تازہ ترین

پیشہ وارانہ تعلیم | سنجیدہ اقدامات کرنیکی ضرورت

14 جولائی 2019 (21 : 10 PM)   
(      )

نیو ڈسک
ریاست میں پیشہ وارانہ تعلیم کو فروغ دینے کیلئے بیشتراضلاع میں پالی ٹیکنک کالجوں کا قیام عمل میں لایاگیاہے جہاں پچھلے کئی برسوں سے مختلف کورسز کی تعلیم دی بھی جاری ہے تاہم یہ اہم ادارے بنیادی ڈھانچے اورتدریسی عملے کی عدم دستیابی کے باعث برائے نام بن کررہ گئے ہیں ۔ہر سال بورڈ آف پروفیشنل ایگزامی نیشن کی طرف سے ڈپلومہ اور ڈگری کورسز کیلئے انٹرنس ٹیسٹ منعقد کیاجاتاہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء منتخب ہوتے ہیں ۔اس بار بھی ڈپلومہ کورسز کیلئے منعقد ہونیوالے انٹرنس ٹیسٹ میں ڈھائی ہزار سے زائد طلاب کا انتخاب کیاگیا جن میں سے بیشتر نے کونسلنگ کے بعدمختلف پیشہ وارانہ کورسز میں داخلے بھی لئے ہیں۔پالی ٹیکنک کالجز میں داخلہ لینے والے طلاب کو ایک نہیںبلکہ کئی طرح کی مشکلا ت کاسامناکرناپڑتاہے ۔ بیشتر کالجوں میں نہ تو انہیں ہوسٹل کی سہولت ملتی ہے اور نہ ہی مناسب تعداد میں تدریسی عملہ تعینات ہوتاہے جس کا اثر ان کی تعلیم پر پڑتاہے اور نتیجہ کے طور پر کئی طلباء یہ پیشہ وارانہ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔جموں اور سرینگر کے علاوہ بقیہ اضلاع میں قائم ہونیوالے کالجوں میں ابھی تک عمارتیں بھی مکمل نہیں ہوپائی ہیںجبکہ دیگر سہولیات کا حال تو بیان سے باہر ہے ۔ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ دور دراز اور پہاڑی اضلاع کے طلباء کو کچھ پریکٹیکل کرنے کیلئے جموں کے کالجوں میں جاناپڑتاہے کیونکہ انہیں مقامی سطح پر اس کی سہولت میسر نہیں ہے ۔تاہم سب سے بڑی مشکل عمارتوں کاکئی برسوں سے نامکمل پڑے رہناہے ۔پالی ٹیکنک کالجوں کی تعمیر کا جائزہ لینے کیلئے حال ہی میں گورنر کے مشیر خورشید گنائی کی قیادت میں افسران کی ایک میٹنگ بھی منعقد ہوئی جس میں یہ ہدف مقرر کیاگیاکہ نومبر 2019تک تمام کالجوں کی عمارتیں مکمل کی جائیں گی لیکن دیکھنے والی بات یہی ہوگی کہ مقرر ہ ہدف کے حصول میں کس درجہ عمل ہوتاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 18کالجوں میں سے 10کا کام جموں وکشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن ، 6کا کام تعمیرات عامہ اور ایک ایک کالج کی تعمیر کا کام اسلامک یونیورسٹی اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کو تفویض کیا گیا ہے۔حکومت کی طرف سے ہر ایک کالج کی تعمیر کیلئے 13کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایاگیاتھا۔بدقسمتی سے حکام کی طرف سے اب تک پیشہ وارانہ تعلیم کے فروغ کیلئے کام چلائو پالیسی پر عمل ہوتا رہاہے اور اسی کانتیجہ ہے کہ اتنے سارے کالج ہونے کے باوجود والدین اپنے بچوں کو دیگر ریاستوں میں چل رہے پرائیویٹ کالجوں سے کورسز کرانے پر مجبور ہیں، جس پر انہیں لاکھوں روپے کا خرچہ برداشت کرناپڑتاہے۔پیشہ وارانہ اورتکنیکی تعلیم موجودہ دنیا کی ایک اہم ضرورت ہے اور ریاست جموں وکشمیر میں بھی اس کا فروغ نوجوان نسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس سے ان کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ضرورت کے مطابق مزید کالجوں کا قیام عمل میں لایاجائے اورپہلے سے چل رہے پالی ٹیکنک کالجوں میں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور تدریسی عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایاجائے ۔خاص طور پر طلاب کو کلاسزکیلئے عمارت اور قیام وطعا م کیلئے ہوسٹل کی سہولت ملنی چاہئے ۔امید کی جانی چاہئے کہ گورنر انتظامیہ اس حوالے سے مزید سنجیدگی اور صدق دلی سے اقدامات کرے گی تاکہ ریاست میں پیشہ وارانہ طرز تعلیم کو حقیقی معنوں میں فروغ حاصل ہوسکے اور ایک غریب شخص قرض اٹھاکر اپنے بچے کو تعلیم کیلئے بیرون ریاست بھیجنے پر مجبور نہ ہو ۔