تازہ ترین

ناکامی کے اسباب اورکا میابی کے راز

نو آموز

16 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عبداللہ امتیاز احمد
اگر  ہم چاہتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم اپنی کوئی منفرداور مفیدحیثیت منوائیں تو اپنے کم سے کم تیس سال تک اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل تک ہی اکتفا کریں اور اپنی بقیہ کمائی کو قومی اور سماجی منصوبوں میں خرچ کریں۔ ہم نے اپنے اوپریہ ظلم روا رکھا ہے کہ قومی اور عوامی منصوبوں کو کورپشن ، رشوت ، فراڈ اور دوسرے ممکنہ غلط ذرائع سے ذاتی ملکیت میں تبدیل کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اس وقت دنیا میں ذاتی یا نجی ادارے قومی اور عوامی اداروں سے زیادہ دولت مند ہیں اور قومی خزانوں میں غریب عوام کی اہم اور بنیادی ضروریات کا خرچہ بھی میسر نہیں ہے ۔ یہ ہے ہماری حالت زار کی ایک جھلک۔ ہر کسی فرد کی ذاتی ملکیت اس کی ذات اور ا س کے وارثین تک ہی محدود ہوتی ہے جب کہ قومی اور عوامی منصوبوں سے سب لوگ انتفاع کرتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے عوامی اداروں کی دولت لوٹ کے اپنے ذاتی کھاتوں میں جمع کر تے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ ان اداروں میں تعینات ملازم بھی فرائض کی انجام دہی کے بجائے ان کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں اور ان پر اسی طرح کا حق جتاتے ہیں جیسے کوئی اپنی ذاتی ملکیت پر حق جتاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دفاتر میں ایک گھنٹے کا کام ایک ہفتے تک بھی نہیں ہوتا اور ایک ہفتے کا کام ایک مہینہ لیتا ہے اور ایک مہینے کا کام ایک سال سے زائد عرصہ وصولتا ہے ، جب کہ ایک سال پل میں ایک صدی میں بدل جاتا ہے۔ ہمارے ورک کلچر کی یہ ترتیب روز افزوں ترقی پاکرآگے ہی بڑھتی جاتی ہے۔ اس سے ہم خود ہی اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہم اور قوموں سے کتنے پیچھے ہیں۔ عدالتوں اور تھانوں میں دیکھئے کہ تیس تیس چالیس چالیس سال پرانے کیس ابھی تک التواء میں پڑے ہوئے ہیں ، یا تو سنوائی نہیں ہوتی یا کارروائی کہاوتی کچھوے کی چال چلتی ہے۔ 
 دور دراز علاقوں کے سرکاری ہسپتالوں کو ایک نظر دیکھ لیجیے، یہاں مریضوں کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔ چار بجے کے بعد جایئے تو ہسپتال کے عملے کو گویا سانپ سونگھ گیا ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کوئی وجود ہی نظر نہیں آتا ، خدمت گار اور خاکروب ہی اسپشلسٹ کارول نبھاتے ہیں ،یا ایک شعبے میں مہارت رکھنے والا ڈاکٹر تمام ڈاکٹروں کے فرائض انجام دے رہا ہوتا ہے اور تمام قسم کی بیماریوں کی جانچ میں لگا رہتا ہے۔ اوپر سے ہم اُتاؤلا مزاج رکھنے والی قوم ہیں، صبر کے لفظ و مفہوم سے آشنا ہی نہیں۔ نتیجہ شفاخانوں میں شور شرابا، دھکم پیل ، بے نظمی او بد انتظامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہم سب لوگ ایک ڈاکٹر صاحب کو ایسے گھیر لیتے ہیں کہ بھاری رَش کے صلے میں مریض کا علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر صاحب کے خود بیمار ہونے کا خطرہ  بڑھ جاتاہے اور جو مریض ہوتاہے اس بچارے کے مرض میں مزید اضافے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔  عجیب پریشانی یہ بھی لاحق رہتی ہے کہ مریض کو ایک معمولی ٹیسٹ کروانے کے لئے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور کسی ہلکی بیماری کے علاج ومعالجہ کے لئے ہفتوں اسے تڑپنا پڑتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس بات کے شاہد ہوں گے کہ مریض موت کی آغوش میں چلا بھی گیا اور ہسپتال میں آوپریشن کے لئے اس کو بیڈ ملنے کی باری ہی نہ آئی۔ سوال یہ ہے کہ یہاں ہر سال اتنے ڈاکٹر تیار ہو کر کام کے لئے نکلتے ہیں، آخر وہ جاتے کہاں ہیں ؟ انہیں غیر ممالک ہڑپ لیتے ہیں۔ اس میں ایک طرف جہاں ریاست کی سرکار بھی بڑی ذمہ دار ہے‘ وہیں ان ڈاکٹر صاحبان کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ جب ان کے لئے قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت آتا ہے، تووہ مختلف وجوہ سے اپنے وطن سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔ اب جو ڈاکٹر حضرات یہاں ہی رہتے ہیں، ان کی ترجیح مالدا ری ہوتی ہے۔ وہ زیادہ تر اپنے ذاتی کلنک کھول کر پیسے کمانے میں لگ جاتے ہیں۔ الا ماشااللہ۔ خدمت سے خودداری کا جذبہ ہماری زندگیوں سے نکل کر اب جے کے بنک کے پوسٹروں کی زینت بن کر رہ گیا ہے۔ ہمارے ڈاکٹر صاحبان مختلف جگہوں پر اپنے اپنے کلنک کھولنے کے بجائے اگر کچھ اچھی جگہوں بالخصوص ضلعی صدر مقامات پر اپنے ذاتی چھوٹے موٹے اسپتال تعمیر کرتے تو یہ زیادہ بہتر رہتا۔ مریض کہتے ہی ہیں اس انسان کو ہے جو اپنی صحت کی ناسازی سے عاجز آچکا ہو۔ اس مریض کو اپنے مرض کی وجہ سے جہاں آرام اور سہولت پہنچنا چاہیے تھی،وہاں وہ زیادہ تر اذیت اور تکلیف ورنج وغم میں بلک رہا ہوتا ہے۔ اس کو در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ اگر چہ وہ غریب کمائی سے قاصر رہتا ہے مگر اپنے مرض کا بوجھ ڈھونے کے سبب اس کے طبی اخراجات بے حد وحساب بڑ ھ جاتے ہیں۔ پھر بعض ڈاکٹر صاحبان کی تجویز کردہ دوائیوں کا بھی ایک الگ قصہ ہوتا ہے، جو ہم سب پر عیاں ہے۔ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر صحت جیسی اہم نعمت کو ہم نے یوں پس پشت کیوں ڈال رکھا ہے؟ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات بالخصوص دوائیوں کا فقدان کیوں رہتاہے؟ ہم فرض شناس داکٹروں کی ناقدری کر کے انہیں کیوں ترکِ وطن پر مجبور کر تے ہیں ؟
ایک آسودہ حال گھرانے کے ایک صاحب سے میری حال ہی میں ملاقات ہوئی ۔ یہ صاحب اب امریکہ میں مقیم ہیں اور وہاں طبی شعبے میں اعلیٰ پیمانے کا کام کر رہے ہیں۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ آپ کی قابلیتوں سے استفادے کی زیادہ مستحق آپ کی قوم ہے ۔ کیا ہی بہتر رہتا  اگر آپ یہاں پر ہی جدید سہولیات سے لیس ایک معیاری شفا خانہ تعمیر کرتے۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی اگر یہاں کا ماحول سازگار ہوتا۔ انہوں نے سرد آہ بھر کر کہا کہ میں نے اس ضمن میں بہت کوشش کی لیکن یہاں پر افسرشاہی کی مداخلتیں اور ہر کام  میںسیاسی عمل دخل اتنا زیادہ ہے کہ کوئی خیراتی اور غیر سیاسی کام بھی سیاست اور سیاست دانوں کی نذر ہو کر ہی رہ جاتا ہے۔ میں نے اس نکتے کی توضیح چاہی تو انہوں نے کہا کہ کچھ وزراء کی مجھ سے مانگ یہ تک تھی کہ اجازت تبھی ملے گی اگر مجوزہ ہسپتال میں ہمارا شیئر بھی رکھا جائے یعنی سرکاری لوگوں کو مان نہ مان میں تیرا مہمان کے مصداق شرا کت دار بنایا جائے تو ہر کام چٹکیوں میں ہونا قدرتی امر ہے۔ بہر حال یہ چیزیں ایسے ڈاکٹر صاحبان کی حوصلہ شکنی نہ کریں تو اور کیا ہوگا ؟ سرکاری دفاتر میں سہولیات کے فقدان ، کام کی رُکاوٹ اور بلا وجہ پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ضمن میں ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ادارے قومی اور عوامی میراث ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان پر قوم کے ہر فرد کا برابر کا حق ہے۔ ان کو اسی تناظر میں کام کرنے کی آزادی فراہم کی جانی چاہیے جن مقاصد کے لئے اُن کو بنایا گیا ہے اور انہیں اپنے مقررہ مقاصد کے تکمیل کے لئے ہی کام کرنا چاہیے تاکہ یہ مصیبت زدہ قوم کچھ آسائش کے پل بھی بھی دیکھ لے۔ سرکاری ملازمین کو خاص کر یہ بات زیر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ یہاں عوام کی خدمت کے لئے مامور کئے گئے ہیں ،ان کا مقصد وجود لوگوں کو سہولیات پہنچانا ہے، قوم ی خزانے کی طرف سے انہیں اسی کا معاوضہ ملتا ہے نہ کہ لوگوں کو لوٹنے ، ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور انہیں تکلیف پہنچانے پر وہ لوگ ملازمت میں لئے گئے ہیں ۔ ہاں عوام الناس کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ملازم بھی آخر کار انسا ن ہوتے ہیں ، کوئی مشینیں نہیں ۔ لہٰذان کے ساتھ انسانوں سا سلوک اور اچھا برتاؤ کر نے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، غلاموں جیسا نہیں۔ ہمارے تمام مسائل کا حل فرض شناسی ، روشن ضمیری ، آپسی سوجھ بوجھ ، ورک کلچر کی دُرستگی اور افہام و تفہیم کی صحت مند روایت اپنانے میں مضمر ہے ہمارے اداروں کی حالت انہی کے ذریعے سدھر سکتی ہے اور بدلے میں یہی ادارے ہماری حالت سدھارنے کا باعث بنیں گے۔ ان شاء اللہ مگر شرط یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی سطح پر ذہن کے دریچے اور دل کے دروازے کھول دیں ۔
فون نمبر 9797289295
