تازہ ترین

رام بن کے 79عازمین حج کیلئے روانہ

جدید جامع مسجد رام بن میں دعائیہ مجلس کا انعقاد

22 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 رام بن// ضلع رام بن سے حرمین شریفین کی زیارت اور مناسک حج کی ادائیگی کے لئے سفر محمود پر تشریف لے جانے والے عازمین حج کا 79 افراد پر مشتمل پہلا قافلہ نہایت ہی شان و شوکت سے روانہ ہوا جس میں بانہال سے 50 رام بن سے 20 اور پوگل پرستان سے 9عازمین شامل تھے۔ اس موقعہ پر عازمین کے اعزاز و اکرام میں جدید جامع مسجد کی ا نتظامیہ کمیٹی نے ایک مختصر دعائیہ و استقبالیہ مجلس کا اہتمام کیاجس میں ائمہ مساجد، علماء کرام اور متعدد کمیٹیوں کے ذمہ داران ،ضلع ترقیاتی کمشنر شوکت اعجاز بٹ ، ایس ایس پی رام بن میڈم انیتا شرما ، اے ڈی ڈی سی نواب دین، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر اصغرعلی ملک،ڈی ایس پی ٹریفک سریش شرما، ایس ایچ او رام بن سنجے کوتوال کے علاوہ بڑی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت کی۔ عازمین حج سے خطاب کرتے ہوئے قاری علی حسین،مولانا نذیر احمد قاسمی، محمد شوکت مغل، مفتی اعجاز احمد قاسمی، حاجی عبد الرحمن بالی، ماسٹر محمد اقبال کٹوچ، چودھری عبد الغنی، حاجی عبد القیوم مشتاق، ایڈوکیٹ اے آر مشتاق نے مختصر فلسفۂ حج پر روشنی ڈالی اور عازمین سے کہا کہ وہ اس عظیم سفر میں صبر وشکر کا دامن نہ چھوڑیں، جس قدر اس سفر میں تواضع اور عاجزی اختیار کریں گے اسی قدر من جانب اللہ مقبولیت اور محبوبیت میں اضافہ ہوگا۔مولانا نذیر احمد قاسمی نے کہا کہ اس وقت ملک کے حالات خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں، ملک کا منظر نامہ نہایت ہی تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے، شرپسند عناصر ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کی مکمل تیاری کر چکے ہیں، جس کی واضح مثالیں ملک کے طول وعرض میں ہجومی تشدد کے وہ واقعات ہیں جن میں پہلو خان اور اخلاق سے لے کر تبریز انصاری تک سینکڑوں نوجوانوں کوسرعام قتل کردینا ہے،ان ملکی و ریاستی سطح پر رونما ہونے والے دلخراش واقعات پر ملکی و ریاستی حکومتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیںجس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ارباب اقتدارکی منشا اور مرضی کے مطابق ہورہا ہے، لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ تمام امن پسند لوگ متحد ہوکر ظلم و بربریت کے خاتمے کے لئے حقائق کو نظرانداز کئے بغیر ملک کے امن وامان اورآئین و قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لئے بھرپور کوشش کریں، کیونکہ آج قانون کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اگر اس آگ پر روک نہ لگائی گئی اور قانون کی بالادستی کو قائم نہ رہنے دیا گیا تو ملک و ریاست کے حالات سنگین سے سنگین تر ہو سکتے ہیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ ہم مسلمان ہیں ، اسلام کے ماننے والے ہیں اور اسلام اتحاد اور آپسی بھائی چارہ کا درس دیتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہم تشدد پر یقین نہیں رکھتے ہیں،اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب بھی امن و امان کو زک پہنچانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں، ہمارے اس ملک میں خواجہ معین الدین چشتی نے اپنے اخلاق و کردار سے ، ہندو ازم کے بھگوان رام نے امن و ایکتاسے اور سکھ مذہب کے رہنما گرونانک نے درس انسانیت کے ذریعہ اس ملک کے عوام کے دل جیت کر ان کے دلوں پر حکمرانی کی ہے،لیکن آج ہمیں رام کے اس بن میں ظالم و جابر روان کے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ تشدد کا راستہ ترک کرکے محبت اور بھائی چارہ کے پیغام کو عام کیا جائے کیوںکہ آگ کو آگ سے نہیں بجھایا جاسکتا ہے اور نفرتیں نفرتوں سے ختم نہیں ہوتی ہیںبلکہ نفرتوں کے ماحول میں محبتوں کے چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر مولانا نے عازمین حج سے خصوصی دعاؤں کی درخواست کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی حج کمیٹی کی جانب سے عازمین حج کے لئے معقول انتظامات نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیاخاص طور پر عازمین حج کے لئے ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کی خستہ حالی اور پیرانہ سالی کے معاملے میں ڈپٹی کمشنر سے ایسی ناکارہ اور پرانی بسوں کے انتخاب کی تحقیق کرنے کی درخواست کی۔اس دوران ڈپٹی کمشنر رام بن شوکت اعجاز بٹ ، ایس ایس پی رام بن انیتا شرمااور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران نے بھی عازمین سے ملاقات کرکے ان کی مبارکباد پیش کی۔ حاجیوں سے ملاقات کے لئے آئے ہوئے تمام لوگوں نے عازمین سے عالم اسلام کی سلامتی، ملک کے امن و امان، ریاست کی خوشحالی، ضلع کی تعمیر و ترقی، معاشرے کی اصلاح اور امت کے اتحاد و اتفاق کے لئے خصوصی دعاؤں کے لئے کہا۔ پروگرام کے اختتام پذیر ہونے سے قبل امام جدید جامع مسجد رام بن مولانا نذیر احمد نے تمام رضاکار و معاونین اور ضلعی انتظامیہ کے اعلی افسران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مشغولیات و مصروفیات کے باوجود اپنے اوقات کو فارغ کرکے عازمین حج سے عقیدت و محبت میں انہیں الوداع کرنے کے لئے تشریف لائے۔ مجلس کا اختتام مولانا گل محمد فاروقی مہتمم مدرسہ قاسم العلوم رام بن کی دعا پر ہوا۔ مجلس کی نظامت کے فرائض مولانا زبیر احمد قاسمی نے انجام دیئے جبکہ جدید جامع مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے اراکین و صدر الحاج خورشید احمد خان، بشیر احمد ملک اور محمد سلیم ڈاروغیرہ نے عازمین حج کا ضیافت کے ساتھ ساتھ ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ عازمین کی گاڑی کی روانگی کے وقت عاشقان نبی اپنی اپنی جانب سے پرنم آنکھوں کے ساتھ جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے، نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اور عازمین و زائرین سے روضۂ اقدس پر صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کی درخواست کر رہے تھے اس روحانی منظر کو دیکھ کر کئی لوگوں کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔