تازہ ترین

سر کاری شفا خانے

20 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 سر کاری شفاخانوںکے بارے میں اکثر وبیشتر لوگوں کو شکایتیں رہتی ہیں کہ ان میں مریض دوستانہ فضا پائی جاتی ہے نہ نظم وضبط نام کی کوئی چیز نظرآتی ہے ، ان میں مریضوں اور تیمار داروں کو طرح طرح سے ذہنی کوفتوں کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ ان شکایات کا ازالہ کر نا اگرچہ لازم وملزوم ہے مگر بڑی ناسپاسی ہوگی اگر ہم یہ ناقابل ِتردید حقیقت تسلیم نہ کریں کہ نوے کے دور ِ پُر آشوب کے آغازسے لے کر آج تک سرکاری ہسپتالوں میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ جس جانفشانی اور فرض شناسی سے اپنی خدمات پیش کرتا رہا ، اس پر یہ لوگ واقعی آفرین ومرحباکے مستحق ہیں۔ بسااوقات انہوں نے ناگفتہ بہ اور ہنگامی حالات کے متاثرین کی زندگیاں بچانے میں اپنی جان جو کھم میں ڈال کر اپنے پیشے کاتقدس قائم رکھا۔ کشمیر کا شاید ہی کوئی باشعور فرد بشر ہوگا جس نے مشہورومعروف ڈاکٹر عبدالاحد گور و، ڈاکٹرفاروق عشائی اور ڈاکٹر شیخ جلال جیسی عظیم طبی شخصیات کی بے دردانہ ہلاکتوں پر خون کے آنسو نہ بہائے ہوں۔ بہرصورت اس حقیقت کے باوصف یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ ہمارے بعض سرکاری شفاخانوں کے بارے میں مریض اور تیمار دار بجاطور عدم اطمینان ظاہر کر تے رہتے ہیں۔کوئی طبی مراکزمیں مریضوں کے تئیںبے مروتی کی داستان سرائی کرتاہے، کسی کو ان میں بدنظمی اور فرض ناشناسی کی بو محسوس ہوتی ہے، کوئی جدید طبی سہولیات کے فقدان کارونا روتاہے ، کوئی صحت وصفائی کی ناگفتہ بہ صورت حال پر انہیں ذبح خانہ کہتا پھرتاہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ ان عوامی شکایات سے صرف ِ نظر کر نے کا مطلب یہ ہو گاکہ یاتو متعلقہ حکام ندائے خلق کو اہمیت نہیں دیتے ،یا وہ سرکاری شفاخانوں میں سدھار لانے سے قاصر ہیں ،یا خود شفاخانوں کی علالت سے ان لوگوں کے نجی مفادات وابستہ ہیں۔ سچ جو بھی ہو بہر کیف شفاخانوں کے اصلاح طلب مسائل کو گھمبیر تا سے لیا جانا چاہیے اور جہاں جس نشتر اصلاح کی ضرورت ہو ،وہاں اُسے پہلی فرصت میں استعمال کیا جائے۔ باوجودیکہ آج بھی ہمارے زیادہ تر ڈاکٹر صاحبان اور نیم طبی عملہ فرض شناس بھی ہیں اور احساس ذمہ داری سے لیس بھی، مگر کیا کیا جائے ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کر کے چھوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقفہ وقفہ سے شفاخانوں کو لا حق بیماریو ں کا کو ئی نہ کو ئی ناقابل بیان قصہ منظر عام پر آ تار ہتا ہے ۔ ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ وادی کے شفا خانو ں میں ما ہر ین ِامرا ض آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں، اس پر ستم یہ کہ ان میں طبی جانچ کرنے والی مشینیں اکثر جانتے بوجھتے ناکارہ بنادی جاتی ہیں تاکہ مریض پرائیوٹ لیبارٹیوں کارُخ کریں۔ نقلی ادویات کا چلن، دفتری اوقات میں پرائیوٹ پر یکٹس اور ناقص وغیر معیاری ادویات کی شکایات اس پر مستزاد ہیں۔ ہیلتھ سیکٹر کے یہ رسوائے زمانہ امراض عام آ دمی کے منہ پر زوردارطما نچہ نہیں تو اور کیا ہیں؟ ان سے عوام میں یہ پیغام جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتال غریب مریضوں کے واسطے اونچی دوکان پھیکا پکوان کے مصداق ہیں۔ بہر حال وادیٔ کشمیر کا ہیلتھ کئیر سسٹم چوپٹ نہ ہو، اس کے لئے پورے سسٹم کو جنگی بنیادوں پر دُرست کر نا وقت کی نا قا بل التواء ضرورت ہے۔ سرکا ری اسپتالوں کے بارے میں زیادہ تر لوگ اس تعلق سے شاکی ہیں کہ یہاں مریضوں سے سرے سے ہی ہمدردی نہیں پائی جاتی۔ اس طرز عمل سے مشتعل ہوکر بسا اوقات تیمار دار اپنا نزلہ ڈاکٹروں پر اُتار کر اخلاق اور قانون کی دھجیاں بھی اُڑا تے ہیں،جس سے لگتا ہے جیسے مریض اور طبیب آپس میں رقیب ہوں۔ اس نوع کی عام شکایت کے تناظر میں طبی ونیم طبی عملہ پر بھی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،البتہ شفاخانوں کے اندر غنڈہ گردی کو روکنے کے لئے طبی ونیم طبی عملے کا سیکورٹی طلب کر نا بھی کو ئی بلا جواز مانگ نہیں۔ یہ نہ صرف نظم وضبط کا ابتدائی تقاضا ہے بلکہ شفاخانوں میں حسن ِانتظام کا سرشتہ بھی اس سے صحیح ڈگر پر آ نے کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ اصلاح ِاحوال کے لئے ضروری ہے کہ سر کاری طبی ادارو ں میں پنپ رہیںتمام نحوستو ں کا یکسر قلع قمع ہو۔ ا س ضمن میں اولین قدم یہ ہونا چاہیے کہ شفاخانوں کو جدید سے جدید تر طبی سہولیات اور مشنریو ں سے لیس کیا جائے ، د وم سرکاری طبی مراکز میں ڈا کٹرو ں اور نیم طبی عملے کی قلت کو دور کیا جائے، سوم شفاخانوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے واسطے مانیٹر نگ کا مو ثر اور دیانتدارانہ نظام وضع کیا جائے،چہارم سر کا ری شفا خا نو ں میں مریض دوستا نہ کلچر کو متعارف کرایا جا ئے، پنجم اپنے پیشے سے صدق دلا نہ وفا کر نے والے ڈاکٹر صا حبا ن کی عز ت افزائی کھلے دل سے کی جا ئے، ششم طبی ونیم طبی عملہ مریضوں سے پیار اور ہمدردی کا میٹھااحساس دل وجان میں جاگزیں کیا جائے ، ہفتم تیمارداروں کو تہذ یب وسنجیدگی سے آشنا کر ایا جائے، ہشتم ڈاکٹروں اور پرا میڈیکل سٹاف کو طبی مراکز میں احسا س ِتحفظ دیا جائے۔ اس طرح کے لازمی اقدمات سے ہسپتالوں کی کارکردگی بھی سدھر ے گا اور عوامی شکایات کا ازالہ بھی ہوگا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ محض شفاخانوں کی بات نہیں بلکہ تمام سرکاری ادارو ں کا رونا ہے کہ ا ن میںورک کلچر کا فقدان ہے ، انہیں خارجی عناصر کی مداخلتوں کا سامنارہتاہے ،ا نہیںعدم جوابدہی کا روگ لگا ہوا ہے۔ البتہ اس سچ کو بھی نکارا نہیں جاسکتا کہ بعض لوگ شفاخانوںمیں داخل ہوتے ہی صبر وشعور سے دامن جھاڑلیتے ہیں۔ عام مشا ہدہ یہ بھی ہے کہ ایک بیما ر کے پیچھے جب تک درجن بھر تیماردار سرکاری ہسپتال کا رُخ نہ کر یں، اُس وقت تک ان کو تسلی نہیں ہو تی۔ اس انوکھے طرز عمل سے اسپتالوں میں خوا ہ مخو اہ میلے ٹھیلے کا جیساسماں بندھ جانا قدرتی بات ہے۔ نتیجہ یہ کہ بھیڑ بھا ڑ سے علاج و معالجے میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا ہو تی رہتی ہیں۔ غور طلب ہے کہ دور دیہا ت کے لو گو ں کی نفسیا ت کا یہ حصہ ہے کہ وہ معمولی عارضے کے لئے بھی اپنے نزدیکی شفا خا نے کو چھوڑکر اپنے مریض کو بڑے ہسپتالوں میں لا زماً پہنچا دیتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات ثقہ طور بیٹھی ہو تی ہے کہ بیما ر بڑے شفا خا نے میں ہی تندرست ہوسکتا ہے ،حا لانکہ ضلعی، تحصیل،بلاک اور مقامی ڈ سپنسریو ں ، ہیلتھ سنٹروں میں بھی ان کے دوا دارو کی مطلوبہ سہو لیا ت دستیا ب ہو تی ہیں۔ اس وجہ سے بھی اکثر بڑے ہسپتالوں پر مر یضو ں کا اژ دھا م بڑ ھنے سے ’’ کچھ نہ دوا نے کام کیا‘‘ والا معاملہ پیش آتا رہتا ہے۔ اس صورت حال کو فوراً سے پیشتر بدلنے کی اشد ضرور ت ہے۔ محکمہ صحت کو اس بابت ایک منظم تشہیری مہم چلا نی چا ہیے اوراگر ضرورت پڑے تو اس بابت سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی زیر استعمال لانا چاہیے۔ مختصر اًیہ کہ شفا خانوں کے اند ر اور باہر جو بھی مسا ئل مریضو ں ، تیمار دارو ں اور طبی ونیم طبی اسٹاف کو مشترکہ طور در پیش رہتے ہیں،ان کا ایسا تیر بہدف حل ڈھونڈ نکالا جائے کہ ہر شہری کے لئے صحت مند زندگی کی اُمید فروزاں رہے۔