تازہ ترین

’ولر کنزرویشن اینڈ مانیٹرنگ اتھارٹی‘ سے جواب طلبی کون کرے؟ | جھیل ولر کروڑپتی بننے کیلئے سب سے بڑی سونے کی کان ثابت

مجموعی ترقی کیلئے 60کروڑ،20لاکھ درختوں کو کاٹنے کیلئے120کروڑ، ڈریجنگ اورملبہ ہٹانے کیلئے200کروڑ واگذار

22 جولائی 2019 (26 : 12 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //مرکزی سرکار کی جانب سے کروڑوں روپے کا بجٹ مختص کرنے کے باوجود بھی’ولر کنزرویشن اینڈ مانیٹرنگ اتھارٹی‘ مکمل طور ناکام ہو چکی ہے۔کاغذات میں کروڑوں روپے صرف کئے گئے لیکن عملی طور پر کہیں کچھ بدلا نہیں۔ولر اب بھی اپنی ویرانی پر رو رہا ہے، کہاں روپے خرچ کئے گئے، کس کو فائدہ دیا گیا، کہاں ناجائز تعمیرات منہدم کی گئیں،کہاں ڈریجنگ کی گئی، کس مد میں کتنے پیسے نکالے گئے ، کسی کو کچھ نہیں معلوم ہے۔بس مفت مال کو لوٹا گیا جس نے جس طرح چاہا۔13 ویںمالی کمیشن کے تحت مرکزی حکومت کی طرف سے جھیل ولر کیلئے60 کروڑ روپے دستیاب کئے گئے جن میں سے اب تک45.94 کروڑ روپے صرف کئے جاچکے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ مرکزی سرکار نے حال ہی میں اتھارٹی کیلئے 2سو کروڑ کی اضافی رقم بھی منظور کی،یہ رقم ولر میں درختوں کو کاٹنے اور دلر میں ڈریجنگ کے بعد ملبہ ہٹانے کی مد پر خرچ کرنے ہیں لیکن نہ کہیں ملبہ ہٹایا گیا نہ کہیں درخت کاٹے گئے۔حالانکہ ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جھیل ولر میں اس سال3لاکھ درختوں کاٹنے کو منظوری دی چکی ہے ۔ 1990میں رامسر کنونشن کے تحت ولر کو بین الاقوامی اہمیت کی حامل جھیل قرار دیا گیا تھاجس کے بعد سرکار نے (WUCMA) نامی ایک اتھارٹی قائم کی تاکہ اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اس کو واپس اُسی شکل صورت میں لایا جا ئے جو کئی برس قبل اسکی تھی۔لیکن اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی ولر کی زمینی صورتحال کچھ اور ہی بیان کر رہی ہے ۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ ریاستی سرکار نے جموں وکشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ 1970کے تحت (WUCMA) کو سال2012میں ایس آر او زیر نمبر 311 & 314  کے تحت اس لئے تشکیل دیا تھا تاکہ اس کا تحفظ ممکن بن سکے۔ مالی سال2011.12میں اتھارٹی کو ولر کا کام سونپا گیااوراس دوران مرکزی سرکار نے364 کروڑ روپے منظور بھی کئے ، تاہم 7 سال سے اس کا کام سست رفتاری کا شکار ہے اورجھیل ولر اپنی تباہی کا منظر خود بیان کر رہی ہے ۔جہاں ولر ایک جنگل بن چکی ہے وہیں اس پر غیر قانونی تعمیرات بھی کھڑا ہیں اور اُن کو ہٹانے کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں ۔کشمیر یونیورسٹی میں ماہر ارضیات کے سربراہ شکیل رومشو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال2014میں آنے ولے تباہ کن سیلاب کی سب سے بڑی وجہ ولر کی تباہی ہے کیونکہ ولر میں پانی جمع رکھنے کی صلاحیت  نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔شکیل رومشو نے کہا کہ تازہ رپورٹ کے مطابق جنگلات وماحولیات کی مرکزی وزات کی ہدایت پر ولر سے 20لاکھ درختوں کو کاٹنا تھا جس کیلئے جنگلات وماحولیات کی مرکزی وزارت کی طرف سے دی گئی ہدایت کے بعد پہلے مرحلے کے تحت کچھ ایک درختوں کو کاٹا گیا اور اس کیلئے 120کروڑ کے قریب پیسہ دیا گیا ۔تاہم ولر سے درختوں کو کاٹنے کے حوالے سے کوئی کارروائی ہی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے اور نہ ہی اس پیمانے پر اس کی ڈریجنگ ہو رہی ہے جس کی اُمید تھی ۔ماحولیات پر کام کرنے والے ایک سماجی کارکن اور فیچر فورم انٹرنیشنل کے چیئرمین عمر بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس کی خوبصورتی کو بحال کرنے کے حوالے سے جو فنڈس مرکزی سرکار کی طرف سے دئے جاتے ہیں وہ صرف کاغذات میں دکھائی دیتے ہیں اور عملی طور پر کوئی کام نہیں ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جھیل میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات ہیں اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس کا تحفظ تب تک ممکن نہیں بن سکتا جب تک نہ اس پر کام کرنے والی تعمیراتی ایجنسیوں کی نکیل کسی جائے اور افسران کو جواب دہ بنایا جائے گا ۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ شہباز مرزا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 2سو کروڑ روپے ڈریجنگ پر خرچ کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے  اس بات کا اعتراف کیا کہ پچھلے کچھ وقت سے ڈریجنگ کا کام رُکا پڑا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ولر کے آس پاس پارکوں کی تعمیر کیلئے مرکزی سرکار کو ایک پروجیکٹ رپورٹ روانہ کی گئی ہے اور جیسے ہی پیسا منظور ہو گا اس پر بھی کام شروع کیا جائے گا ۔ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر ظہور احمد میر نے کہا ہے کہ انتظامیہ متاثرین کیلئے بھی ایک پلان بنانے جا رہی ہے جس کے تحت انہیں معاوضہ بھی فراہم کیا جائے گا۔