تازہ ترین

اپنا بچاؤ کیجئے اپنوں کے ساتھ ساتھ

21 جولائی 2019 (05 : 11 PM)   
(      )

مولانا سید آصف ملی ندوی
جب  سے ہمارا یہ پیارا ملک بھارت انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا ، اُس وقت سے لے کرآج تک ملک میں فتنوں اور فرقہ وارانہ فسادات کا ایک سلسلہ بلا روک ٹوک چلا آرہا ہے جن میں ہمیشہ ہمیش اقلیتوں اوربالخصوص مسلمانوں ہی کا بے انتہاجانی و مالی نقصان ہوا۔ جب سے بھاجپا حکومت مر کز میںدوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آ ئی ہے ، اُس وقت سے ملک میں فرقہ پرست عناصر کی جانب سے ماب لنچنگ اور ہجومی تشدد کے جو الم انگیز واقعات متواتر رونما ہورہے ہیں، وہ اتنے سنگین اور جاں گسل ہیں کہ ان کے سامنے ایسے پچھلے تمام واقعات اور فتنے ہیچ نظر آتے ہیں۔ یہ وہ درد ناک واقعات ہیں جن کی وجہ سے وطن عزیز بھارت کی اس وقت دنیا بھر میں خجالت ہورہی ہے ۔ یوروپین اقوام اور مغربی ممالک کے سنجیدہ افراد ان غیر انسانی وحشیانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سڑکوں پر اُتر کر احتجاج بھی کر رہے ہیں ۔ دراصل وطن عزیز بھارت میں ایک فسطائی ٹولہ ملک کی آزادی سے لے کر آج تک صرف اسی قسم کے وحشیانہ منصوبوں میں لگا  ہواہے کہ کس طرح اس پیارے دیش میں ہندومسلم فسادات کرواکر اپنا اُلو سیدھا کیا جائے۔ اسی خواب کو شرمندۂ تعبیرکرنے کے لئے ا ن ا نسان دشمن عناصر کی معاندانہ سرگرمیاں اور حرکتیں دیش کے مسلمانوں کے لئے نت نئے مصائب کی موجب بنتی رہی ہیں۔ فسطائیوں کی ان فتنہ پردازیوں نے مسلمانوں کو کبھی چین سے رہنے نہیں دیا اور وہ اب آئے دن طرح طرح سے مسلم اقلیت کو مار رہے ہیں ، ڈرا رہے ہیں ، ستا رہے ہیں۔  
عجیب بوالعجبی کاعالم یہ ہے کہ جہاں ایک طرف مودی حکومت ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس و وشواس‘‘ اور ترقی کا نعرہ بلند کرتی ہے ، وہیں دوسری طرف حزب اقتدار سے وابستہ طاقت ور لوگ تعمیرو ترقی ،امن وبھائی چارے کی راہیں مسدود کر تے ہوئے کچھ اس انداز میںاپنے مذموم عزائم کو عمل کا جامہ پہنا ر ہے ہیں جن سے جمہوریت ، سیکولرازم، مساوات، رواداری اور دستور و آئین کی دھجیاں اڑتی ہیں۔  نتیجہ یہ کہ کہیں گائے کی حفاظت کے نام پرانسان نما درندے وحشی جانور بنتے جارہے ہیں اور کہیں بے بنیاد او رمن گھڑت باتوں کا بہانہ بناکر مسلم نوجوانوں ، بوڑھوں اور معصوم بچوں تک کے خون سے ہولی کھیلنا صبح و شام کا تماشہ بن چکا ہے ۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جب بات خونِ مسلم کی ہوتی ہے تو عوام تو عوام، خود وردی پوش سرکاری محافظ بھی تماشائیوں سے بڑھ کر تماشائی بن جاتے ہیں    ؎ 
سبھی کچھ ہورہا ہے اس ترقی کے زمانے میں
مگر یہ کیا غضب ہے آدمی انساں نہیں ہوتا
   ملک میں مسلم بیزارگھٹا ٹوپ اندھیرے کے باوجودیقیناً ایک نہ ایک دن حالات بدل سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی آج سے زیادہ سخت اور جاںگسل حالات میں اللہ رب العزت نے محیر العقول کرشمے دکھائے ہیں،مختصر تعداد کے حامل نہتے اور کمزور مسلمانوں کا وقت کے بڑے بڑے سپر پاور سلطنت روما اور ایرانی شہنشاہیت کے غرور کو خاک میں ملادینا، درندہ صفت وحشی تاتاریوں کا( جنہوں نے ۱۸؍ لاکھ مسلمانوں کے خون سے اپنی خوں آشام شمشیروں کی پیاس بجھائی تھیں) دیکھتے ہی دیکھتے سوفیصد اسلام کے سایۂ عاطفت میں داخل ہوجانا، ابرہہ کے لشکر جرار کو پیوند خاک کردیا جانا، فرعون اور اس کے لشکر کو غرقآب کردینا۔ یہ سب اللہ کے معجزات ہیں اور تاریخ کے استثنائی واقعات ہیں ، مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا نہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو دارالاسباب بنایا ہے ، لہٰذا ہمیں قدرت کے معجزات کا انتظار کئے بنا اور تقدیر کی لکیروںپر تکیہ کئے بغیر ان حالات کے تدارک اور ان کے سد باب کے لئے پُرامن اور انسانیت کی ہم نوا تدابیر اختیار کرنی ہوگی۔ 
ان ناگفتہ بہ حالات میںہم مسلمانانِ بھارت کا اپنی ناراضگی اور غم و غصہ کا اظہار محض نعرے بازیوں، احتجاجی مظاہروں اور چند میمورنڈم دے کر کرناہماری بزدلی اور بے بسی کو آشکار کرتا ہے ، ہمیں چاہئے کہ ہم دستورِ ہند میں شہریوں کے لئے جائز قرار دی گئی شخصی آزادیوں میں پنہاں تدابیر اختیار کریں، دستورہند کے ذریعہ فراہم کردہ اپنے بنیادی حقوق سے واقفیت حاصل کریں، اپنے بچاؤ میں  خاک بازی کا سبق پڑ ھنے پڑھانے کی بجائے ہمیں متحد ومنظم ہوکراُس ہندو اکثریت کی حمایت حاصل کر نے کی موثر کوششیں کرنی چاہیے جو امن پسند ہیں ، بھائی چارے کے حامی ہیں ، جمہوریت نواز ہیں ، سیکولرازم کے دلدادے ہیں ۔ بہر حال اب وقت آگیا ہے کہ ہم حالات کی نزاکت بلکہ سنگینی کو سمجھیںاور اس صورت حال کا ڈٹ کر مقابلہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے خود کو تیار کریں اور یاد رکھیں کہ موت کو سامنے دیکھ کر بے موت مرجانا سب سے بڑی بزدلی ہے ۔ مصائب میں گھِر کر پریشاں خاطر ہونے کی بجائے ہمیں دشمن کاڈٹ کر  مقابلہ کرنا چاہئے۔ علامہ اقبال مرحوم نے ’’پیام مشرق‘‘ میں ایک کہانی لکھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک ہرن نے دوسرے ہرن سے کہا کہ میں شکاریوں کے تعاقب اور ان کی چالوں سے گھبراگیا ہوں ، ہر لمحہ یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کب کوئی شکاری مجھے شکار کرجائے ، اس لئے میںنے یہ طے کیا ہے کہ میں اپنی زندگی کے بقیہ ایام ’’حرم‘‘ میں جاکر گذاروں گا، کیونکہ وہاں شکار کرنا حرام ہے۔ یہ بات سن کر دوسرے ہرن نے کہا  ؎
رفیقش گفت ائے یار خرد مند  
اگر خواہی یافت اندر خطر زی
ائے عقل مند! اگر زندگی کا لطف چاہتے ہو توپھر خطرات میں جینے کی کوشش کرو۔ اسی بات کو امام بخش ناسخؔ نے یوں کہا ہے   ؎ 
زندگی زندہ دلی کا نام ہے 
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
 اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم وہ قوم ہے جس کے سینے میں شمع ِایمان فروزاں ہے، جو رسالت مآب ﷺ کی محبت سے سرشار ہے، جس کو خالق کائنات کی قدرت اور مدد پر پورا بھروسہ ہے،ایک سچے اور مخلص مسلمان کا شیوہ یہ ہونا چاہئے کہ اس کو لاکھ مصائب کے کانٹیں گھیریں ،وہ کلیوں کی طرح مسکراتا چلا جائے اور ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ یہ کہے     ؎
ائے ذوقِ اذیت مجھے منجھدار میں لے چل 
ساحل سے کچھ اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا
مسلمان اپنی جان اور مال کے ساتھ ساتھ اپنے ایمان ویقین کی حفاظت کریں ، اس لئے کہ ایک مسلمان کا سب سے بڑا اور قیمتی سرمایہ دولتِ ایمان ہی ہے ۔الحمدللہ مسلمانوں کی تاریخ ایسے سرفروش جیالوں کے روشن و تاب ناک سرگزشتوں سے بھری پڑی ہے ، رسالت مآب ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مکی دور میں بے پناہ مشکلات و مصائب برداشت کیں لیکن مصیبت کی اُن دل سوز ساعتوں میں ثابت قدم رہے۔ تاریخ میں محفوظ ایسے ہی ایک ماب لنچنگ کے واقعہ میں حضرت خبیب ؓ کو بیک وقت چالیس کافروں نے اپنے ظلم و ستم کا شکار بنایا ، انہیں نیزوں اور تلواروں سے مار مار کر لہولہان کردیا، قبل اس کے کہ حضرت خبیب ؓ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کرتے ، کوئی ظالم یہ پوچھ بیٹھا : بتاؤ کیا تم یہ پسند کروگے کہ تمہیں چھوڑ دیا جائے اور تمہاری جگہ (نعوذباللہ) محمد ﷺ کو قتل کیا جائے؟  اس وقت حضرت خبیب ؓ نے بڑی دلیری کے ساتھ یہ فرمایا : مجھے تو یہ بات بھی گوارا نہیں کہ میری جان کے عوض میں ایک کانٹا بھی میرے نبی ﷺ کو چبھے   ؎
حفاظت چاہئے دل کی ، حفاظت چھوڑ گلشن کی 
 اُجڑ جاتا ہے دل، گلشن کبھی ویراں نہیں ہوتا