کسانوں کی قابل رحم حالت کیلئے سابق حکومتیں ذمہ دار: راجناتھ

12 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی// لوک سبھا میں نائب لیڈر اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کسانو ں کے قابل رحم حالت کیلئے سابقہ حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے جمعرات کو کہاکہ گزشتہ پانچ برس میں ملک میں کسان۔خودکشی کے معاملات کم ہوئے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ زراعت اور کسانوں کی فلاح وبہبود کے وزیرمملکت پرشوتم روپالا نے 9جولائی کو ایک ضمنی سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ 2015میں کسان۔ خودکشی کے معاملات بڑھے تھے جبکہ اس کے بعد کے اعداد و شمار حکومت کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔کانگریس کے رکن راہل گاندھی کے آج ایوان میں کیرالہ کے کسانوں کا معاملہ اٹھائے جانے پر وزیر دفاع نے اپنے جواب میں کہا کہ جہاں تک کسانوں کی حالت کا سوال ہے ، سال دو سال یا چار پانچ سال کے اندر ہی کسانوں کی قابل رحم حالت نہیں ہوئی ہے ۔ طویل عرصہ تک جنہوں نے حکومت چلائی ہے وہی لوگ اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہاکہ جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے ، مسلسل کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جتنی کم از کم سہارا قیمت اس حکومت نے پانچ برسوں میں بڑھانے کا کام کیا ہے ، اتنی 60برس کی تاریخ میں نہیں بڑھی ہے ۔ کسان سمان ندھی یوجنا کے تحت ہر کسان کو چھ ہزار روپے فی برس کی رقم دینے کا فیصلہ اس حکومت نے نافذ کیا جس سے ان کی آمدنی 20سے 25فیصد بھی ہے ۔ کسانوں کی خودکشی کے معاملہ پر مسٹر سنگھ نے کہاکہ سب سے زیادہ خودکشی اگر کسانوں نے کی ہے تو اس سے پہلے (کی حکومتوں کے دور اقتدار) کی ہیں۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پانچ برس میں کسان۔خودکشی کے معاملات کم ہوئے ہیں۔اس سے پہلے مسٹر گاندھی نے وقفہ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ بدھ کو ان کے پارلیمانی حلقہ وائناڈ کے ایک کسان نے قرض کے دباو میں خودکشی کرلی۔ صرف وائناڈ میں بینکوں نے تقریباََ آٹھ ہزار کسانوں کو قرض وصولی کا نوٹس دیا ہے ۔ سرفیسی قانونی کے تحت بینک ان کی املاک ضبط کررہے ہیں۔ ان پر بے گھر ہونے کا خطرہ منڈلارہا ہے ۔ کانگریس کے رکن راہل گاندھی نے کہاکہ بینکوں کے ذریعہ ڈیڑھ برس پہلے وصولی عمل شروع کیا گیا تھا اور تب سے کیرالہ میں 18کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ کیرالہ حکومت نے 31 دسمبر تک قرض وصولی پر روک کی تجویز رکھی ہے لیکن مرکزی حکومت ریزرو بینک کو اسے نافذ کرنے کی ہدایت دینے سے انکار کررہی ہے ۔انہوں نے مرکزی حکومت پر کسانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ گزشتہ پانچ برسوں میں بی جے پی حکومت نے امیروں کو 4.3لاکھ کرور روپے کی ٹیکس چھوٹ دی ہے اور ان کے 5.5لاکھ کروڑ روپے کھٹے کھاتے میں ڈال دیئے ہیں۔ یہ دو طرح کا سلوک کیوں؟ حکومت ایسا کیوں دکھا رہی ہے جیسے کسان کمتر ہیں۔مسٹر گاندھی نے مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ وہ کیرالہ حکومت کی قرض وصولی پر روک کی تجویز کو قبول کرنے کے لئے ریزرو بینک کو ہدایت تاکہ کسانوں کو خوف سے آزادی مل سکے ۔یو این آئی
 

تازہ ترین