تازہ ترین

باغی ممبران اسمبلی کو ایوان میں حاضری کا پابند نہ بنایاجائے : سپریم کورٹ

18 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی// سپریم کورٹ نے بدھ کو ایک اہم عبوری حکم میں واضح کیا کہ کرناٹک کے باغی ممبران اسمبلی کو تحریک اعتمال کے عمل میں حصہ لینے کے لئے پابند نہیں کیا جاجاسکتا ہے ۔تاہم، عدالت عظمی نے دوسری طرف یہ بھی واضح کیا کہ اسمبلی اسپیکر کانگریس اور جنتا دل ( سکیولر) کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفے پر اپنے حساب سے فیصلہ کریں گے اوراس کے لئے کوئی وقت کی میعاد مقرر نہیں کی جا سکتی۔  چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے کانگریس اور جنتا دل (ایس) کے باغی ممبران اسمبلی کی درخواستوں پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ "ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ریاستی اسمبلی کے تمام 15 باغی ممبران اسمبلی کو اگلے حکم تک ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے پابند نہیں کیا جانا چاہئے "۔   جسٹس رنجن گگوئی نے بنچ کی طرف سے حکم سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کو اختیار دیا جانا چاہئے کہ وہ اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لیں یا اس سے باہر رہیں۔  عدالت عظمی نے کہا کہ اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمار کو متعینہ مدت کے اندر باغی اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔  چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں اسپیکر کا کردار اور ذمہ داری پر کئی اہم سوال اٹھے ہیں، جن پر بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔ فی الحال آئینی توازن قائم کرنے کے لئے وہ اپنا عبوری حکم سنا رہے ہیں۔ جسٹس رنجن گگوئی نے باغی اراکین اسمبلی کے استعفے پر اسمبلی اسپیکرکے فیصلے سے عدالت کو مطلع کرنے کی ہدایت بھی دی۔  اس معاملے میں آئینی مسائل کے عدالتی جائزہ کے سوال پر عدالت نے کہا کہ "اس موقع پر آئینی توازن برقرار رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ ایسی صورت میں ہمیں فی الحال عبوری حکم کے ذریعے آئینی توازن بنانا ہوگا۔ اس کے تحت اسمبلی اسپیکر 15 باغی اراکین اسمبلی کے استعفے پر اپنے حساب سے مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے "۔  جسٹس گوگوئی نے کہا کہ "ہمارا خیال ہے کہ موجودہ صورت میں فیصلہ کرتے وقت اسمبلی اسپیکر کی مراعات میں عدالت کی کسی ہدایت یا تبصرے سے خلل نہیں ڈالا جانا چاہئے " ۔  واضح رہے کہ کرناٹک کے باغی ممبران اسمبلی نے اسمبلی کے اسپیکرکی طرف سے ان کا استعفی منظور نہیں کئے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار باغی ممبران اسمبلی کی جانب سے سینئر وکیل مکل روہتگی نے کل آئین کے آرٹیکل 190 کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی تھی کہ اگر کوئی رکن اسمبلی استعفی دیتا ہے تو اسے منظور کیا جانا چاہئے ، یہاں تک کہ اگر اس کے خلاف نااہل ٹھہرائے جانے کا عمل کیوں نہ شروع کیا گیاہو۔  مسٹر روہتگی نے استعفی دینے والے ممبران اسمبلی کی تعداد کم کرنے کے بعد حکومت کے عدم استحکام کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس عدالت کے سامنے اپیل دائر کرنے والے ممبران اسمبلی کی تعداد کم کر دی جائے تو ریاستی حکومت کا گر نا طے ہے ۔ اسی لئے اسپیکر جان بوجھ کر استعفی قبول نہیں کر رہے ہیں۔ اسمبلی اسپیکر کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے دلیل دی تھی کہ نااہل ٹھہرائے جانے کی کارروائی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور اسپیکر پہلے اس پر فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ استعفی دے کر ممبر ان اسمبلی نااہلی کی کارروائی سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس پر جسٹس گگوئی نے مسٹر سنگھوی سے پوچھا تھا کہ اگر ممبران اسمبلی نے استعفی رضاکارانہ طور پر دیا ہے اور وہ 11 جولائی کو اسپیکرکے سامنے پیش بھی ہوئے تھے ، ایسی صورت میں اب استعفی قبول کرنے سے اسپیکرکو کون روک رہا ہے ؟  وزیر اعلی ایچ ڈی کمارسوامي کی جانب سے پیش سینئر وکیل راجیو دھون نے دلیل دی تھی کہ اراکین اسمبلی کے استعفے پر فیصلہ کرنے کا کورٹ کا گزشتہ 11 جولائی کا حکم اپنے دائرہ اختیار کی خلاف ورزی ہے ۔  انہوں نے کہا تھا کہ "یہ عدالت فیصلے کے بعد مداخلت کر سکتی ہے ، نہ کہ اس سے پہلے ۔ اسپیکرکے فیصلہ لینے سے پہلے ہی ان کے حکم کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا"۔  مسٹر دھون نے عدالت کو بتایا تھا کہ اگر وہ ممبران اسمبلی کی درخواست منظور کرتے ہیں تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔   واضح ر ہے کہ پہلے 10 باغی ممبران اسمبلی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، اس کے بعد پانچ دیگر ممبران اسمبلی نے بھی معاملے میں فریق بنائے جانے کی درخواست کی تھی، جسے عدالت نے قبول کر لیا۔اسمبلی میں جمعرات کو کمارسوامي حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ یوا ین آئی