تازہ ترین

سیاحتی مقامات پر مقامی و بیرونی سیلانیوں کا رش

21 جولائی 2019 (29 : 11 PM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//وادی میں شدت کی گرمی اور اتوار کی چھٹی کے چلتے سیاحتی مقامات پر مقامی سیلانیوں کا بھاری رش اُمڈ آیا ہے جس کی وجہ سے کئی سیاحتی مقامات پر لوگوں کو سایہ تلے بیٹھنے کی جگہ بھی نصیب نہیں ہوئی اس دوران گلمرگ جانے والے سیلانیوں کو ٹنگمرگ میں ہی رکنا پڑا کیوں کہ آگے جانے کیلئے گاڑیوں کو جگہ ہی دستیاب نہیں ہے ۔ اتوار کی چھٹی کے پیش نظر وادی میں شدت کی گرمی سے راحت پہنچانے کیلئے مقامی لوگوں نے سیاحتی مقامات کی طرف رُخ کیا اور دن بھر سیاحتی مقامات پر قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوئے ہوتے رہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ مغل باغات نشاط ، شالیماراور ہارون کے ساتھ ساتھ بلوارڈ روڑ اور دیگر سیاحتی مقامات پر لوگوں کی کافی بھیڑ رہی جبکہ شام کے وقت ڈلگیٹ سے باٹنیکل گارڈن برائے راہ اوبرائے روڑ گاڑیوں کی قطاریں تھیں جس کے نتیجے میں یہاں گھنٹوں ٹریفک جام رہا اس کے ساتھ ساتھ فورشور روڑ سے بھی ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں مذکورہ سیاحتی مقامات کی طرف رواں دواں تھیں ۔ ادھر جنوبی کشمیر میں قائم کوکرناگ، ویری ناگ، اچھول اور دیگر جگہوں پر بھی مقامی سیلانیوں کی بھاری بھیڑ تھی جبکہ پہلگام میں اگرچہ اس وقت یاتریوں کا رش ہے مقامی سیلانیوں کی بھی بڑی تعداد وہاں پر سیر کرنے کی غرض سے گئی تھی۔ادھر وسطی ضلع بڈگام میں دودپتھری،باباریشی اور دیگر جگہوں پر بھی لوگوں کا بھاری رش تھا ۔ اس دوران شمالی کشمیر کے معروف سیاحتی مقامات گلمرگ اور ٹنگمرگ میں بھی مقامی سیلانیوں کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی ٹورسٹوں کا کافی رش تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ گلمرگ میں لوگوں کی کافی تعداد جمع ہوئی اور یہاں سیلانیوں کو کہیں پر سایہ دار جگہ نہیں ملی جہاں پر لوگ بیٹھ کر آرام کرسکتے تھے کیوں کہ یہاں پر کم سے کم دو لاکھ سیلانی موجود تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ گلمرگ سے لیکر ٹنگمرگ تک گاڑیاں قطار در قطار موجود تھیں اور ٹنگمرگ سے آگے جانے کیلئے سیلانیوں کو جگہ نہیںملی جس کے نتیجے میں سیلانیوں کو گلمرگ کی بجائے ٹنگمرگ میں ہی رکنا پڑا ۔