تازہ ترین

مزید خبرں

16 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 شیعہ فیڈریشن جموں نے فاروق خان کی تقرری کا خیر مقدم کیا

جموں//شیعہ فیڈریشن جموںنے فاروق خان کی ریاستی گورنر کے صلاح کار تقرری کو سرہاتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے اقلیتی طبقہ کے دیرینہ مسائل حل کئے جانے کی امید جاگی ہے ۔ٖفیڈریشن کے پریس بیان میںکہا گیا ہے کہ فاروق خان جموںضلع سے تعلق رکھتے ہیں،ان کو اقلیتی طبقہ کے دیرینہ مسائل کی پوری جانکاری ہے ۔وہ اس ضلع میںپلے بڑھے ہیں،اسلئے ہر بات کو باریکی سے جانتے ہیںاور ہر معاملہ کی سچائی سے باخبر ہیں۔مزید کہا کہ پولیس محکمہ میںاعلی عہدوںپر فائزہونے کے دوران انہوںنے بیشتر سروس کشمیر میںکی ،اسلئے وہ کشمیر کے حالات اور اس کے مسائل سے واقف ہیں،پریس بیان کے مطابق خان نے دوران سروس کافی قابل سراہنا کام سر انجام دئے ۔ فیڈریشن نے امید ظاہر کی کہ خانہ بدوش گجر بکروالوںکے مسائل ہوں،سرحدی لوگوںکے مسائل ہوں ،یا حالات میںبہتری لانے اور جموںکے اقلیتی طبقہ کے ساتھ ہوئے سوتیلے سلوک کے مسائل ہوںخان کے سامنے ساری تصویرہے ،فیڈریشن نے کہا ہے کہ فاروق خان کے وسیع تجربہ سے فائدہ اٹھانے کیلئے مرکزی سرکار نے انہیںریاستی گورنرکا صلا ح کار نامزد کیاہے ۔فیڈریشن نے اس امید کا اظہار کیاہے کہ شرنارتھیوںکو حقوق دلانے اور اقلیتی طبقہ کے حقوق کی نگہبانی میںخان کا کردار اہم رہنے والا ہے ،امید کی جانی چاہئے کہ کشمیر ا یک بار پھر 89 سے پہلے کاخوبصور ت کشمیر دیکھنے کو ملے گا ۔اسلئے فیڈریشن نے مرکزی سرکار کے اس اقدام کی سراہنا کرتے ہوئے حالات میںبہتری کی توقع ظاہر کی ہے ،خان کی تقرری کا خیر مقد م کرنے والوںمیںصدر شیعہ فیڈریشن عاشق حسین خان ،سینئر وائس صدر شیخ سجاد حسین پونچھی ،فدا حسین رضوی چیف ترجمان ،نائب صدر بشیر حسن میر ،جنرل سیکریٹری خورشید حسین شاہ ،سیکریٹری سید منان حیدر،ذیشان علی خان ایڈووکیٹ ،غلام محمد گنائی ضلع صدر ،شبیر حسین ڈار ،اصغر علی میر ،ڈاکٹر  امبر سرنکوٹ ،مشتاق حسین جعفری سانگلہ ،اعظم حسین شاہ سرنکوٹ ،محمد تقی جعفری ،مظفر حسین شاہ گورسائی ،زمان حسین شاہ گورسائی اور محمد شکیل بٹھنڈی شامل تھے۔
 

ملٹری اسٹیشن نگروٹہ میں شجر کاری مہم کااہتمام 

جموں //فوج کی جانب سے ملٹری اسٹیشن نگروٹہ میں علاقہ کو سر سبز بنانے کیلئے اور فوجی اہلکاروںاور انکے اہل خانہ میںماحولیا ت کے تحفظ سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے شجر کاری مہم کا اہتمام کیا ۔شجر کاری مہم کا مقصد شرکا کو کرہ ارض کو سر سبز اور شفاف رکھنے کیلئے اپنی سماجی اور ماحولیاتی ذمہ واریوںکے متعلق بیداری پیدا کرنا تھا۔پروگرام کے دوران کافی تعداد میں پھل دار درخت، سایہ دار درخت اور زیبائشی پودے لگائے گئے۔پروگرام میں تباہ ماحولیاتی علاقوں میںشجر کاری مہم پر توجہ دینے کی کوششوں اور ملٹری اسٹیشن میں بہترین وائلڈ لائف منیجمنٹ پر زور دیا۔اس موقعہ پر شرکا کو ماحول کو صاف و شفاف رکھنے کیلئے درخت لگانے کی اہمیت پر بھی جانکاری دی گئی۔اس موقعہ پر شرکا نے پودوں کو تحفظ دینے کی حلف بھی لی ۔س موقعہ پر شرکا کو ماحول کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنا کردار نبھانے کی حوصلہ ا فزائی کی گئی۔شرکا نے ماحول کو صاف و شفاف بنانے میں شجر کاری میں بھی حصہ لیا۔
 
 

ترن اپل مہاراشٹر رتن گورو پرسکار2019سے سرفراز

جموں //سر زمین وطن کے ایک سپوت و سماجی کارکن ترن اپل کو لوکشاہر انبھو ساتھے سنسکرتک کالا رنگ مندر،پونے ایوارڈ سے سرفرز کیا گیا ہے  ۔ ایک پریس بیان کے مطابق اُنہیںیہ ایوارڈ پونے میں منعقدہ ایک تقریب پر عطا کیا گیا،جس کا اہتمام شالنی فائونڈیشن کے بانی وشال گوڑ نے حقوق انسانی کونشل آف انڈیا کے اشتراک سے کیا تھا۔زندگی کے مختلف شعبوں کے لوگوں جیسے کہ ایکٹروں ،سماجی کارکنوں ، سیاست دانوں اور گلو کاروں نے اس تقریب میں شرکت کی۔ترن اپل کا نام سماجی کام کے شعبہ اور نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے شعبہ میں اہم کام انجام دینے کیلئے نامزد کیا گیا تھا ،جنھوں نے گذشتہ کئی برسوں سے ملک بھر میں لوگوں کی بھلائی کیلئے کافی کام کیا ہے۔انہوں نے اپنی ریاست کے نوجوانوں کی بھلائی کے لئے انہیں قومی اور بین الاقوامی پروگراموں میں شرکت کرنے کیلئے پلیٹ فارم مہیا کیا۔ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ایوارڈ حاصل کرنا انکے لئے ایک عظیم حصولیابی ہے جس کے لئے انہوں نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ،جنھوں نے انہیں اس سفر میں آگے بڑھنے کیلئے مدد کی۔قابل ذکر ہے کہ ترن اپل نے منشیا ت کے مضر اثرات کیلئے بیداری پیدا کرنے کیلئے مہم میں تیزی لائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بدعت میں بد دیانت عنصر ملوث ہیں اور اس بدعت سے سماج کو پاک بنانے میں سماج کے ہر ایک طبقہ کا تعاون طلب کیا ہے۔انہوں نے نوجوانوں سے منشیات کی راہ ترک کرنے اور اپنی توانائی تعمیری کاموں میں صرف کرنے کی اپیل کی۔
 

ٹریفک خلاف ورزی کے بغیر گاڑیوں کو نہ روکنے کے فیصلہ کی سراہنا

نیوز ڈیسک
 
جموں // جموں ویسٹ اسمبلی مومنٹ کے صدر سنیل ڈمپل نے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے بغیر ٹریفک خلاف ورزیاںیعنی کہ بغیر ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ یا ٹریفک لائٹ کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو نہ روکنے کے حکم کی سراہنا کی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے اس حکم کو قابل ستائش حکم قرار دیا اور کہا کہ اس سے لوگوںکو بڑی را حت ملے گی جنھیں اس تپتی گرمی میں سڑکوں پر انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ پریس بیان میں انہوں نے آئی جی پولیس ایم کے سنہا اور آئی جی ٹریفک آلوک کمارسے اس حکم کو فوری طور لاگو کرنے کی گُذراش کی ہے۔ انہوں نے مبینہ الزام لگایا کہ ٹریفک چیکنگ کے بہانے پر لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک چیکنگ کی وجہ سے طلاب ،ملازمین و بیماروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے امبپھلا، جانی پور ہائی کورٹ روڈ پر ٹریفک جام سے نمٹنے کیلئے فلائی اور تعمیر کرنے پر کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے امبپھلا، جانی پور ہائی کورٹ روڈ ،روپ نگر ،بن تالاب ،کوٹ بھلوال سے اکھنور تک رنگ روڈ  اور چار گلیار سرکیولر روڈتعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا،تاکہ اس علاقے میں ٹریفک مسلہ سے نمٹا جا سکے۔
 

کااجلاس بے گھر ہوئے کشمیری پنڈتوں کی JTC/SKF 

باز آبادکاری پرزور
جموں //جگتی ٹینمنٹ کمیٹی کی جانب سے زیر قیادت پیارے لعل ٹھسو جگتی کیمپ  پیر کے روز ایک اجلاس منعقد کیا گیا ۔ایک بیان کے مطابق اجلاس میںبے گھر ہوئے کشمیری پنڈتوں کی باز آبادکاری کے مسئلہ پر سیر بحث کی گئی۔JTC/SKF کے صدر شادی لعل پنڈتا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے کشمیری مائیگرنٹوں کی مستقل بازآباد کاری کیلئے میں دئے گئے بیان کا خیر مقدم کیا۔ اجلاس میں ممبران نے کہا کہ انہوں نے وادی میں تین ٹاون شپ سرنیگر ،بارہمولہ اور اننت ناگ اضلاع میں قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے،جہاں پر متعلقہ اضلاع کے کشمیری پنڈتوں کو بسایا جا سکتا ہے۔۔انہوں نے طبقہ کیلئے سیاسی ریزرویشن اور اقلیتی طبقہ کا درجہ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے راج کمار تکو اور سنیل کول نے سرکار سے مائیگرنٹوں کی  وادی میں چھوڑی گئی جائیدا کا سالانہ4لاکھ روپے کا ایکس گریشیا جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔اسکے علاوہ ماہانہ ریلیف میں اضافہ کرکے اسے  25000/ روپے کرنے  اور وزیر اعظم پیکیج کو پورا کرنے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے 10,000 ۔اسامیاں اور درجہ چہارم کی3000 اضافی اسامیاں منظور کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔اجلاس میں وادی میں چھوڑی گئی زمین اور جائیداد پر سے مبینہ ناجائز قبضہ ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔