تازہ ترین

شجرکاری مہم کتنی مؤثر ؟

16 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 ’گرین جموں وکشمیر ‘کے تحت ریاستی گورنرستیہ پال ملک کی طرف سے ایک ہفتہ قبل شجرکاری مہم شروع کی گئی ہے اور جسکے تحت جون 2020تک ریاست بھر میںمختلف اقسام کے 50لاکھ پیڑ پودے اگانے کا ہدف مقرر ہواہے ۔دنیا بھر کی طرح ریاست میں بھی بگڑتے ماحولیاتی توازن کودیکھتے ہوئے ایسی مہم کوقابل سراہنا اقدام سمجھاجاناچاہئے، لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ضرور ت ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کئی مہم چلیں اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی تاہم بدقسمتی سے ان سے کوئی ثمر آور نتائج برآمد نہیں ہوئے اور صرف اور صرف خزانہ عامرہ پر اضافی بوجھ ہی پڑ گیا۔ایسی کسی بھی مہم سے زیادہ اہم اگائے جانے والے پودوں کا تحفظ ہے جس کی طرف آج تک محکمہ جنگلات کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔عام طور پر یہ دیکھاجاتاہے کہ محکمہ جنگلات کی طرف سے ہر سال بارشوں کے دوران بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم چلائی جاتی ہے اورمحکمہ تعلیم و دیگر محکموں کے تعاون سے جگہ جگہ پودے اُگاکر ان کی تشہیر بھی کی جاتی ہے لیکن پھر ان پودوں کی طرف مڑ کر دیکھاتک نہیں جاتا جس کے نتیجہ میں یاتو انہیں بھیڑ بکریاں نوچ لیتی ہیں یاپھر کچھ عناصر زمین پر قبضہ کے مقصد سے ان نوزائدہ پیڑ پودوں کواُگنے سے قبل ہی اکھاڑ دیتے ہیں اور کچھ خشک سالی سے مرجھاجاتے ہیں ۔محکمہ جنگلات کی طرف سے بہت سی جگہوں پر نئے اینکلوژر بھی بنائے جاتے ہیں مگردیکھ ریکھ کا کوئی معقول نظام نہ ہونے کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ بعد ان کا نام و نشان مٹ جاتاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست میں جنگلات مسلسل سکڑتے جارہے ہیں اور جنگل چوروں کی جانب سے سبز سونے کی بے دریغ طریقہ سے کٹائی کرکے ہزاروں کنال اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس سے نہ صرف قدرتی خوبصورتی متاثر ہوتی جارہی ہے بلکہ ماحولیاتی تواز ن بھی بگڑرہاہے اوراسی کا نتیجہ ہے کہ کبھی بارشیں وقت پر نہیں ہوتیں اور کبھی بے وقت بارشیں اس قدر شدید ہوتی ہیں کہ سیلابی صورتحال کا سامنا کرناپڑجاتاہے ۔اسی طرح سے برفباری بھی کبھی بے وقت اپنی سفید پرت بچھادیتی ہے اور گلیشئرمسلسل کم ہوتے جارہے ہیں ۔موسمی تغیرو تبدل بھی جنگلات کی کٹائی کا ہی نتیجہ ہے ۔ساتھ ہی کئی علاقوں میں پانی کی کمی کاسامنا بھی کرناپڑرہاہے اور بیشتر قدرتی آبی ذخائر خشک ہوچکے ہیں ۔ایسے حالات میں 50ہزار نئے پیڑ پودوں کی شجرکاری حالیہ برسوں کے دوران جنگلات کی بڑے پیمانے پر ہونیوالی کٹائی کی کچھ حد تک بھرپائی کرسکتی ہے لیکن ایسا اسی صورت میں ممکن ہوسکتاہے جب محکمہ جنگلات کی طرف سے ان نئے پیڑ پودوں کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے گا اور اینکلوژروں کی مناسب دیکھ ریکھ کی جائے گی،نہیں تو یہ مہم بھی ماضی میں اس سمت میں چلائی جاچکی مہمات کی طرح ناکامی سے دوچار ہوگی اور طے شدہ ہدف کے مطابق کروڑوں روپے خرچ کرکے50لاکھ پیڑ پودے لگاتو دیئے جائیںگے مگر ایک سال بعد ہی ان میں سے کوئی کوئی بچا ہوگا۔یقینایہ مہم سود مند ہے لیکن اسے کامیاب بنانے کیلئے جہاں سرکاری سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے وہیں عوام کو بھی تعاون دیناہوگا۔امید کی جانی چاہئے کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ گورنر انتظامیہ ان نئے پیڑ پودوں کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات کر ے گی اور انہیں تباہ ہونے کیلئے نہیں چھوڑ دیاجائے گااور متعلقہ حکام کو ان کے فرائض کے تئیں جوابدہ بنایاجائے گا۔