تازہ ترین

کشمیرہندوستان اور پاکستانمیں تنازعہ، داخلی مسئلہ نہیں

فوج اور این آئی اے کا استعمال کوئی حل نہیں :فاروق

12 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ اس کو اس طرح حل کیا جانا چاہئے تاکہ ہر کوئی فریق راضی ہو۔انہوں نے کہا کہ فوج اور این آئی اے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ اپنی والدہ بیگم اکبر جہاں کی19ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشیوں پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق نے کہا''ہر سیاسی مسئلے کا ایک سیاسی حل چاہئے، کشمیر بھی ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل ناگزیر ہے''۔انہوں نے کہا کہ کشمیر مسئلے کا ایک ایسا حل ضروری ہے جس سے اس کا ہر فریق بشمول بھارت اور پاکستان راضی ہوں۔فاروق نے مزید کہا''اْس سیاسی حل کو ریاست کے تینوں خطوں یعنی جموں، لداخ اور کشمیر کی حمایت حاصل ہونی چاہئے''۔انہوں نے کہا ’’ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں ہے،کشمیر دو ممالک کے درمیان ایک تنازعہ ہے ،آج بھی اقوام متحد ہ کے مشیر کشمیر کے دونوں خطوں میں ہیں،اس کا فیصلہ لوگوں کی توقعات کے مطابق ہونا چاہئے‘‘ ۔انہوں نے کہا ‘‘ جب بھات اور پاکستان اس مسئلہ پر بات کریں گے، تو کشمیر کے دونوں اطراف کے لوگوں کے ساتھ بھی بات ہونی چاہئے۔ پاکستان کو اُس پار والے کشمیر کے لوگوں سے بات کرنی چاہئے،اور بھارت کو یہاں بات کرنی چاہئے‘‘ ۔ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’فوجی طاقت یا این ائی اے کو استعمال کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ، ان حربوں سے اس شمع کو بجھایا نہیں جا سکتا جو یہاں جل رہی ہے، یہ شمع یہاں اُس وقت تک جلتی رہے گی جب تک نہ فیصلہ لوگوں کی توقعات کے عین مطابق ہو گا‘‘ ۔ انہوں نے کہا ’’1947سے کشمیر مسئلہ کی باتیں ہو رہی ہیں ، جواہر لال نہرو کے وقت سے یہ باتیں چلی آئیں، جتنے بھی وزیر اعظم رہے ،اُن کے دور میں بھی کشمیر مسئلہ پر باتیں ہوئیں ،نریندر مودی نے بھی وہاں جا کر بات چیت کی ، اس لئے اُن کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا‘‘ ۔
انہوں نے مرکز کا نام لئے بغیر کہا ’’ اب وہ کہتے ہیں جی، کہ پہلے ملی ٹنسی ختم کرو ،آپ دیکھو کہ افغانستان کا مسئلہ حل ہو رہا ہے، وہاں گولیاں چل رہی ہیں ،لیکن تب بھی بات چیت ہو رہی ہے اور مجھے اُمید ہے کہ اُس بات چیت کا حل بہت اچھا نکلے گا ،تو یہاں وہ پالیسی کیوں اختیار نہیں کی جاتی ،انہیں اُس پالیسی کو یہاں پر بھی اختیار کرنا چاہئے‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے حریت کے ساتھ بات چیت پر کہا ’’میں نہیں کہتا کہ وہ سٹیک ہولڈر نہیں ، سب سے بات کرنی پڑے گی اور بات تب ہو سکتی ہے جب دل صاف ہوں، دبائو سے بات جیت کا حل نہیں نکل سکتا ہے‘‘ ۔ملک کی موجودہ حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’ہندوستان آج وہ ملک نہیں جو 1947میں تھا، آج ہندوستان وہ ملک نہیں رہا جو ہندو، مسلم، سکھ ، عیسائی ، بودھ اور سب کیلئے برابر تھا، آج ملک کا نقشہ بدلنے کی مذموم کوششیں کی جاری ہیں، ملک کو ایک ہندو راشٹریہ بنایا جارہا ہے، ایسے میں ہمیں اتحاد و اتفاق کیساتھ رہ کرفرقہ پرستی پر مبنی اس سوچ کو ناکام بنانا ہے۔ شاہراہ پر پابندی سے متعلق انہوں نے کہا ’’ میں نے  ڈویژنل کمشنر کا بیان شاہراہ کے متعلق دیکھا ،کیوں لوگوںسے جھوٹ بولا جارہا ہے،اور کن کو جھوٹ بولا جا رہا ہے، میں نے خود دیکھا جب میں شاہراہ پرگیا ،کتنی جگہوں پر لوگوں کو روکا جا رہا ہے ،اور یہ کس لئے روکا جا رہا ہے، شاہراہ سب کیلئے ہے، روکنا نہیں چاہئے ، یہ غلط ہے‘‘ ۔انہوں نے ڈویژنل کمشنر سے کہا ’’ مہربانی کر کے سچائی لوگوں کے سامنے رکھی جائے اور سچائی کے بغیر یہ سب نہیں چلے گا ۔‘‘