تازہ ترین

عرب بہاریہ کی نئی دستک ؟۔۔۔ قسط 2

انقلابِ دہر کی ہر ہر لہر میں اضطراب

23 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مسعود ابدالی
تاہم   اس منافقانہ خیر سگالی کے ساتھ مغرب نے خلیجی ریاستوں کو عرب اسپرنگ کے استیصال کے لیے عملی اقدامات سجھانے شروع کردئے۔ تیونس کے حوالے سے زیادہ پریشانی نہ تھی کہ یہ شمالی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جہاں کے آئین میں سیکولرازم کو ناقابلِ ترمیم تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم مصر، شام اور لیبیا کا معاملہ بے حد اہم تھا۔ مصر عرب دنیا کا سب سے بڑا اور تعلیم یافتہ ملک ہے جس کے عرب دنیا اور اس سے باہر بھی گہرے اثرات ہیں۔ مصر اسرائیل کا پڑوسی ہے اور نہر سوئز بحرروم سے بحراحمر کے ذریعے عرب دنیا اور ایشیا سے رابطے کا تیز ترین راستہ ہے۔ مصری’’ اخوان المسلمون‘‘ عرب دنیا کی مادرِ تحریک اسلامی ہےاور اس کی فکر و حکمت کی چھاپ ساری عرب دنیا پر نظر آتی ہے۔
مصر میں سب سے پہلے آئینی ہتھکنڈے استعمال ہوئے۔ سینیٹ کو افتتاحی اجلاس سے پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا گیا۔ ممتاز مغرب نواز سائنس دان ڈاکٹر محمد البرادعی نے مسیحیوں کے ساتھ مل کر آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور استدعا کی کہ مذہب کی بنیاد پرقائم سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جائے۔ اسی دوران ملک کی سیکولر جماعتوں نے’ ’تمرد‘‘ ( بغاوت) کے عنوان سے تحریک شروع کی، جس کا ہراول دستہ سلفی خیالات کی حامل شاہان ِسعودیہ کی وظیفہ خوار ’’ النور ‘‘پارٹی تھی۔ گویا درہم و ریال نے ’’توحید ‘‘ فروش ملائوں کے ضمیر بھی خرید لئے۔ دلچسپ بات یا ستم ظریفی کہ شب خون سے دوماہ پہلے جب حزبِ اختلاف کے وفد نے فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی سے مداخلت کی درخواست کی تو جنرل صاحب نے فرمایا ’’فوج ایک آگ ہے، اس سے مت کھیلو، اگر ایک بار یہ اپنی بیرکوں سے باہر آگئی تو پھر (جمہوری) مصر کو کم از کم 30 سال کے لیے بھول جائو‘‘۔ لیکن ’’النور‘‘ اور ’’ جمہوریت کے چیمپٔن‘‘ ڈاکٹر البرادعی مارشل لا پر اصرار کرتے رہے، اور آخرکار مصر سے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی۔مصرسے نمٹنے کے بعد شام میں خلیجیوں کو بہت زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی کہ مغرب نواز’’ کارِ خیر‘‘ میں ایران بھی دامے، درمے، قدمے، سخنے شریک تھا اور کچھ اسی قسم کا فارمولا یمن میں بھی کامیابی کے ساتھ استعمال ہوا۔
برسوں کی خانہ جنگی کے بعد لیبیا میں امن کی اُمید پیدا ہوئی اور گزشتہ سال کے آغاز پر تیل کی پیداوار میں استحکام کے ساتھ ہی معاملات میں بہتری ظاہر ہوئی۔ انتخابات کی تیاری بھی شروع ہوئی کہ متحدہ عرب امارات اور جنرل السیسی نے جنرل خلیفہ بالقاسم حفتر کی شکل میں ایک نیا بُت تراش دیا۔ جنرل حفتر کرنل قذافی کا حامی تھا اور اس کا اقتدار کو بچانے کے لیے عام لوگوں پر ٹینک چڑھاتا رہا۔ قذافی کی موت کے بعد وہ فرار ہوکر امریکہ چلاگیا، اور وہاں کئی برس رہ کر امریکی شہریت حاصل کرلی۔ 2016ء میں لیبیا واپس آکر ح جنرل فتر ملیشیا کے نام سے کارروائی شروع کی۔ حفتر ملیشیا کا نشانہ اخوان المسلمون سے وابستہ افراد، تیل کی پائپ لائن اور دوسری تنصیبات ہیں۔ جنرل حفتر کے سپاہیوں کو اسلحہ متحدہ عرب امارات اور تربیت مصر دے رہا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنرل صاحب کو امریکہ بہادر کی آشیرواد بھی حاصل ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران حفتر ملیشیا کی کارروائیوں سے لیبیا میں تیل کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی اور استحکام کی ساری اُمیدیں دم توڑ گئیں۔اب تک کی صورتِ حال کا تجزیہ کیا جائے تو عرب اسپرنگ ایک ناکام بغاوت اور خوف ناک خواب محسوس ہوتی ہےکہ اس نے مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیل دیا۔ شام، لیبیا اور یمن کھنڈر بن گئے۔ لبنان بھی اس جنگ سے جزوی طور پر متاثر ہوا۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک شکل اختیار کرگئی۔ شام، لیبیا اور مصر میں اخوان المسلمون کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی صفِ اوّل کی قیادت میدان سے ہٹادی گئی۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ سماجی خدمات کے نیٹ ورک کو بھی ظالموں نے تہس نہس کردیا۔
یہ تو تھا تصویر کا ایک پہلو۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے الجزائر اور سوڈان میں بے چینی کی لہر کو مغرب کے سیاسی تجزیہ نگار عرب اسپرنگ کا دوسرا ایڈیشن قرار دے رہے ہیں۔ مشہور تجزیہ نگار David Hearts نے لندن میں ایک نجی مرکزِدانش میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2010ء کے اختتام پر طلوع ہونے والی عرب اسپرنگ بظاہر ناکام نظر آرہی ہے، لیکن عرب ملکوں کی سیاست پر اس کے اثرات اب بھی بہت گہرے ہیں۔ انہوں نے الجزائر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2011ء میں الجزائر کے جمہوریت پسند طاقت کا مظاہرہ کرنے میں بری طرح ناکام رہے، لیکن گزشتہ برس کے اختتام سے وہاں ایک منظم تحریک کے آثار بہت نمایاں ہیں اور نعروں سمیت تحریک کے خدوخال سے ایسا لگتا ہے کہ یہ عرب اسپرنگ کا نہ صرف تسلسل ہے بلکہ اس بار جوش پر ہوش غالب لگ رہا ہے۔ پُرامن احتجاج کے نتیجے میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے 28 سالہ اقتدار کا خاتمہ ایک مثبت پیش قدمی ہے۔کچھ ایسی ہی صورتِ حال سوڈان میں ہے، جہاں کی صورتِ حال میں تیونس سے بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ تیونس میں 28 سالہ چھابڑی فروش کی خودسوزی نے عظیم الشان تحریک کو جنم دیا، جب کہ سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں 28 سالہ بے روزگار انجینئر عباس فرح کے سر پر لگنے والی گولی نے تحریک کے لیے مہمیز کا کام دیا۔ تیونس کا ابوعزیز ناخواندہ تھا جب کہ سوڈانی عباس سوشل میڈیا پر بے حد سرگرم تھا۔ اس کی فیس بک پوسٹیںسوڈانی نوجوانوں میں بہت مشہور تھیں۔ اپنی شہادت سے چند لمحے پہلے اس نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’اللہ کے عطا کردہ حقوق کے حصول کی جدوجہد میں بہنے والا لہو انمول ہوتا ہے‘‘۔ یہ جملہ سوڈانی نوجوانوں کا نعرہ بن چکا ہے۔ ڈیوڈ ہرٹس کا خیال ہے کہ سوڈان میں ہونے والی جدوجہد بھی عرب اسپرنگ کی تجدید نظر آرہی ہے۔
اسی کے ساتھ صدر مرسی کے بہیمانہ زیر حراست قتل پر الجزائر، تیونس، کویت، اردن، حتیٰ کہ بحرین میں جو مظاہرے ہوئے اُن سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ عرب اسپرنگ کی راکھ میں اب بھی کچھ ایسی چنگاریاں موجود ہیں جن کے شعلۂ جوالہ بن جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ڈیوڈ ہرٹس کا کہنا ہے کہ الجزائر اور سوڈان دونوں جگہ فوج کا رویہ دوسرے عرب ملکوں کی فوج سے بہت مختلف ہے، اور خرطوم کے ایک خون ریز واقعے کے بعد سے قتل ِعام کاکوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان ممالک میں مظاہرین کی قیادت کرنے والے بہت احتیاط سے کام لے رہے ہیں، یعنی ’’ڈرو مت، لیکن لڑو مت‘‘ کے نتیجے میں فوج کے طالع آزمائوں کو طاقت کے استعمال کا موقع نہیں دیا جارہا۔ اسی صبر وحکمت کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے سوڈانی فوج اور مظاہرین میں شرکتِ اقتدار کا فارمولا طے پاچکا ہے۔دوسری طرف عرب ملوک و شیوخ بھی غافل نہیں۔ او آئی سی کی حال ہی میں ہوئی سربراہ کانفرنس میں بھی الجزائر اور سوڈان کی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سعودی ولی عہد بن سلمان، اس کے اماراتی ہم منصب شہزادہ محمد بن زید، اور مصر کے جنرل السیسی تینوں کا خیال تھا کہ اگر الجزائر اور سوڈان کی صورتِ حال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو عرب اسپرنگ کی طرح ’’بدامنی ‘‘کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے، جس سے سارا مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ خلیجیوں کو یہ ڈر بھی ہے کہ کہیں ایران ان ملکوں میں بھی مداخلت نہ شروع کردے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ’’بغاوت‘‘ کچلنے کے لیے سوڈان کو 3 ارب ڈالر دینے کا وعدہ بھی کیا ہے، جو مبینہ طور پر سوڈانی فوج کی کارکردگی سے مشروط ہے۔
جنرل السیسی کو ایک اور پریشانی صدر مرسی کی وفات پر خاموش ردعمل سے ہے۔ کرفیو جیسے پہرے کی بنا پر مصری حکومت محمد مرسی کے جنازے کو حکومت مخالف عوامی اجتماع بننے سے روکنے میں یقیناً کامیاب رہی، لیکن اب شہید مرسی کی رہائش پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آرہا، اور ایک اندازے کے مطابق ہر روز 10 ہزار کے قریب سوگوار اُن کے گھر حاضری دے رہے ہیں۔ فوج نے ڈاکٹر صاحب کی قبر پر کوئی نشانی یا کتبہ نہیں لگانے دیا، لیکن لوگ قیاس اور اندازے سے اُن کی قبر پرجاکر فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔ اب خبرگرم ہے کہ حکومت سڑک بنانے کے بہانے قبرستان پر بلڈوزر پھیرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ مغربی تجزیہ نگاروں کے خیال میں مرسی کی شہادت کے بعد پیش آنے والے واقعات سے اخوان المسلمون کے ختم ہوجانے کا مفروضہ غلط ثابت ہوچکا ہے۔ بلاشبہ قتل عام اور پکڑ دھکڑ نے جماعت کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کے کتب خانے، اسکول اور سماجی خدمات کے ادارے بند ہوچکے، لیکن گلی کوچوں میں اخوان کا کام اب بھی نظر آرہا ہے۔ السیسی کے لیے مزید پریشانی کی بات یہ ہے کہ اب اخوان کے ساتھ مصر کے سیکولر طبقے میں بھی بے چینی کے آثار ہیں۔ مرسی کے انتقال پر ڈاکٹر البرادعی اور جنرل احمد شفیق جیسے اخوان کے بدترین مخالفین نے بھی تعزیت کے رسمی ٹوئٹ جاری کیے جن میں ڈاکٹر مرسی کی موت کو قتل قرار دیا گیا۔
فی الحال یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ الجزائر وسوڈان میں عوامی بیداری اور مصر میں’ ’تعزیت مہم‘‘ مستقبل قریب میں کیا شکل اختیار کرے گی، لیکن مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نظر رکھنے والے امریکی  مبصرین وماپرین کا جچاتُلا خیال ہے کہ عرب اسپرنگ اب تک پوری طرح کچلی نہیں جاسکی، اور یہ عناصر دوبارہ منظم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے بحرین میں ہونے والی فلسطین امن کانفرنس کی سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے مکمل و غیر مشروط حمایت کے علی الرغم حماس اور پی ایل او کے مشترکہ بائیکاٹ سے بھی بدلتے عوامی تیور کا پتہ چلتا ہے۔ 