تازہ ترین

آدھار کی بنیاد پر راشن کی فراہمی

جب کارڈ بنے ہی نہیں تو فیصلہ قابل اطلاق کیسے؟

17 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سپریم کورٹ کی طرف سے آدھار کارڈ کو لازمی دستاویز قرار نہ دیئے جانے کے باوجود محکمہ خوراک، شہری رسدات وتقسیم کاری کی طرف سے راشن، کھانڈ اور تیل خاکی کی فراہمی کو آدھار کارڈ سے جوڑدیاگیاہے، جس سے بڑی تعداد میں غریب کنبہ جات سرکاری راشن سے محرو م ہوکر بھکمری کاشکار ہوتے جارہے ہیں ۔راشن کارڈوں کو آدھار کارڈ سے منسلک کرنے اور آدھار کی بنیاد پر راشن کی فراہمی محکمہ میںشفافیت کیلئے کوئی برااقدام نہیں ہے لیکن یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ابھی تک سبھی لوگوں کے آدھار کارڈ نہیں بن پائے ہیں جو راشن سے بالکل محروم ہوسکتے ہیں ۔حال ہی میں راجوری کے کوٹرنکہ علاقے کے حکام نے لوگوں کو راشن کارڈ آدھار کارڈ سے منسلک کرنے کی ہدایت جاری کی اور اب ان کنبہ جات کو راشن کی فراہمی روک دی گئی ہے جنہوں نے اپنے آدھار نمبرکا اندراج متعلقہ ڈیلر کے پاس نہیں کروایا۔کئی لوگ اس وجہ سے بھی آدھار اندراج کرانے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ ان کے ابھی تک آدھار کارڈ بنے ہی نہیں جبکہ بہت سے لوگ اس وقت مال مویشیوں کے ہمراہ بالائی علاقوں میں واقع بہکوں میں گئے ہوئے ہیں، وہ بھی راشن سے محروم ہورہے ہیں ۔تحصیل سپلائی افسر کوٹرنکہ کے مطابق کوٹرنکہ میں لگ بھگ 40فیصد لوگوں کے آدھار کارڈ بنے ہی نہیں ہیں اور آدھار بنانے والی ایجنسیاں اپنی ذمہ داریاں پورا نہیں کرپائی ہیں۔علاقے کے 40فیصد لوگوں کے آدھار کارڈ نہ بن پانے سے  اس بات کا اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ کتنی بڑی آبادی کوراشن ، تیل خاکی اور کھانڈسے محروم رکھاجارہاہے۔یہ صرف کوٹرنکہ کا ہی حال نہیں بلکہ ریاست بھر میں ایسی ہی صورتحال درپیش ہے اور ہر ایک علاقے میں سبھی لوگوں کے آدھار کارڈ نہیں بن پائے ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کم قیمتوں پر سرکاری راشن کی فراہمی غریب گھرانوں کو ہی ہوتی ہے اور ان کو راشن و دیگر اشیاء سے محروم رکھ کر بھکمری کاشکار بنایاجارہاہے ۔محکمہ امور صارفین کاآدھار اندراج کی بنیاد پر راشن کی فراہمی کا فیصلہ اپنی جگہ درست ہوسکتاہے لیکن ایسے وقت میں اس کے اطلاق کا کوئی جواز نہیں بنتا ،جب بہت بڑی آبادی آدھار کارڈ سے ہی محروم ہو ۔سب سے پہلے سبھی لوگوں کے آدھار کارڈ بنانے کو یقینی بناناچاہئے تھاجس کے بعد ایسے احکامات پر عمل درآمد کیاجاسکتاہے مگر نہ جانے حکام سب کچھ جاننے کے باوجود بھی کیوں بے تکے فیصلوں پر عمل پیرا ہیں ۔آدھار کارڈ بنوانے کے معاملے میں بھی ایک نہیں بلکہ کئی طرح کی پریشانیاں درپیش ہیں ۔ پہلے پہل تو ٹیمیںہر ایک علاقے میں پہنچ کر یہ کارڈ بناتی تھیں لیکن اس کے بعد تحصیل سطح پر کارڈ بننے کا سلسلہ شروع ہوا اور اب کہیں کہیں آدھار بنانے کا عملہ ہی موجو دنہیں ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ پہاڑی علاقوں میں کبھی انٹرنیٹ خدمات متاثر ہوتی ہیں تو کبھی بجلی کی سپلائی ہی منقطع رہتی ہے جس کے باعث آدھار کارڈ بنوانے والوں کو بار بار چکر کاٹنے پڑجاتے ہیں اورپھر کارڈ جاری ہونے میں بھی کئی کئی مہینے انتظار کرناپڑتاہے ۔سرکاری راشن اور دیگر اشیاء کافائدہ مستحقین کو ہی ملناچاہئے لیکن اس سمت میں لئے جانے والے فیصلوں کے وقت لوازمات کی دستیابی کا خیال رکھا جانا بھی ضروری ہے  ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ آدھا رکارڈ سے محروم کنبوں کو ان کے آدھار اندراج تک پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی راشن اور دیگر اشیاء فراہم کی جائیں اوران کاراشن بند کرکے انہیں فاقہ کشی کاشکار نہ بنایاجائے ۔