تازہ ترین

سرکاری اعزاز کے ساتھ شیلا دکشت کی آخری رسومات ادا کی گئیں

22 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی//دارالحکومت نئی دہلی کے نگم گھاٹ پر کانگریس کے مختلف رہنماؤں کی موجودگی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کی آخری رسومات اد کی گئیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ بھی انھیں الوداع کہنے کے لیے نگم گھاٹ پر موجود تھے۔قبل ازیں محترمہ دیکشت کی لاش کو حضرت نظام الدین میں واقع ان کی رہائش سے کانگریس کے ہیڈکوارٹر لایا گیا جہاں مختلف سیاسی پارٹیوں کے اہم لیڈران نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔81برس کی محترمہ دیکشت لمبے وقت سے علیل تھیں۔ انھیں دل کا دورہ پڑنے کے بعد نازک حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے ہفتے کے روز دوپہر دو بجکر 55 منٹ پر آخری سانس لی۔ وہ 1998سے 2013 تک مسلسل تین بار دہلی کی وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں۔  سابق وزیر اعلیٰ دیکشت کے آخری دیدار کے لیے ان کی لاش کو اتوار کی صبح حضرت نظام الدین میں واقع ان کی رہائش گاہ پر لایا گیا تھا جہاں بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی، سابق وزیر خارجہ سشما سوراج سمیت کئی معزز افراد نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد االلہ بھی ان کے آخری دیدار کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے ۔ بعدازاں ان کی لاش کانگریس کے ہیڈکوارٹر لائی گئی جہاں ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) کی صدرسونیا گاندھی ،ان کی بیٹی اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے کئی بڑے رہنماؤں نے انھیں خراج عقیدت پیش کی۔سونیا گاندھی نے کہا،‘ شیلا دیکشت میرا بہت بڑا سہارا تھیں۔وہ بالکل میری بڑی بہن اور دوست جیسی بن گئی تھیں۔ کانگریس کے لیے یہ بڑا نقصان ہے ۔ وہ مجھے ہمیشہ یاد آئیں گی’۔
 

شیلا دکشت نے دہلی میں جویادگار ترقیاتی کام کرائے ہیں 

وہ سنہرے حروف میں درج کیے جائیں گے :مولانا عرفی قاسمی

نئی دہلی//دہلی کی سابق وزیر اعلی اور کانگریس کی قد آور رہنما شیلا دیکشت کے ناگہانی انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ انھوں نے اپنی پندرہ سالہ میعاد میں بحیثیت وزیر اعلی دہلی میں جویادگار ترقیاتی کام کرائے ہیں وہ سنہرے حروف میں درج کیے جائیں گے ۔ انہوں نے آج یہاں جاری تعزیتی بیان میں کہا کہ دہلی میں کشادہ اور چمچماتی سڑکوں کا جال، چپہ چپہ میں شان دار فلائی اوورکی تعمیر، اور دہلی کے مختلف علاقوں کو مربوط کرنے کے لیے میٹرو کاطویل نیٹ ورک،یہ ان کے مثالی کارنامے ہیں اور یہ ان کے ترقیاتی کاموں میں سر فہرست رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ کانگریس کی ایک وفا دار، بے باک،دانش ور،قد آور رہ نما تھیں، جو اپنی سیاسی فعالیت کی وجہ سے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی سے لے کر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی تک یعنی پورے گاندھی پریوار کی قریبی اور چہیتی لیڈر تھیں اورمرتے دم تک انھیں سب کا اعتمادو اعتبار حاصل تھا۔ انھوں نے کہا کہ دہلی اور بیرون دہلی میں کانگریس پارٹی کو استحکام عطا کرنے اور اس کی توسیع میں شیلا دکشت کا اہم رول رہا ہے ۔مولانا قاسمی نے مسلم مسائل کے حوالے سے شیلا دکشت کی سنجیدگی اور فعالیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ملکی، وطنی اور قومی مسائل اور سلگتے ایشوز کو لے کر بے انتہا سرگرم رہتی تھیں، بلکہ اقلیتوں اورمسلمانوں کے مختلف مسائل کے حل کو لے کر بھی وہ انتہائی مخلص اور فعال واقع ہوئی تھیں،یہی وجہ ہے کہ ان سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر، جب بھی کوئی مسلمانوں کا وفد یا مسلم شخص یاکسی اسلامی تنظیم کا سربراہ ملتا تھا، تو وہ بہت سنجیدگی اور بڑے غور سے ان کے مسائل کو سنتی تھیں اور اس کے حل کے لیے بر وقت یقین دہانی کراتی تھیں۔یو این آئی
 

شیلادکشت کے انتقال پر اے ایم یو نے رنج و غم کا اظہار کیا

علی گڑھ//علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کی سینئر لیڈر شیلا دیکشت کے انتقال پررنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے تعزیتی پیغام میں وائس چانسلر نے کہا [؟]مجھے شیلا دیکشت کے اچانک انتقال پر بہت افسوس ہوا، ہماری ہمدردیاں غمزدہ کنبہ کیساتھ ہیں[؟]۔  پروفیسر منصور نے کہاکہ شیلا دیکشت ایک مقبول شخصیت کی مالک تھیں، تین باروہ دہلی کی وزیر اعلیٰ رہیں، اس دوران انھوں نے دہلی میں بہت سے ترقیاتی کام کرائے ، ان کا انتقال ملک کا عظیم خسارہ ہے ۔ یو این آئی