس کی ہیں لیکن اتنا یقینی طور پر معلوم ہے کہ غالبؔ کے علاوہ اس احاطہ میں نواب الٰہی بخش خاں معروفؔ، مرزا علی بخش خان رنجورؔ، نواب زین العابدین خاں عارفؔ، مرزا باقر علی خاں کاملؔ اور بیگم صاحبہ غالبؔ بھی دفن ہیں۔ بقیہ قبریں بھی یقیناً اسی خاندان کے افراد کی ہوں گی‘‘۔ غالبؔ کی قبر پر جو لوح نصب ہے اس پر غالب مرحوم کے شاگرد خاص میر مہدی مجروحؔ کا درج ذیل قطعۂ تاریخ کندہ ہے    ؎
کل میں غم و اندوہ میں باخاطرِ محزوں
تھا تربت ِاُستاد پہ بیٹھا ہوا غم ناک
دیکھا جو مجھے فکر میں تاریخ کے مجروحؔ
ہاتف نے کہا ’’گنجِ معانی ہے تہِ خاک‘‘
