تازہ ترین

ہندوستان اور چین ،سرحد پر امن کیلئے عہدبند :حکومت

18 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 نئی دہلی//وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کو ملک کو نہ صرف ہندوستان اور چین سرحد بلکہ مکمل بین الاقوامی سرحد کی سکیورٹی کے سلسلے میں یقین دلایا اور کہا کہ دونوں ملک سرحد پر امن اور استحکام بنائے رکھنے ے لئے حالیہ معاہدوں کی پابندی کررہے ہیں۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر میں کانگریس کے لیڈر ادھیررنجن چودھری کے ذریعہ ہندوستان چین سرحد پر چھ جولائی کو لداخ کے ڈیم چوک علاقے میں ہوئے واقعہ کا ذکر کئے جانے پر وزیردفاع نے مداخلت کی۔مسٹر سنگھ نے مسٹر چودھری کے ذریعہ اس مسئلے کو اٹھانے پر حیرانی کا اظہارکیا۔اس دوران بیجو جنتا دل کے لیڈر بھرتہری مہتاب نے زور دے کر کہا کہ مکمل ایوان کو وزیراعظم نریندر مودی کی کوششوں اور سفارتی مہموں کی مکمل طورپر حمایت کرنی چاہئے اور اراکین کو ایک سُر میں بات کہنی چاہئے ۔ وزیردفاع نے کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحد پر عام طور پر امن کا ماحول ہے لیکن کبھی کبھی مقامی سطح پر لائن آف کنٹرول کے سلسلے میں اختلاف ہونے کی وجہ سے ناخوشگوار حالات بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو سلجھانے کے لئے باقائدہ نظام بنایاگیا ہے اور دونوں ملک اس کا احترام کرتے ہیں تاکہ سرحد پر امن و استحکام قائم رہے ۔ وزیراعظم نریندرمودی اور صدر شی جنپنگ کے درمیان گزشتہ سال ووہان میں ہوئی باضابطہ چوٹی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ کے دوران دونوں فریق سرحد پر امن واستحکام برقرار رکھنے کی ضرورت کی نشاندہی کی تھی۔دونوں ملکوں نے بعد میں اپنی اپنی افواج کے لئے استراتجک اصول و ضوابط بھی جاری کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ واضح طورپر ایوان کی یقین دہانی کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت قومی سکیورٹی کے مسئلے پر پوری طرح سے حساس ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان چین سرحد کے نزدیک سڑکیں ،سرنگیں ،ریلوے لائنیں اور ہوائی پٹیاں بنائی جارہی ہیں۔جس سے ملک کی سکیورٹی اور اقتدار اعلی کو یقینی بنایا جاسکے ۔وزیر دفاع نے مسٹر چودھری سے کہا کہ انہوں نے ڈیم چوک کا نام پورے موضوع کی وضاحت کئے بغیر ہی دیا ہے ۔ وزیر دفاع کے بعد بی جے ڈی کے لیڈر مسٹر مہتاب نے کہا کہ چین کے صدر 12سے 13 اکتوبر کو وارانسی میں مسٹر مودی کے ساتھ غیر رسمی میٹنگ کے لئے آرہے ہیں۔اس سے پہلے مسٹر مودی امریکہ میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں حصہ لینے جائیں گے تو وہاں ان کی بات صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بننے کے بعد وزیراعظم نریندرمودی کا پہلا کثیر جہتی خطاب جی -20 میٹنگ میں رہا۔مسٹرمودی نے دو سہ طرف میٹنگوں (ایک مسٹر جنپنگ اور روسی صدر ولادیمرپوتن اور دوسری مسٹر ٹرمپ اور جاپان کے وزیراعظم شنزوآبے کے ساتھ)میں حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ ان میٹنگوں اور برکس سے یہ واضح ہے کہ ہمارے حقوق کے درمیان یکسانیت ہے ۔ہم تحفظ پسندی اور یک طرفہ ڈھنگ سے کام کرنے کے خلاف ہیں اور ہم مسئلہ پر مبنی اتحاد کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا ،‘‘ملک کی خارجہ پالیسی کے سلسلے میں سیاسی میدان میں یکسانیت ہونی چاہئے ۔اس لئے میں ایوان سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارے وزیراعظم کے اس سلسلے میں کوششوں کو مکمل حمایت دیں اور ہمیں ایک سُر میں بات کرنی چاہئے ۔یواین آئی۔