تازہ ترین

عام بجٹ لوک سبھا میں منظور

19 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//مالیاتی بل 2019جمعرات کو لوک سبھا میں منظور ہونے کے ساتھ ہی مالی سال 2019-20کے 27لاکھ 86ہزار 349کروڑ ورپے کے عام بجٹ پر ایوان کی مہر لگ گئی۔تقریباََ پانچ گھنٹے چلی بحث کے بعد اصل بل میں آٹھ نئے حصے شامل کئے گئے ۔ حکومت کی طرف سے پیش کردہ 23ترامیم کو بھی ایوان نے منظور کیا جبکہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کردہ پانچ ترامیم نامنظور کردی گئیں۔ ان میں پٹرول اور ڈیزل پر لگائے گئے خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی اور سڑک اور بنیادی ڈھانچہ ٹیکس واپس لینے سے متعلق ترمیم بھی شامل ہے ۔ مختلف وزارتوں اور محکموں کی گرانٹ مانگوں اور ان سے وابستہ تصرفی بلوں کو ایوان نے پہلے ہی منظور کردیا تھا۔بل کے کئی التزامات اس برس یکم اپریل سے کچھ 5جولائی سے نافذ ہوں گے جبکہ دیگر التزامات میں بیشتر یکم ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے ۔ کچھ التزامات یکم نومبر سے موثر ہوں گے ۔بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اپوزیشن اراکین کے سوالات کا پوائنٹ ٹو پوائنٹ جواب دیا۔ اس دوران وزیراعظم نریندر مودی بھی ایوان میں موجود تھے ۔ محترمہ سیتارمن نے کہاکہ بجٹ کے التزامات کا مقصد کاروبار کو آسان بنانا اور میک ان انڈیا کو فروغ دینے ہے تاکہ ملک کا نوجوان روزگار لینے والا نہیں بلکہ روزگار دینے والا بن سکے ۔بجٹ 5جولائی کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔عام بجٹ پر ایوان میں 17گھنٹے 23منٹ بحث چلی۔ وزارت ریلوے کے ضمنی مطالبات پر 13گھنٹے ، روڈ، ٹرانسپورٹ اور شاہراہ کی وزارت کے ضمنی مطالبات پر سات گھنٹے 44منٹ اور نوجوانوں کے امور اور کھیل وزارت کے ضمنی مطالبات پر چار گھنٹے 14منٹ تک بحث چلی۔ دیہی ترقی اور زراعت اور کسان ویلفیئر کی وزارت کے ضمنی مطالبات پرایک ساتھ بحث ہوئی جو 10گھنٹے 36منٹ چلی۔ دیگر وزارتوں اور محکموں کے ضمنی مطالبات کوبغیر بحث کے ایک ساتھ (گلوٹن) بدھ کو منظور کیا گیا۔مالیاتی بل پربحث کے جوا ب میں محترمہ سیتا رمن نے کہاکہ دو کروڑ روپے اور پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کی سالانہ ذاتی آمدنی پرموثر ٹیکس بڑھانے سے غیرملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کمپنی کے طورپر منظم ایف پی آئی اس کے دائرے میں نہیں آئیں گے ۔ صرف ذاتی سرمایہ کار اور ٹرسٹ ہی اسکے دائرے میں آئیں گے ۔سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ نقد نکالے جانے پر ذریعہ پر ٹیکس لگانے سے چھوٹے چائے باغان مالکان کے متاثر ہونے کی اپوزیشن کی تشویشات کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے تحت ہر مہینہ تقریباََ آٹھ لاکھ روپے نقد نکالا جانا اس التزام سے باہر ہے ، اس لئے چھوٹے چائے باغان مالکانا پر اس کا اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ بڑے چائے باغان مالک زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل ادائیگی کریں۔