تازہ ترین

سابق قیم جماعت غلام قادر لون پر پی ایس اے عائد

16 جولائی 2019 (40 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر// جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے سرکاری فورسز کی جانب سے دوبارہ شروع کی گئی پارٹی لیڈران اور کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور اسے سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق سرکاری فورسز نے وادی بھر میں پارٹی لیڈران اور کارکنان کی گرفتاری کا لامتناہی سلسلہ پھر سے شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں خوف و ڈر کے ماحول نے دوبارہ جنم لیا ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ منگلوار کی صبح کرالہ گنڈ پولیس اسٹیشن نے جماعت کے بزرگ لیڈر اور سابق قیم جماعت غلام قادر لون کو پولیس تھانے پر طلب کیا جہاں انہیں واپس گھر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تھانے میں موجود پولیس افسران نے سابق قیم جماعت کو مطلع کیا کہ ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا جاچکا ہے جس کے بعد آرڈر کی ایک کاپی ان کے ہاتھ میں تھمادی گئی۔سابق قیم جماعت کو بعد میں یہاں سے مٹن جیل منتقل کیا گیا۔موصولہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دوبارہ شروع کئے گئے ہراسانی عمل میں ضلع کپوارہ کے تمام پولیس تھانوں بالخصوص کرالہ گنڈ پولیس اسٹیشن کو متحرک کیا گیا ہے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں اُن افراد کومختلف حیلوں اور بہانوں کے ذریعے طلب کیا جارہا ہے جو پابندی سے قبل جماعت کے پروگرامات میں حصہ لیتے رہیں ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ جب سے حکومت نے جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر بے بنیاد الزامات عائد کرکے اس پر پابندی عائد کی تب سے پارٹی نے تمام قسم کی پرامن اور جمہوری طرز کی سرگرمیوں کو بند کردیا۔ حکومت کے بے بنیاد دعوے کاجماعت عدالت میں مقابلہ کررہی ہے لیکن قانونی چارہ جوئی کے عمل کے دوران ہی سرکاری فورسز نے ایک مرتبہ پھر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا جو کہ سیاسی انتقام گیری کے سوا کچھ بھی نہیں۔جماعت اسلامی نے اقوام عالم سمیت حقوق انسانی کی انجمنوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری فورسز کی جانب سے روا رکھی جارہی پالیسی کا سنجیدہ نوٹس لے کر حقوق کی پامالیوں میں ملوث اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔