تازہ ترین

مکہ روڈ انیشی ایٹیو:حاجیوں کی سہولت کیلئے ایک غیر معمولی پہل

19 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی// حکومت سعودی عرب نے مکہ روڈ انیشی ایٹیوکے نام سے سفر حج کو زیادہ بہتر، سہل اور آرام دہ بنانے کی جو پہل کی ہے اس سے آئندہ برس سے ہندوستانی عازمین کے بھی استفادہ کرنے کی امید ہے ۔ان خیالات کا اظہار سعودی سفیر ڈاکٹر سعود الساطی نے آج یہاں حج انتظامات کے متعلق ایک خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر الساطی نے بتایا کہ مکہ روڈ انیشی ایٹیو(طریق مکہ پہل)پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائشیااور تیونس ملکوں میں کامیابی کے ساتھ نافذ ہوچکا ہے اور اس پروگرام کے تحت ان ملکوں سے امسال دو لاکھ 25 ہزار عامین حج کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا اس پروگرام کے سلسلے میں حکومت ہند کے ساتھ با ت چیت چل رہی ہے اور امید ہے کہ اگلے سال سے یہ ہندوستان میں بھی شروع ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ سعودی حکام اور ہندوستانی افسران کے درمیان پچھلے دنوں اس موضوع پر مثبت بات چیت ہوئی ہے ۔ مکہ روڈ انیشی ایٹیو کی تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر الساطی نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس جانے والے عازمین کو ان کے اپنے ملکوں ہی میں ہوائی اڈوں پر ای ویزے جاری کیے جاتے ہے ہیں اور سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی ان کے داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جاتی ہے تا کہ انھیں جدہ یا مدینہ ہوائی اڈے پر کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلاتاخیر اور بلا رکاوٹ اپنی جائے قیام منتقل ہوسکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ طریق مکہ پروگرام سے استفادہ کرنے والے عازمین حج کی امیگریشن، سامان کی بکنگ اور کوڈنگ ان عازمین کی روانگی کے ہوائی اڈوں سے ہو تی ہے ۔ ان کا سامان مکہ یا مدینہ میں ان کی رہائش گاہوں تک پہنچایا جا تا ہے اور انہیں کسٹم اور امیگریشن کلیئرنس کے لیے سعودی عرب میں طویل انتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑ تی ہے ۔ اس سال حج کے سیزن میں پانچ ملکوں سے تعلق رکھنے والے 2.25 لاکھ حجاج طریقہ مکہ پروگرام سے مستفید ہوں گے ۔ پروگرام میں تیونس، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائشیا شامل ہیں۔ سعودی سفیر نے بتایا کہ اس پروگرام سے استفادہ کرنے والے عازمین نے اسے کافی پسند کیا اور اس کی تعریف کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ تجرباتی طور پر پچیس ہزار عازمین حج کو گلے میں ڈالنے والے ہائی ٹیک اسمارٹ کارڈ دئے جائیں گے ۔ اس کارڈ میں عازمین حج کی صحت’ رہائش گاہ’ حج ٹور وغیرہ جیسی ذاتی معلومات ہوں گی۔ انہیں ایک لوکیشن ٹریکر سے منسلک کردیا جائے گا جس سے ان کی آمدورفت اور صحت وغیرہ کے متعلق معلومات حکام تک پہنچتی رہیں گی۔ڈاکٹر ساطی نے کہا کہ اب حج او رعمرہ کے لئے الیکٹرانک ویزا سسٹم شروع کردیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو ویزا کے لئے سفارت خانہ آنے کی ضرور ت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے گھر سے ہی ویزا کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ ہندوستان کی حج کمیٹی بھی اس سسٹم کا فائدہ اٹھاسکتی ہے ۔  سعودی سفیر نے بتایا کہ ایک اہم فیصلے کے تحت سعودی حکومت نے اب حج اور عمر ہ پر جانے والوں کو دیگر شہروں کا دورہ کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے ۔ اس سے اب حج او رعمرہ پر جانے والے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں رہنے والے رشتہ داروں سے وہاں جاکر ملاقات کرسکیں گے ۔ قطر کے ساتھ جاری تنازعہ کے مدنظر قطر ی شہریوں کے فریضہ حج کی ادائیگی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں سعودی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب کی دیرینہ پالیسی ہے کہ ہر مسلمان کو فریضہ حج ادا کرنے کی اجازت ہے ۔ قطری شہریوں کے حج پر آنے پر کسی طرح کی پابندی نہیں ہے تاہم قطری حکومت انہیں حج کے لئے آنے سے روک رہی ہے اور وہ آن لائن رجسٹریشن سروس بند کرکے اپنے ملک کے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم کررہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے قطرکے عازمین حج کی آن لائن رجسٹریشن کی سہولت کے لیے سابقہ تمام رابطے بند ہونے کے بعد نئی آن لائن رجسٹریشن سروس قائم کردی ہے اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اورشہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ 1440ھ کے حج سیزن کے موقع پر حسب سابق قطری بھائیوں کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کریں۔  اس کے ساتھ ساتھ قطری حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آن لائن رجسٹریشن سروس بند کرکے اپنے ملک کے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم نہ کرے ۔ ایک دیگر سوال کے جواب میں سعودی سفیر نے بتایا کہ ایران کے عازمین حج دیگر ملکوں کی طرح ہی اس سال حج پر آرہے ہیں اور ان کا پہلا گروپ سعودی عرب پہنچ چکا ہے ۔