تازہ ترین

کو رپشن ایک مہلک ناسور!

13 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

  ریاستی گورنر ستیہ پال ملک پہلے دن سے کورپشن کو ریاست کاسب سے بڑا سنگین مسئلہ بتلا کر دُکھتی رگ پر انگلی رکھتے چلے آئے ہیں۔ انہوں نے بارہا اس نا سور کو ختم کر نے کا اپنا عزم بالجزم باندھا جس کا سنجیدہ اور مخلص لوگ ہمیشہ سراہنا کرتے ہیں۔ اب زمانے کی نگاہیں بڑی بے صبری کے ساتھ منتظر ہیں کہ کن گورنر اپنے اس نیک عزم کو مکمل طور عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ لوگ باگ چاہتے ہیں کہ بدعنوان عناصر کا یوم ِ حساب آنا چاہیے ۔ اس میں کوئی رتی بھر بھی شک نہیں کہ ریاست میں بد عنوانیوں کا گھنا جنگل پھل پھول رہاہے مگر یہ جنگل کسی آسمان سے نہیں اُترا بلکہ اسی سرزمین میں پہلے  خود غرضانہ سیاست نے اس کی تخم ریزی کی ، افسر شاہی نے اس کی آب پاشی کی ، سیاسی کلچر نے اس کو سر سبز وشاداب رکھا اور اب یہ اپنے کڑوے کسیلے پھل پورے سماج کی جھولی میں ڈالتا جارہاہے ۔ سچ مچ کورپشن کے سمندر میں جن بڑے بڑے مگرمچھوں نے سرکاری خزانوں کونگل ڈالاوہ بقول گورنر ملک شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، ریاست کے ا ندر اور باہر بڑے محلات کے مالک ہیں ، موٹے موٹے بنک کھاتہ دار ہیں اورغریب ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب ترہورہے ہیں ۔ ان لٹیروں کا احتساب ہو نا وقت کی اذان ہے ۔ کور پشن کے جا ن لیوا ناسورکے خلاف وزیراعظم مودی نے بھی ملکی عوام کو ایک حتمی اور فیصلہ کن جنگ لڑنے کی یقین دہانیاں دیں مگر پھر بھی نیرو مودی ، للت مودی ، وجے مالیہ جیسی کہانیاں بنتی رہیں ۔ نوٹ بندی کامقصد بھی کورپشن کے خلاف جنگ بتایا گیامگر سکہ بدلی کے باوجود بھی بدعنوانیاں پھلتی پھولتی رہیں ۔ اس لئے سوال یہ بنتا ہے آیا کورپشن یا کالے دھن کے خاتمے کا خواب محض قانونی اور انتظامی سطح کی تیز طرار کارروائیوں سے حقیقت کا روپ دھار سکے گا ؟ کہیں اس خواب کو شر مندہ ٔ  تعبیر کر نے کے لئے ضمیر اور خمیر کے محاذپر کام کرنے کی اشد ضرورت تو نہیں ؟ مودی جی نے ۲۰۱۴ء میںا پنی انتخابی مہم کے دوران قوم کو کالے دھن اور کورپشن کو جڑ سے اُکھاڑ پھنکنے کے لگاتار وعدے دئے مگر اس بیماری کو جنم دینے والے جرثومے آج بھی جوں کے توں زندہ ہیں ۔ بنابریںآج بھی ماضی کی طرح سرکاری خزانوں کی لوٹ کھسوٹ شدو مد سے جاری ہے ۔ کچھ بر س قبل انا ہزارے اور کیجروال نے مل کر بھرشٹاچار مخالف تحریک اتنے زور وشور سے چلائی کہ وقت کی کانگریس سرکارکا ناطقہ بند ہوا ۔ اس آندولن کو مقبولیت کے نصف النہار پر پہنچا کر کیجروال نے اپنی عام آدمی پارٹی بنا ڈالی اور کانگریس کی شیلا ڈکشٹ سرکار کو ہی چلتا نہ کیا بلکہ بھاجپا کو بھی دلی میں سیاسی طور بے دست وپا کر کے رکھ چھوڑا لیکن کیا آج کی تار یخ میں وہ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اب ’’آپ‘‘ کے اقتدار میں دلی صد فی صدکورپشن فری ہے ؟ ذرا سا پیچھے جاکر دیکھئے تو نظر آئے گا کہ بدعنوانیوں کے سلگتے موضوع پر وقت کی کانگریس حکومت( یو پی اے )اور وقت کی اپوزیشن بھاجپا نے لوک پال بل اتفاق ِ رائے سے منظور کیا مگر کیااس کورپشن مخالف تاریخی مسودۂ قانون سے بھرشٹاچار کا بال بیکا ہو ا؟ لوک پال بل کو قانون بنوانے میں انا ہزارے نے پارلیمنٹ کے باہر ایک کلیدی رول ادا کیا تھا لیکن کیا وہ متعدد اَنشن (بھوک ہڑتال) کے بعد آج دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اُن کے من کی مراد پوری ہوئی؟ قطعاً نہیں ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ہر قبیل وقماش کے رنگے سیار اور پرانے پاپی انسداد ِ بدعنوانی قوانین کی آنکھوں میں دُھول جھونکتے ہوئے   نہ ہاتھ کی صفائیاں چھوڑنے پر تیار ہیں اور نہ بد عنوانیاں کو ترک کر نے پر راضی ۔ وجہ یہ ہے کہ لاکھ رکاوٹوں کے باوجودسیاست اور بیوروکریسی جیسے خدمت خلق اللہ کے شعبوں میں ایسے منجھے ہوئے کھلاڑی لا محالہ گھس ہی جاتے ہیں جو کورپشن کے عادی مجرم ہوتے ہیں اور جنہیں قانون کا ڈنڈا کسی صورت زیر نہیں کر سکتا۔ ان ماہر چور اُچکوں کے لئے خزانہ ٔ عامرہ کو دو دو ہاتھ لوٹنا ہر دور میں بائیں ہاتھ کا کھیل رہا ہے ۔اس پر مستزاد یہ کہ ووٹ بنک سیاست کے چلتے اُنہیں غیبی ہاتھوں کی آشیرباد کسی نہ کسی صورت حاصل ہوتی ہی رہتی ہے ۔ آج تک جتنے بڑے بڑے غبن گھوٹالوں کی کہانیاں منظر عام پر آئی ہیں ، اُن میں یاتو سیاست کار بذات ِخود ملوث پائے گئے یا ان کے چیلے چانٹے، اور یہ سب دُز دان ِ دلاور ایسے مجرمانہ کام کر نے میں کوئی پس وپیش نہیں کر تے ۔ ان کی کالی کرتوتیں اس قدر زبان زد عام ہیں کہ آج کی تاریخ میں کسی سیاست دان یا اونچے سرکاری عہدیدار کے بارے میںخواب وخیال میں بھی گمان نہیں کیا جا سکتا کہ ا س نے اپنے اختیارات کانا جا ئز فائدہ اُٹھاکر کوئی نہ کوئی گل نہ کھلائے ہوں ، اس نے کورپشن کے بل پرغریب عوام کی پیٹھ میں چھرا نہ گھونپا ہو ، اس نے عوامی مفاد کی ا سکیموں کا گلا گھونٹ کر سرکاری خزانے کو نچوڑ کر اپنی خفیہ تجور یاں نہ بھری ہوں۔ اسی لئے آئے دن نئے نئے غبن گھوٹالے طشت اَزبام ہو کر پرانے گھوٹالوں کو مات دیتے رہتے ہیں ۔ لوٹ پاٹھ کی یہ سر گزشتیں ہر باشعورشہری کو یہی باور کراتے ہیں کہ اس کے اوپر جو لوگ منصب داروں کی حیثیت سے مسلط ہیں ، وہ صرف سرکاری خزانے کو چونا لگا نے کے لئے کرسیوں پر بیٹھے ہیں نہ کہ کسی خدمت خلق کے لئے، الا ماشاء اللہ۔ حد یہ کہ ہمارے یہاں ایک موقع پر کر گل جنگ میں فوجی تابوتوں کی دلالیاں کھانے اور سیاچن میں نقلی معرکوں کی ویڈیو گرافیوں کے انکشافات بھی ہوتے رہے ۔ انہی حوالوں سے ایک موقع پر آدرش اَپارٹمنٹ ممبئی ایسے بدنام زماں اسکنڈلز کی دُھوم یا جسٹس (ریٹائرڈ) اے کے گنگولی کا بد نام زماں قصہ بھی ہمارے لئے چشم کشا بنے ۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں عام آدمی سر پیٹ کر نہ رہ جا ئے تو اور کیا کرے؟ وہ مایوسی کے عالم میں یقین رکھتا ہے کہ اربابِ حل وعقد کی جانب سے کورپشن مخالف وعدے وعید ، اَنٹی کورپشن اداروں کے چھاپے، نئے نئے سخت قوانین وغیرہ اس ناسور زدہ سسٹم کو جزوی طور ٹھیک کریں تو کریں مگر ان سے بوجوہ کلی اصلاح ممکن ہی نہیں ۔ انسدادِ بدعنوانی کے تعلق سے ہماری ریاست میں بھی قوانین کی بھر مار ہے ، متعلقہ عدالتیں ، ویجی لنس بیورو، احتساب کمیشن اور اَنٹی کورپشن ادارے وغیرہم قطار اندر قطار موجود ہیں مگر اس کے باوجود کورپشن ہے کہ شیطان کی آنت کی بڑھ رہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ سال قبل جموں وکشمیر کوبھارت میں دوسری کورپٹ اسٹیٹ ہو نے کا’’اعزاز‘ بھی ملا۔ ظاہر ہے جب کورپشن کے بحر مردار میں بڑے بڑے مگر مچھ پل رہے ہوں تو گورنر ملک کے لئے ان کو کیفر کردار تک پہنچا ناایک بہت بڑا چلنج ہونا طے ہے۔ بایں ہمہ ہمیں اس تندو تلخ حقیقت سے آنکھیں موندھ نہیں لینی چاہیے کہ خالی قانون کی کتا بوں کی ضخامت بڑھانے اورسزاؤں کا خوف دل میں بٹھانے سے کورپشن کازمین برد ہو نا خیال ِعبث ہے تا وقتیکہ فرداًفرداً انسانی ضمیر پر اخلاقی حدود وقیود کا ہمہ وقت پہرہ نہ بیٹھ جائے اور سماج میں اوپر سے نیچے تک سچائی ، دیانت داری ، امانت داری مستقلاً اپنائی نہ جائے ۔ لہٰذا جب تک ہمارا  انفرادی واجتماعی ضمیر بیدا نہ ہو ا ور ہر کس وناکس باطنی ا صلاح پر آمادہ نہ ہو ،اُ س وقت کورپشن کا خاتمہ صرف ایک ایسا پُر کشش نعرہ ہی ہوسکتا ہے جس کی عملی دنیا کوئی معنویت نہیں ۔ بہر کیف اگر گورنر ریاست کو کورپشن فری بنانے کے اپنے عزم پر ہمہ تن عمل پیرا ہوجاتے ہیں تو کوئی چمتکار ہونا بعیدازامکان بھی نہیں۔