تازہ ترین

سنڈے تھیٹر میں نٹرنگ نے ڈرامہ ’’جرم اور سزا ‘‘ پیش کیا

22 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

جموں/ / نٹرنگ نے سنڈے تھیٹر کے سلسلہ میں اتوار کے روز یہاں نٹرنگ اسٹڈیو تھیٹر میں ایک ہندی  ڈرامہ ’’جرم اور سزا ‘‘ پیش کیا ، جسے صدام حسین منٹونے تحریر کیا ہے جبکہ اسکے ہدایت کار نیرج کانت ہیں۔ ڈرامہ میں ضمیر کی بیداری اورروح سے نیت نیتی کو موثر ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے۔ ڈرامہ کے آغاز میں ایک خاتون ’کملا ‘ کو شنکر کے سامنے لگاتار روتی ہوئی دکھائی دیا جا رہا ہے ۔ دونوں دکھی ہیں کیونکہ کملا نے وہ واقعہ پیش کیا ،جس میں’ کندن ، جس کے گھر میں وہ بطور گھریلو نوکر کام کرتی ہے، نے اسکی عصمت ریزی کی ہے۔اُس نے دھوکہ سے اسے اپنے کمرے میں مد د کے بہانے سے بلایا تھا  اور جب وہ کمرے میں داخل ہوتی ہے تو وہ اسے اُسکی عصمت ریزی کرتا ہے۔ شنکر یہ واقعہ سُننے کے بعدوہ غُصے سے پاگل ہوجاتا ہے اور اس سے بدلہ لینا چاہتا ہے اور جب وہ ’کندن ‘ کے گھر پہنچ جاتا ہے ،تو وہ گہری نیند میں ہوتا ہے ،شنکر اسے چاقو دکھا کر دھمکاتا ہے اور اسے جرم قبول کرنے کو تیار کرتا ہے اور اسے خود کشی کا ایک نوٹ تحریر کرنے پر مجبور کرتا ہے،جس کے بعد وہ اسے زہر دیتا ہے اور پورا قتل بطور ایک خود کشی واقعہ قرار دیا۔ہر ایک یہ تسلیم کرتا تھا کہ ’کندن ‘ نے خوکشی کی ہے کیونکہ وہ ایک جُرم میں مبتلا تھا ،یہاں تک کہ پولیس نے بھی خود کشی سمجھ کر معاملہ بند کیا۔ شنکر نے کملا کے سامنے جُرم قبول کیا ،جس پر وہ دکھی ہوتی ہے اور بتاتی ہے کہ جرم کا خاتمہ دوسرا جرم کرنے سے نہیں کیا جا تا ہے۔اس نے کہا کہ ’کندن ‘ کو سزا ملنی چاہیے تھی لیکناس طرح سے نہیں۔اس سے شنکر کا ضمیر بیدار ہوگیا اور اسنے پولیس کے سامنے اپنا جرم قبول کیااور سزا کو خوشی خوشی گلے لگایا ۔اس طرح سے ڈرامہ میں ضمیر کی بیداری اور روح کی نیک نیتی کو اچھی طرح سے پیش کیا گیا ہے۔اس ڈرامہ میں شوم سنگھ ، آکاش واڈھون، کرن پریت کور،اودت ساگر، موہت شرما اور سوشانت سنگھ چاڑک جیسے کلاکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ لائٹ نیرج کانت اور موسیقیسوشانت سنگھ چاڑک نے ترتیب دی تھی ۔ڈرامہ میں نظامت کے فرائج محمد یاسین نے انجام دئے ۔