تازہ ترین

بولوتوسہی

افسانہ

21 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نواب دین کسانہ
آفتاب صاحب کوبچپن ہی سے بوقت ِ شام چہل قدمی کی عادت تھی اورپھربڑھتی عمرکے ساتھ تویہ عادت اوربھی پختہ ہوگئی تھی۔ نہ جانے کیابات تھی کہ شام کے وقت جیسے ہی سورج ڈوبنے کوہوتا ان کادِل بھی خودبخودڈوبنے لگ جاتاتھا۔ان پریاس وحسرت کی ایک بے نام سی گہری کیفیت چھاجاتی اوراِسی عالم میں وہ گھرسے نکل کھڑے ہوتے تھے ۔اُس دن بھی وہ اسی حالت میں گھرسے نکلے تواُ ن کارُخ دریائے چناب کی جانب تھا۔وہ ذرا آگے بڑھے تودیکھادریائے چناب پوری طرح اپنے شباب پرتھا ۔موجوں کی باہم تصادم آرائی سے ایک ایسادِلُربااحساس ِ نغمگی پیداہورہاتھا جیسے کہ کہیں کوئی روائتی ساسازبج رہاہو ۔
اب آفتاب صاحب سازِ فطرت کی رُوح پرور موسیقی میں ایساکھوئے کہ آگے بڑھناہی بھو ل گئے ۔وہ جہاں تھے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے ۔ وہ موجوں کی اِ س کشاکش کواسطرح دیکھ رہے تھے جیسے کہ دُنیاومافیاسے بے نیازہوکر کوئی عاشق اپنی معشوقہ کودیکھتاہے۔ مگردریا تودریاتھا۔ وہ اپنی منزل کاراہی تھا۔کسی کے اِس طرح دیکھنے سے نہ تواُسے کوئی فرق پڑتاتھا اورنہ ہی وہ رُک سکتاتھا ۔وہ مسلسل اپنی مستی میں بہے جارہاتھا ۔اُس کے ہاں سکون ہی سکون تھا ۔چلائوہی چلائو تھا۔ٹھہرائو کہیں بھی نہیں تھا۔اگرکہیں کسی نے اُس کاراستہ روکنے کی کوشش کی بھی تھی تووہ رُکاوٹوں سے اُلجھنے کے بجائے متبادل راستہ بناکر پھرخراماں خراماںسُوئے منزل چل نکلتاتھامگرآفتاب صاحب کی زندگی بالکل اِس کے برعکس تھی۔اُن کی زندگی میں سکون نام کی چیزسرے سے ہی نہیں تھی۔ اِن کے ہاں شکوے ہی شکوے تھے ۔اپنوں سے شکوے ۔غیروں سے شکوے ۔حتّی کہ اپنے آپ سے شکوے ۔سچ کہوتو وہ کسی دانۂ سپند سے کم نہیں تھے۔ذراسی بات سے چِڑجاتے تھے ۔بھڑجاتے تھے ۔اُنہیں دریا کے کنارے ذراسی تنہائی اوریکسوئی کیاملی کہ انکے اندرکادباہوا لاو۱ اچانک پھوٹ پڑا ۔اُلجھنے کوکوئی اور نہیں ملاتو دریائے چناب ہی سے اُلجھ پڑے۔عالمِ خیال میں دریائے چناب کے ساتھ ان کاخاموش مکالمہ کچھ اسطرح تھا:۔
آفتاب صاحب:۔آہ! اے چناب تم کتنے خوش نصیب ہو۔اپنی مستی میں بہے جاتے ہو۔زمانے کی چوں چاں کاتم پرکچھ بھی اثرنہیں ۔کوئی کیاکہتاہے۔اس کی تمہیں ذرابھی پرواہ نہیں ۔مگراِدھردیکھومیراکیاحال ہے؟۔بظاہرتو اچھانظرآتاہوں مگراندرسے دِل میرابے حال ہے۔ہوبھی کیوں نہیں۔ میں ایسا بدقسمت ہوں کہ مجھے اچھائی کے بدلے بُرائی ملتی ہے ۔نیک نیتی کاصلہ بدنیتی سے ملتاہے ۔ان ہی وجوہ کی بنا پر میں چڑچڑاہوگیا ہوں۔ذراسی بات سے چِڑ جاتاہوں۔بھِڑجاتاہوں ۔میری زندگی کی پتنگ اُڑے تو کیسے میں ڈورکاسِراڈھونڈنے میں ہی اُلجھارہتاہوں۔مگراے چناب !ذرایہ توبتا تونے یہ بے نیازی سیکھی توکہاں سے ہے۔
چناب: ۔آفتاب میاں میرااورآپکاتھوڑانہیں بڑافرق ہے ۔میں آپکی طرح چرب زبان نہ سہی مگرصاحب ِمنزل ہوں ۔مجھے پتہ ہے آیا کدھرسے ہو ں اورجاناکدھرہے ۔تجھے اپنی منزل کاکچھ بھی ادراک نہیں۔توصاحب ِخبرنہیں بے خبر ہے ۔
آفتاب صاحب: ۔تُوفلسفی سہی مگرمجھے تیرے فلسفے سے کچھ بھی سُروکارنہیں ہے۔توکدھرسے آتاہے نہ بتا۔ مگراتناتوبتا تیری منزل کیاہے ؟توجاتاکدھرہے؟۔
چناب :۔آفتا ب میاں رُکے کیوں کھڑے ہو۔میں نہ خودرُکتاہوں نہ کسی کارُکنا پسند کرتاہوں ۔حرکت میں برکت ہے۔میں حرکت پسندہوں ۔میں چلتے چلتے اپنی بات کرتاہوں اورچلتوں چلتوں کی بات سنناپسندکرتاہوں ۔تونے میری منزل کاپوچھاہے ۔سمندرکانام توتم نے سن ہی رکھاہوگا۔وہی میری اصل ہے ۔وہی میری منزل ہے ۔اُس سے ملنے کی آرزومجھے کہیں رُکنے نہیں دیتی ۔دم نہیں لینے دیتی۔ کامیابی کافیصلہ منزل پرپہنچنے میں ہے نہ کہ سرپکڑے بیٹھ کریہ سوچنے میں ہے کہ لوگ کیاکہتے ہیں ۔مگرمیں سُوئے منزل جاتا بھی بیکارنہیں رہتاہوں ۔چھوٹے بڑے بہت سارے کام راستے میں کرتا جاتاہوں۔
آفتاب :مگر سمندر میں مل کرتُجھے کیاحاصل ؟۔اِس سے توتیری انفرادیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔شبنمی قطروں کاوجودکنول کی پتیوں پرٹکے رہنے میں ہے ۔جب وہ پتیوں سے تالاب میں گرتے ہیں تولوگ اُنہیں بھی گدلے پانی کاحصہ ہی سمجھتے ہیں ۔دُوسراجوتم یہ راستے میں چھوٹے بڑے کام کرنے کی ڈینگیں ماررہے ہو ذرا ان کاتوبتائوآخریہ ایسے کونسے کام ہیں جنھیں ہم جانتے نہیں۔
چناب: اُوغافل !غفلت چھوڑ۔باہرکی آنکھ بندکر اندرکی کھو ل اورپھرتجھے صاف نظرآئے گاکہ اجتماعیت انفرادیت سے کہیں زیادہ اہم ہے ۔قطرہ سب کچھ سہی ۔رازِ کائنات سہی مگریہ بھی سچ ہے کہ تنہا کچھ نہیں۔ قطرہ قطرہ ہے دریانہیں، تالاب نہیں۔دریادریاہیں،بحرنہیں ۔دریابننے کیلئے قطروں کوملناپڑتاہے ۔بحربننے کیلئے دریائو ں کویکجاہوناپڑتاہے ۔قطرے قطرے ہی رہتے تونہ تالاب بنتے نہ دریابنتے ۔اگردریانہیں بنتے توتمہارے کھیت کھلیان کہاں سے سیراب ہوتے ۔بندھ بنتے نہ برقی توانائی کے ذرائع ملتے اوریہ نہیں ملتے توتمہارے گھر کہاں سے روشن ہوتے ۔ تمہارے کارخانے کہاں سے چلتے۔ مشکلیں کیسے دورہوتیں ،آسانیاں کیسے پیداہوتیں ۔ایسی سنانے کی، ایک نہیں ہزاروں باتیں ہیں مگرسمجھدارکیلئے اشارا ہی کافی ہے۔اُمیدہے آپ سمجھ گئے ہونگے۔ اب تمہارے اصل اوربنیادی سوال کی طرف آتاہوں کہ بحرمیں ملنے سے کیاحاصل ہے؟۔سنوآفتاب! بحرمیں ملنامقصدنہیں مقصدکوحاصل کرنے کاذریعہ ہے ۔بحراوردریا ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں اورمخلوقِ خدا کے حق میں باعث رحمت ہیں ۔جب ہم بحروں میں گرتے ہیں توبحروں کاپانی عمل تغیرکے ذریعے بھاپ بن کر اوپراڑتارہتاہے اوراوپرجاکرجب ہوائوں کے ملن سے ٹھنڈاہوکر بادل بنتاہے توپھرکہیں بارش بن کربرستاہے توکہیں برف بن کرگرتاہے ۔اس سے دریابھی مسلسل بہتے رہتے ہیں اوربحربھی بنے رہتے ہیں۔اِسی تسلسل میں کائنات کی بقاہے مگرافسوس یہ کہ انسان ناشکراہے ۔سمجھ کربھی نہیں سمجھتاہے ۔
آفتا ب صاحب :۔اے رُودِ جلال وکمال تیری تقریر خوب سہی مگرکچھ پتہ بھی ہے لوگ تیرے بارے میں کہتے کیاہیں؟۔
چناب:۔ہاں پتہ ہی نہیں خوب پتہ ہے ۔تم یہی بتاناچاہتے ہوکہ لوگ مجھے غارت گرکہتے ہیں۔موت کادریا کہتے ہیں ۔خونخوار اژدھاکہتے ہیں مگرکوئی میرے بارے کیارائے رکھتا ہے،مجھے اس کی ذرابھی پرواہ نہیں ۔میری اپنی رفتاراوراپناکردار ہے ۔سُنوآفتاب !کُتّوں کی بھونک سن کر رکنے والے قافلے منزلوں سے ہمکنار نہیں ہوتے بلکہ راستے کی بھول بھلیوں میں ہی کھوجاتے ہیں ۔ان باتوں کابراکیامنانا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ لوگ اکثرپتھراُسی درخت کومارتے ہیں جس پرپھل ہوتے ہیں۔ جس سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھتے ہیں اُسے لمبی عمرکی دُعائیں دینے کے بجائے اُس کاشہتیربنانے کی سوچتے ہیں۔
آفتاب: تم نے جو بتایاسب دُرست سہی مگرآخر اتنی تُرش روی کیوں ؟۔
چناب :یہ تُرش روی نہیں بلکہ یہ میراضروری باتوں کوذرازوردیکربتانے کاانداز ہے ۔زوردیکربتانا وہیں مناسب سمجھتاہوں جہاں سننے والانہ خودشناس ہوتاہے نہ زمانہ شناس ۔نہ صاحب نظرہوتاہے نہ صاحب خبرہوتاہے اور جسے کی ہربات کڑوی لگتی ہے ۔تمہیں توشائد اتنابھی نہیں معلوم کہ جودُنیامیں آتاہے وہ زمانے کے دھارے میں چکرکھاتاہوااپنے اصل کی جانب واپس لوٹ جاتاہے ۔ یہ بے آگاہی تمہاری تمام پریشانی اوربے سکونی کی اصل جڑ ہے ۔
آفتاب صاحب: جناب سرِ تسلیم خم مگراِس کی وجہ کیاہے اور اس مرض کی دواکیاہے؟۔
چناب:آپ کو اچھی طرح معلوم ہوناچاہیئے کہ اللہ ہماراخالق اورہم اُس کی مخلوق ہیں ۔وہ بلامذہب وملت اوررنگ و نسل اپنی آسانیاں اورمہربانیاں یکساں فراہم کرتاہے۔کبھی دیکھاکہ اُس نے ہوا،پانی اور سردی گرمی جیسی بنیادی چیزوں کی تقسیم میں رنگ و نسل ،ذات پات اورمذہب وملّت کی بنا پرکوئی امتیازروارکھاہو ؟۔اگرخالق کے ہاں کوئی تفریق نہیں تومخلوق کے ہاں اسکی جوازیت کیاہے ؟۔میرارنگ اُسی کارنگ ہے ۔میراڈھنگ اُسی کاڈھنگ ہے۔آپ نے اپنے من پسندرنگ بنارکھے ہیں اورآپ خالق ومالک کارنگ چھوڑکر انہی رنگوں میں رنگے ہوئے ہیں ۔یہ روش آپکے حق میں بڑاعذاب ہے ۔یہ زہریلاناگ بن کرآپکوڈس رہی ہے ۔آپکی بے عقلی کی سزا دے رہی ہے ۔آپ کی پریشانی اوربے سکونی کاحل یہی ہے کہ اپنے من پسندرنگوں کی چکاچوند سے باہر آکرخالق کے رنگ میں رنگ جائو ۔اُس کے رنگ کی رنگائی میں آ پ کو لاحق ہوئے مرض کی دوابھی ہے شفابھی ہے۔
ابھی چناب اورآفتاب صاحب کے درمیان یہ گرماگرم مکالمہ جاری ہی تھاکہ ایک شوخ سی چُلبلی موج، جودُورسے آگے بڑھتی ہوئی یہ سب تماشابڑی بے بسی سے دیکھ رہی تھی، سے رہانہیں گیا۔وہ غُصّے میں عین آفتاب صاحب کے سامنے آکرایک پتھریلی چٹان سے ٹکرائی توآب ِہنک کے چھینٹے اس طرح زورسے اُن کے چہرے سے ٹکرائے جیسے کہ کوئی زناٹے دارتھپڑمارکر پوچھ رہاہو ،
’’کیااب بھی کوئی شک ہے ؟ کیاآپ کادِل گواہی نہیں دیتاکہ بیشک اللہ کارنگ سب سے اچھارنگ ہے؟بُت بنے کھڑے کیوں ہو؟کچھ بولوتوسہی‘‘ 
کوہسارکرائی ،ادہم پور
رابطہ نمبر۔9419166320