تازہ ترین

اننت ناگ میں ڈاکٹروں کی مبینہ لاپرواہی سے خاتون کی موت

لواحقین کا اسپتال انتظامیہ کےخلاف احتجاج

21 جولائی 2019 (29 : 11 PM)   
(      )

عارف بلوچ
اننت ناگ//اننت ناگ میں ڈاکٹروں کی مبینہ لاپرواہی سے ایک خاتون کی موت واقع ہوئی ہے ،لواحقین نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔کشمیر عظمٰی سے بات کرتے ہوئے مہلوک خاتون کے رشتہ داروں نے بتایا کہ 30سالہ شازیہ جان ساکنہ شمسی پورہ اننت ناگ کو رواں مہینے کی 17تاریخ کو زچہ بچہ اسپتال اننت ناگ میں علاج معالجہ کے لئے منتقل کیا گیا ،اس بیچ 18تاریخ کو خاتون کا آپریشن عمل میں لایا گیا جس دوران اُنہوں نے بچہ کو جنم دیا ،تاہم آپریشن کے محض چند گھنٹوں بعد خاتون کی حالت اچانگ بگڑ گئی جس کے بعد ڈاکڑوں نے اُس سے سرینگر منتقل کیا تاہم وہ موت کی آغوش میں چلی گئی ۔اُنہوں نے ڈاکٹروںپر الزام عائد کیا کہ خاتون کی موت اننت ناگ میں ہی ہوئی تھی تاہم ہمیں گمراہ کرنے کے لئے سرینگر کا ڈرامہ رچایا گیا ۔اُنہوں نے بتایا کہ خاتون کا آپریشن بہتر ڈھنگ سے نہیں ہوپایا تھا جس کے سبب خاتون کے جسم میں زہر پھیل گیا اور وہ انتقال کر گئی ۔اس بیچ مہلوک کے رشتہ داروں و دیگر افراد نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی اور الزام عائد کیا کہ اسپتال بد انتظامی کا شکار ہوا ہے جس کے سبب رواں مہینے کے اند ر 2خواتین فوت ہوئیں ،اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ اسپتال رشوت ستانی کا اڈہ بن چکا ہے ۔میڈیکل سپرینڈنٹ ڈاکٹر ذاگو کا کہنا ہے کہ مریض کا آپر یشن ہونے کے بعد بلڈ پریشر اچانک(بقیہ صفحہ8پر، احتجاج)
 بڑھ گیا جس کے سبب مریض کو لل دید اسپتال منتقل کرنا پڑا تاہم وہ انتقال کر گیئں ،اُنہوں نے بتایا کہ معاملہ کے حوالے سے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور اگر کوئی بھی اسٹاف ممبر واقع میں ملوث پایا گیا تو اُس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائی گئی۔ بڑھ گیا جس کے سبب مریض کو لل دید اسپتال منتقل کرنا پڑا تاہم وہ انتقال کر گیئں ،اُنہوں نے بتایا کہ معاملہ کے حوالے سے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور اگر کوئی بھی اسٹاف ممبر واقع میں ملوث پایا گیا تو اُس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائی گئی۔