تازہ ترین

عرب بہاریہ کی نئی دستک ؟

انقلابِ دہر کی ہر ہر لہر میں اضطراب

21 جولائی 2019 (05 : 11 PM)   
(      )

مسعود ابدالی
یہ  17 دسمبر 2010ء کی بات ہے جب تیونس کا ایک 28 سالہ خوانچہ فروش محمد ابوعزیز سڑک کے کنارے ٹھیلہ لگائے پھل بیچ رہا تھا۔ ایک ہی دن پہلے پیٹرول، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا تھا۔ ہفتہ وار تعطیل کی بنا پر جمعہ کو عام طور سے ابوعزیز کی بکری زیادہ ہوتی تھی، لیکن اُس روز بے چارے کا دھندا کچھ زیادہ ہی مندا تھا۔ گاہک آتے، بھائو معلوم کرکے مہنگائی کا رونا روتے اور کچھ خریدے بغیر آگے بڑھ جاتے۔ اسی دوران مقامی پولیس کی ایک 45 سالہ اہل کار فریدہ حامدی وہاں آئی اور ٹھیلہ لگانے کا بھتہ طلب کیا۔ عزیز نے قسم کھا کر کہا کہ صبح سے ایک دانہ نہیں بکا، تم کو پیسے کہاں سے دوں لیکن رشوت خوروں کے سینے میں دل کہاں ہوتا ہے۔ فریدہ نے ابوعزیز کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کرتے ہوئے راہ گیروں کا راستہ روکنے، ٹریفک میں خلل ڈالنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام لگا کر پرچہ کاٹ دیااور حکم ہوا کہ کل اصالتاً عدالت میں پیش ہوکر ضمانت کروائو یا جیل کے لیے بوریا بستر باندھ لو۔فاقے کا مارا ابوعزیز سرِعام طمانچے کی ذلت بھی برداشت کرگیا۔ گال سہلاتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کل اگر دہاڑی چھوڑ کر عدالت جانا ہوا تو گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ اور اگر عدالت سے ضمانت ہو بھی گئی تو وہ رقم کہاں سے لائے گا؟ چنانچہ اس نے فریدہ کی منت سماجت شروع کردی، پیروں میں پڑا لیکن وہ پتھر دل خاتون چالان اُس کے ہاتھ میں تھماکر اگلے ٹھیلے کی طرف بڑھ گئی اور جاتے وقت محترمہ نے ابوعزیز کے ٹھیلے سے ترازو بھی اٹھا لیا۔ مظلوم پھل فروش نے وہاں موجود لوگوں کو دہائی دی، دوسرے خوانچہ فروشوں کو پکارا لیکن یہ وہ دور تھا جب تیونس ’’مردِ آہن‘‘ زین العابدین بن علی کی گرفت میں تھاجو گزشتہ 23 سال سے بلاشرکتِ غیرے حکومت بلکہ بادشاہی فرما رہا تھا، اور ایک کروڑ سے زیادہ تیونسی اُن کے ذاتی غلام تھے۔ آمروں کی قوت اُن کے رشوت خور پولیس حکام اور خفیہ ادارے ہوتے ہیں، چنانچہ کسی میں ہمت نہ تھی کہ پولیس کے مقابلے میں اس غریب خوانچہ فروش کا ساتھ دیتا۔
ہر طرف سے مایوس ہوکر ابوعزیز قریب ہی واقع گورنر ہائوس جا پہنچا۔ اس نے بلند آواز میں گورنر سے فریاد کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیاکہ اگر بات نہ سنی گئی تو وہ خود کو نذرِآتش کرلے گا۔ وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے میرے گھر پر فاقوں کا راج ہے اور پولیس نے میرا ترازو چھین کر مجھے بالکل ہی بے روزگار کردیا ہے، میں اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ کیسے پالوں؟ لیکن گیٹ پر موجود گارڈ نے دھکے دے کر اُسے وہاں سے بھگادیا۔ ابوعزیز نے قریب کے ایک پمپ سے پیٹرول کی بوتل خریدی اور دوبارہ گورنر ہائوس کے صدر دروازے پر آگیا۔ پیٹرول کی بوتل اس نے اپنے سر پر انڈیلی اور دیا سلائی کی رگڑ کے ساتھ ہی ابوعزیز کا کڑیل جسم مہیب شعلوں میں تبدیل ہوگیا۔ قریب موجود لوگوں نے آگ بجھائی اور بری طرح سے جھلسے ابو عزیز کواسپتال میں داخل کردیا گیا۔اس الم ناک واقعے سے لوگ مشتعل ہوئے اور زبردست مظاہرے شروع ہوگئے۔ چند گھنٹوں بعد جمعہ کی نماز تھی جس میں خطیبوں نے سرکاری خطبہ پھاڑ کر پھینک دیا اور ظلمِ عظیم کے خلاف جوشیلے خطاب نے سارے ملک میں آگ لگادی۔ پورا تیونس اللہ اکبر اور آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ دوسرے عرب ممالک کی طرح تیونس میں بھی اظہارِ رائے پر پابندیاں عائد تھیں، لیکن ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ نے آزاد میڈیا کی کمی پوری کردی اور سارے تیونس میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ زین العابدین حکومت نے پہلے تو طاقت کا بھرپور استعمال کیا اور پھر معافی تلافی کا ڈول ڈالا گیا، حتیٰ کہ خاتونِ اوّل نے اسکارف سے سر بھی ڈھانپنا شروع کردیا۔جب 18 دن کی اذیت کے بعد ابوعزیزنے 4 جنوری 2011ء کو دم توڑا تو حالات قابو سے باہر ہوگئے اور اب ارحل یا زین العابدین (صدر زین العابدین ہمای جان چھوڑدو) کا نعرہ زبان زدِ عام ہوگیا۔ 14 جنوری کو گھبرایا ہوا زین العابدین ٹیلی ویژن پر نمودار ہوا اور اس نے وزیر داخلہ کی برطرفی کا اعلان کیا، اسی کے ساتھ چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات کا مژدہ بھی سنایا گیا مگر تیونس کے لوگ کچھ سننے کو تیار نہ تھے، اور اسی شام مردِ آہن اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ایک خصوصی پرواز کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہوگیا۔
یہ دورِ جدید کا واحد انقلاب تھا کہ جس میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا۔ فوج اور قانون نافذ کرانے والے ادارے آخری وقت تک صدر زین العابدین کی پشتیبانی کرتے رہے، لیکن طلبہ کے پُرامن مظاہروں نے انہیں فرار پر مجبور کردیا۔ اسی بنا پر یہ تبدیلی ’’انقلابِ یاسمین‘‘ کہلائی کہ چنبیلی کے معطر پھول کو عرب دنیا میں امن اور پُرجوش محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تیونس کی عوامی تحریک سے متاثر ہوکر 25 جنوری 2011ء کو قاہرہ میں لاکھوں افراد تیونس اور مصر کے پرچم لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور تحریر اسکوائر میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ اسی کے ساتھ یمن، شام، مراکش، اومان، کویت اور بحرین میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے۔ مراکش میں بادشاہ سلامت نے اپنے بہت سے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کرنے کے ساتھ ہی نئے انتخابات کا حکم دے دیا۔ شام میں طاقت کے بھرپور استعمال سے ابتدائی مظاہرہ کچل دیا گیا۔ الجزائر میں مظاہرے کو پولیس نے ناکام بنادیا اور سامنے آنے والے دو سو افراد کی گرفتاری کے بعد معاملہ تھم گیا۔کویت اور بحرین میں بھی تحریک آگے نہ بڑھ سکی، لیکن مصر میں تشدد کے ساتھ مظاہرے شدت اختیار کرگئے اور 11فروری کو مصر کے صدر حسنی مبارک نے بھی استعفیٰ دے دیا۔فروری کے وسط میں لیبیا مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، لیکن بہت جلد بیداری کی یہ لہر بدترین خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔15 مارچ کو اُردن سے ملحقہ شامی شہر درعا کے ہائی اسکول کی دیوار پر اللہ، السوریہ(شام) اور آزادی کا نعرہ لکھا پایا گیا اور اس کے بعد شہر کے سارے اسکولوں میں یہ نعرہ نوشتہ ٔدیوار بن گیا۔ یہ ایک ناقابلِ معافی جسارت تھی، چنانچہ خفیہ پولیس حرکت میں آئی اور دو سو بچیوں سمیت پانچ سو طلبہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان طلبہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، معصوم بچیوں کی بے حرمتی کی گئی اور پچاس بچوں کی اُن انگلیوں کو کاٹ دیا گیا جن سے انہوں نے نعرے لکھے تھے۔ تشدد کے باوجود تحریک جاری رہی، لیکن یہاں بھی اس مبارک تحریک کو فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کردیا گیا۔کچھ ایسا ہی حال یمن کا ہوا، جہاں سارا ملک ایک مہیب کھنڈر میں تبدیل ہوگیا۔
عرب دنیا میں بیداری کی اس مہم کو سیاسیات و عمرانیات کے ماہرین نے عرب اسپرنگ (Arab Spring)یا ’’ربیع العربی‘‘ کا نام دیا ہے۔ ربیع یا اسپرنگ ان معنوں میں کہ تحریک نے موسم بہار میں زور پکڑا جو جبر کی خزاں میں عوامی امنگوں کی بہار تھی۔ اسی قسم کی تحریک 1848ء میں یورپ میں برپا ہوئی تھی جو تاریخ میں Springs of Nationsکے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ پاپائیت (پادریوں کے جبر وستم)، بادشاہت اور شخصی اقتدار کے خلاف فرانس سے شروع ہونے والی اس تحریک نے بھی آناً فاناً سارے مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، اور اس تحریک کے نتیجے میں مغربی جمہوریت نے جنم لیا۔عرب اسپرنگ ایک حقیقی عوامی تحریک تھی جہاں لوگ صرف اپنے قومی جھنڈے لے کر باہر آئے۔ اور یہ جدوجہد دائیں بائیں، سیکولر اور مذہبی تقسیم سے پاک تھی۔ کسی بھی جگہ نہ تو سیاسی جماعتوں کے پرچم لہرائے گئے اور نہ لیڈروں کی عظمت کا ڈھول پیٹا گیا۔ نعروں میں بھی شائستگی تھی۔ مُردہ باد، نکل جائو، نامنظور، کتا جیسے الفاط کے بجائے ہرجگہ اللہ پر ایمان، آزادی اور مملکت کے لیے خوشی و خوشحالی کی دعائیں کی گئیں۔ آمروں کو بھی بہت ہی متانت کے ساتھ’’ ارحل‘‘ یا تشریف لے جاؤ کا مشورہ دیا گیا۔دھرنوں پر ہلڑ بازی اور ہڑبونگ کے بجائے باوقار ’’شب بیداری‘‘ کا گمان ہوتا تھا، جہاں ہزاروں افراد شمعیں اور مشعلیں لے کر ساری رات نعرہ زن رہتے تھے۔ خوش الحان نوجوان، مشہور تیونسی شاعر ابوالقاسم الشابی کی رجزیہ نظمیں پڑھ کر دلوں کو گرماتے رہے۔ الشابی صرف پچیس سال کی عمر میں فوت ہوگئے تھے، لیکن اس مختصر سے عرصے میں انہوں نے بہت ہی انقلابی کلام تخلیق کیا جسے ساری عرب دنیا میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس نوجوان شاعر کو تیونس کا قومی ترانہ لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان کی نظم ’’الیٰ طغاۃ العالم‘‘ (دنیاکے جباروں کے نام) نے تیونس کے انقلابِ یاسمین میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، اور اب عرب دنیا کے سارے بچوں کو یہ نظم یاد ہوگئی ہےکہ ہر شہر اور دیہات میں یہ نظم انتہائی جوش و جذبے سے بار بار پڑھی گئی۔
عرب اسپرنگ سے عرب شیوخ و ملوک اور مطلق العنان حکمرانوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔ کئی حکمرانوں نے جہاں عوام کے دل جیتنے کے لیے وقتی اقدامات کیے، وہیں اس ’’فتنے‘‘ کو روکنے کے لیے طویل المیعاد حکمت عملی تشکیل دی گئی۔ سعودی عرب نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دوگنی اور پیٹرول و بجلی کے نرخ آدھے کردیے۔ کچھ اسی قسم کے اقدامات کویت، اومان، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں بھی کئے گئے۔ عرب عوام کی بیداری پر امریکہ اور اسرائیل کو بھی شدید تشویش تھی کہ مصر میں منتخب حکومت نے بحر روم سے نکلنے والی گیس کی فروخت کے لیے اسرائیل سے معاہدے پر نظرثانی کا حکم دے دیا، اسی کے ساتھ غزہ سے ملنے والی سرحد بھی کھول دی گئی۔ دلچسپ بات کہ امریکہ کی سابق وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن جب 2012ء کے اختتام پر مصر اور تیونس گئیں تو اُس نے خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ صدر محمد مرسی اور تیونس کے وزیراعظم حمادی الجبالی سے مل کر بے حد متاثر ہوئی ہیں۔تاہم اس منافقانہ خیر سگالی کے ساتھ مغرب نے خلیجی ریاستوں کو عرب اسپرنگ کےاستحصال کے لیے عملی اقدامات سجھانے شروع کردئے۔ تیونس کے حوالے سے زیادہ پریشانی نہ تھی کہ یہ شمالی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جہاں کے آئین میں سیکولرازم کو ناقابلِ ترمیم تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم مصر، شام اور لیبیا کا معاملہ بے حد اہم تھا۔ 
(بقیہ منگل کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)