تازہ ترین

کرناٹک کا ناٹک

گورنرکے حکم کو وزیراعلیٰ کمارا سوامی نے کیا چیلنج

20 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 کانگریس اورجے ڈی ایس سپریم کورٹ کی پناہ میں

نئی دہلی //کرناٹک میں سیاسی ناٹک جاری ہے۔ برسراقتداراوراپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے ایک دوسرے پرمسلسل الزام تراشی کی جارہی ہے۔ اس دوران فلورٹسٹ معاملے میں نیا موڑآگیا ہے۔ کانگریس نے گورنروجوبھائی والا کے ذریعہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی کو لکھے گئے خط کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ وہیں گورنروجوبھائی والا نے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کرشام 6 بجے تک فلورٹیسٹ کی ہدایت دی ہے۔وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے اسمبلی اسپیکرسے کہا- میں آپ کے اوپرفلورٹیسٹ پر فیصلہ چھوڑدیتا ہوں۔ یہ دہلی کے ذریعہ  ہدایت نہیں کی جائے گی۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ گورنرکے بھیجے گئے خط سے میری حفاظت کریں۔کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی گورنر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورنرکے تئیں میرے دل میں احترام ہے، لیکن گورنرکے دوسرے ' لو لیٹر' نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ انہیں صرف 10 دن پہلے ہارس ٹریڈنگ کے بارے میں پتہ چلا۔ (انہوں نے ایوان میں بی ایس یدی یورپا کے سکریٹری سنتوش کی تصویریں دکھائیں، جوکہ مبینہ طورپرآزاد رکن اسمبلی ایچ ناگیش کے ساتھ ایک طیارہ میں سوار ہوئے تھے)۔کانگریس لیڈرسدا رمیا نے برسراقتداراتحاد کے مطالبے کو دوہراتے ہوئے کہا 'چرچا ابھی بھی پوری نہیں ہوئی ہے اور20 اراکین کو حصہ لینا باقی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ آج پورا ہوگا، یہ پیرکو بھی جاری رہے گا'۔ اس سے قبل کرناٹک میں ایوان کی کارروائی لنچ بریک تک کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔ اس سے قبل اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمارنے واضح طورپرکہا ہے کہ وہ گورنرکے احکامات کونہیں مانیں گے۔ انہوں نیکہا ہے کہ پہلے بحث ہوگی، اس کے بعد ہی ووٹنگ کرائی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بحث پوری نہیں ہوجاتی، تب تک ووٹنگ کے لئے دباو نہیں ڈالا جاسکتا۔اس سے قبل کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والانے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی کو آج دوپہر 1:30 بجے تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی تھی۔اس سے پہلے گورنرنے وجوبھائی والا نے اسپیکرآرکے رمیش کمارکو پیغام بھیجاتھا کہ وزیراعلیٰ کی تجویزتحریک اعتماد پر کاروائی جمعرات تک ہی پوری کرلیں۔ اس کے باوجود اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کرشن کمارریڈی نے ہنگامے اور برسراقتدار پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کے ذریعے بی جیپی پرگورنر کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے کی وجہ سے اسمبلی کی کاروائی جمعہ تک کے لیے ملتوی کردی۔ اب گورنرنے وزیراعلیٰ کو ہدایت دی ہے کہ جمعہ کو1:30 بجے تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کریں۔ اس طرح سے 14 ماہ پرانی کانگریس۔ جے ڈی ایس کے اتحاد کی حکومت کی قسمت کا آج فیصلہ ہوگا۔کرناٹک میں پارلیمانی امور کے وزیرکرشنا بایریگوڑا نے اس معاملے میں کہا کہ موصوف گورنر کی ہدایت کے پیچھے ان اپوزیشن بی جے پی اراکین اسمبلی کا مطالبہ کارفرماہے۔ جنہوں نے گورنرسے ملاقات کرکے مداخلت کرنے کی گزارش کی تھی۔وہیں سابق وزیر ایچ کے پاٹل (کانگریس) نے گورنر کی ہدایت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گورنر اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے ہیں۔ اس پر بی جے پی ارکان باسوراج بومئی اورسریش کمار نے مخالفت جتاتے ہوئے کہا کہ گورنر کو ایوان کے اسپیکرکو ہدایات دینے کا مکمل اختیارہے۔کرناٹک اسمبلی میں متعلقہ پارٹیوں کے وہپ جاری کئے جانے کے باوجود کانگریس کے 12 اورجنتادل (ایس) کیتین اراکین سمیت کم از کم 15اراکین اسمبلی کیجمعرات کو ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیاہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تمام 15باغی اراکین اسمبلی نے وہپ جاری ہونے کے باوجود ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ باغی اراکین اسمبلی کے ایوان کی کارروائی میں شامل نہیں ہونے سے مخلوط حکومت اقلیت میں نظر آرہی ہے۔