تازہ ترین

مزید خبریں

16 جولائی 2019 (40 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک

پی ڈی پی نے یوم تاسیس کے سلسلے میں تیاریوں کا جائزہ لیا

سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی مرکزی قیادت کی ایک میٹنگ میں پارٹی کے کام کاج اور یوم تاسیس منانے کی تیاریوں کا جائزہ لیاگیا۔پارٹی ترجمان کے مطابق پارٹی کے نائب صدر عبدالرحمان ویری کی صدارت میں منعقدہ اس میٹنگ میںپارٹی کے سینئرعہدیدار وں نے شرکت کی ۔ویری نے میٹنگ میں پارٹی عہدیداروں سے زمینی صورتحال اورپارٹی کو سرینگر،گاندربل اور بڈگام اضلاع میں مضبوط بنانے کیلئے کئے گئے اقدامات کی تفاصیل طلب کیں۔انہوں نے پارٹی کا20واں یوم تاسیس جو28جولائی کو منایا جارہا ہے ،کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا ۔ویری نے کارکنوں کی سرگرم شرکت پرزوردیتے ہوئے اس تقریب کو کامیاب بنانے پرزوردیا۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری غلام نبی لون ہانجورہ نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ایجنڈا پر مکمل طور لکاربند رہنے کا عزم دہرایا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی پوری قیادت مرحوم مفتی محمد سعیدکے نقش وقدم پر چلے گی اورریاست کو امن ،خوشحالی اور ترقی کی بلندیوں پرلے جائے گی ۔
 
 
 

عدم شناخت لاش کی پہچان کیلئے لوگوں سے تعاون طلب 

سرینگر// ضلع گاندربل کے ڈار محلہ میں دریائے جہلم سے شادی پورہ پولیس نے ایک شخص کی لاش برآمد کی ہے۔ متوفی نے کالے رنگ کا اپر اور سبز قمیض پہن رکھی تھی ۔ قانونی اور طبی لوازمات پورا کرنے کے بعد نعش کو پولیس کنٹرول روم کشمیر کے مردہ خانے میں شناخت کی خاطر رکھا گیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں دفعہ 174سی آر پی سی کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ اگر کسی کو بھی اس عدم شناخت لاش کی پہچان کے بارے میں کوئی علمیت ہو تو وہ پولیس پوسٹ شادی پورہ کے فون نمبرات 7006767986 9622541127،7006276738یا پھر پولیس کنٹرول روم کشمیر کے ٹول فری نمبر 100پر رابط قائم کرسکتا ہے۔
 
 
 

اونتی پورہ میں165 بار خون کا عطیہ دینے والے شخص کی عزت افزائی

اونتی پورہ//سید اعجاز // پلوامہ کے معروف سماجی کارکن اور165بار خون کا عطیہ دینے والے غمگین مجید ناربلی نامی شخص کی خدمات کو سراہتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے ان کی عزت افزائی کی ہے ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اونتی پورہ محمد اشرف حکاک نے انہیں سرٹیفکیٹ اورایوارڈ سے نوازا۔اس سلسلے میںایک مختصر تقریب منعقد ہوئی جس میں معزز لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پراے ڈی سی نے کہاکہ خون کا ایک قطرہ کسی کی زندگی بچا سکتا ہے اسلئے ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
 
 
 

 نیلم وادی حادثہ اورشمالی و جنوبی کشمیر میں ہوئی تباہی

میرواعظ کا اظہار رنج، ماحولیاتی نظام کو تحفظ فراہم کرنے کی اپیل 

سرینگر// حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے وادی نیلم میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں 30 افراد کے قریب لقمہ اجل بنے افراد، متعدد رہائشی مکانوں و دکانوں کی تباہی اور شمالی و جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں ژالہ باری اور تیز آندھی اور طوفان سے میوہ باغات میںہوئی تباہی اور کھڑی فصلوں کے نقصانات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ عوام کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی اور وابستگی کا اظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں میرواعظ نے کہا کہ زمینی اور آسمانی آفات آزمائش کا سبب بنتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں ماحولیاتی عدم توازن کے نتیجے میں آئے روز موسم کی قہر انگیزیوں سے جس طرح بڑے پیمانے پر بنی نوع انسان کو آزمائش اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ حد درجہ تشویشناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے حضور سربسجودہوکر اپنی خطائوں کی مغفرت طلب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے ماحولیاتی نظام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور ماحولیات کے تئیں یہاں کے حکام اور عوام کی غفلت شعاری حد درجہ تشویشناک ہے۔انہوںنے وادی نیلم میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے تئیں دلی تعزیت، صبر جمیل اورمرحومین کی مغفرت اور جنت نشینی کیلئے دعا کی۔
 
 
 

 رام بن اور بڈگام واقعات

ریاستی خواتین کمیشن نے پولیس سے رپورٹ طلب کی

 سر ینگر//خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ریاستی کمیشن نے رام بن اور بڈگام اضلاع میں پیش آئے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس سلسلے میں رپورٹ طلب کی ہے۔رام بن ضلع میں فائلتی میترہ سے تعلق رکھنے والی ایک دوشیزہ نے مبینہ طور خود سوزی کرنے کی کوشش کی ۔ اس واقعہ میں مذکورہ لڑکی کو90 فیصد جھلس گئیں۔ لڑکی کو اگرچہ ہسپتال میں داخل کیا گیا تا ہم وہ زخموں کی تاب نہ کر چل بسی۔خواتین کمیشن کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بڈگام ضلع میں دو گروپوں کے درمیان تصادم آرائی ہوئی جس میں غیر شناخت شدہ نوجوان ملوث تھے اور یہ معاملہ کمیشن کی نوٹس میں آیا کہ ان نوجوانوں نے طالبات کے فوٹو اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کی کوشش کی۔ان دونوں معاملات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کمیشن نے پولیس حکام سے5 روز کے اندر کاروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔
 
 
 

غریب خواتین کو ملنے والی امداد روک دینا افسوسناک: شمیمہ فردوس

سرینگر//خواتین کیخلاف جرائم میں اضافہ اور حکومتی سطح پر دیئے جانے والے مراعات کو بند کئے جانے پر برہمی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے کہا ہے کہ انتظامیہ میں انتشار اور خلفشار سے وہ ادارے بھی مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں جن کا کام خواتین کو انصاف دلانا ہے۔ایک بیان کے مطابق شمیمہ فردوس صوبہ کشمیر کے ضلع صدور اور بلاک صدور کے ایک اجلاس سے خطاب کررہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں گذشتہ برسوں سے ہر ایک ادارہ بری طرح متاثر ہوا وہاں ریاست کے وہ ادارے بھی تنزلی کا شکار ہوئے جو خواتین کے خلاف جرائم کو روکنے میں کلیدی رول نبھاتے تھے۔ شمیمہ فردوس نے کہا کہ حکومتی سطح پر غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے علاوہ یتیم لڑکیوں کی شادی کیلئے مالی امداد کی جاتی تھی لیکن گورنر انتظامیہ نے اس سہولت کو بھی بند کردیا ہے ، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنراور اُن کے مشیروں کو ذاتی طور پر ان حساس معاملات پر توجہ دینی چاہئے۔
 
 
 

کپوارہ میں آشا ورکروں کا کنونشن

تاریگامی نے ماہانہ معقول مشاہرہ دینے کا مطالبہ کیا

سرینگر//سی پی آئی ایم لیڈر اورسٹیٹ سنٹر آف انڈین ٹریڈ سنٹر(سیٹو)کے ریاستی صدر محمد یوسف تاریگامی نے کہاہے کہ حکومت نے آشاورکروں کو نظراندا زکردیاہے جنہیں ماہانہ معقول مشاہرہ دیاجاناچاہئے ۔ٹائون ہال کپوارہ میں آشاورکروں کے ایک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ یہ ورکر محکمہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے ساتھ امتیازی سلوک ترک کیاجائے ۔اس کنونشن کی صدارت آشاورکر لیڈر جبینہ نے کی جبکہ اس موقعہ پر بڑی تعداد میں آشاکارکنا ن موجود تھیں ۔تاریگامی نے کہاکہ سخت محنت کے باوجود ان ورکروں کو انتہائی قلیل مشاہرہ دینے کا سلسلہ ختم ہوناچاہئے اور انہیں ماہانہ مناسب مشاہرہ ملناچاہئے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ورکر مشکل اور دیہی علاقوں میں محنت اور جانفشانی سے کام کرتی ہیںاور ہر قسم کے چیلنج کا سامنا کرتی ہیں ۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیاکہ وہ ان ورکروں کے جائز مطالبات فی الفور پورے کرے نہیں تو ریاست میں محکمہ صحت کا نظام بری طرح سے متاثر ہوگا۔تاریگامی نے کہاکہ آندھرا پردیش میں ان ورکرو ں کو ماہانہ دس ہزار روپے ، سکم میں چھ ہزار روپے، ہریانہ میں چار ہزار روپے ، کرناٹکہ میں ساڑھے تین ہزار روپے ، مغربی بنگال میں تین ہزار روپے اور کیرلہ میں دو ہزار روپے مشاہرہ دیاجارہاہے اور وہاں کی ریاستی حکومتیں انہیں دیگر سہولیات بھی فراہم کررہی ہیں تاہم جموں وکشمیر میں ان ورکروں کو نظرانداز کردیاگیاہے ۔اس موقعہ پر آشا لیڈران نے متحد ہوکرورکر کش پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کرنے پر زور دیا ۔کنونشن میں قرارداد پاس کی گئی جس میں ان ورکروں کو کم سے کم ماہانہ اجرت 18ہزار روپے فراہم کرنے ، سوشل سیکورٹی سکیموں کافائدہ دینے اور خواتین کی بااختیاری کیلئے اقدامات کرنے کی مانگ کی ۔