تازہ ترین

بنتِ حوا | تقدیر بدلنے کی ہے تدبیر اپنے پاس

دل کی بات

11 جولائی 2019 (23 : 12 AM)   
(      )

عاصمہ شفیع کھمنہ بہار آباد، حاجن کشمیر
اللہ  تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں بے شمار مخلوقات پیدا فرمائے ہیں اور ان سب مخلوقات میںسے انسان کو سب سے بلند مقام پر فائز کیا ہے۔اسی لیے انسان کو اشرف المخلوقات کے لقب سے نوازا گیا۔اشرف المخلوقات میں مرد اور عورت کے جنس میں عورت کو جو حیثیت اسلام نے عطا کی ہے ،دوسرے ادیان میں دور دور تک اس کا تصور بھی نہیں ملتاہے۔جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ہمارا سابقہ جاہلیت کے مختلف پیرائیوں کے ساتھ بھی پڑ تا ہے اورہم دیکھتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میںخواتین کوکیسے کیسے ناقابل برداشت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔صنف نازک کے ساتھ جو استحصال ہورہا تھااس کو محسوس کر کے درد دلِ رکھنے والے انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔بچیوں کی پیدائش کو ہی عار سمجھا جاتا تھا اور اُنہیں زندہ در گور کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے تھے، تعددِ ازدواج کی کوئی حد مقرر نہیں تھی، فحاشی و عریانی کے عجیب و غریب طور طریقے رائج تھے، معاشرے میں کمزور و زیر دست مرد وزَن ظلم کی چکی میںپسے جاتے تھے۔ مجموعی طور اُان ادوارِ ظلمت میںسب سے زیادہ مظلومیت اور غلامی عورت کے حصے میں آتی تھی، بلکہ سچ یہ ہے کہ عورت ذات پستی، ذلت، رسوائی اور اذیت کا استعارہ بنی تھی۔
اُس بگڑے اور جاہل معاشرے میںپوری انسانیت پر عموماًاسلام کی صورت میں اللہ کی رحمتوں کی بارش برس گئی۔اسلام جہاںپوری نسل انسانی کے لیے سراپارحمت بن کر آیا،وہی عورت ذات کے لیے دین مبین نے ا س کے لئے عزت اورفلاح و کامیابی کا بند دروازہ بھی کھولا۔اسلام نے عورت کو ہر حیثیت سے ایک عظیم درجے پر فائز کیا ۔ ماں ہونے کی صورت میںانسان کے لیے جنت اُن کی خدمت سے مشروط کردی گئی ہے۔بیوی ہونے کی صورت میں اُن کے ساتھ اچھے برتاؤ اور حسن سلوک کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا گیا ہے اور بیٹی کی حیثیت میں اُن کی دیکھ بال، اچھی تربیت اور پرورش کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔غرض دین حق نے خاتون کو فرش سے اُٹھا کر عرش پر بٹھا کر رکھ دیا ۔
اسلام کے زیر سایہ عزت افزائی اور اونچا مقام پانے کے باوجود دنیا میں اس وقت بنت حوّا کی جو حالت زار بنی ہوئی ہے ،وہ زمانہ جاہلیت کے بدصورت مناظر سے کسی درجہ کم نہیں ہے۔غیر اقوام کا گلہ ہی کیا ، اُمت مسلمہ کی بیٹیاں خود مظلومیت،ظلم و زیادتی اور پریشانیوں کا شکار بنائی گئی ہیں۔ اُمت مسلمہ کو جو گھمبیر فی زماننا مسائل درپیش ہیں ،اُن میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ مسلم خواتین بہ حیثیت مجموعی مغرب سے ذہنی مرعوبیت کی شکار ہیں۔وہ مغرب کے فتنہ پرور لبرل ازم،فیمین ازم، مساوات اور وومنز امپاور منٹ کے فریبی نعروں میں آکر اپنی زندگیاں کو داؤ پر لگارہی ہیں، یہ دیکھے بغیر یہپ سب عورت کے استحصال کے ہتھکنڈے ہیں۔ہمارے علمائے کرام ، دانشور اور ذی حس لوگ اس حوالے سے بیماری کی تشخیص اور پھر اُس کے علاج و معالجہ پر توجہ مرکوز نہیں کرتے ، بلکہ کہیں کہیں خواتین کی ابتر حالت کے لیے عورت کو ہی مورد الزام ٹھہرا یا جاراہاہے جوسراسر ناانصافی ہے ۔ ہمیں اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کیا خواتین کے با رے میں اسلامی تعلیمات پر ہم عمل پیرا ہیں ؟دینداری کے دعوے ایک طرف ، کیا ہم اپنے گھر کی ماں بہن بیٹی کو وہ سارے حقوق فراہم کرتے ہیں جن کی ضمانت اُنہیں اللہ اور اُن کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً دی ہے؟کیا ہم ماؤں کو وہ درجہ دیتے ہیں جس کی وہ حقدار ہیں؟ کیا شوہروں سے بیویوں کو وہ سارے حقوق حاصل ہوتے ہیں جو اُنہیں اللہ کے رسولؐ نے وضاحتاً دئے ہیں؟ کیا بیٹیوں کو ہر چیز میں بیٹوں سے برابری کا وہ حق مل رہا ہے جس کی اسلام میں تاکید وتلقین ہے؟ ان سوالوں  کا جواب اپنے اپنے ضمیر سے پوچھنے کے بعد ہمیں دیکھنا ہوگاآخر کیا وجہ ہے کہ ملت کی عزت مآب بیٹیاں مغربیت کی جانب مائل ہورہی ہیں، حالانکہ دین مبین نے ان کے حقوق میں جو کچھ  سامان ِراحت وعزت مخفی رکھا ہے، اُس کے ہوتے ہوئے اُنہیں کسی اور جانب دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ضمیر سے کرنے چاہیے اور ان کے جوابات ڈھونڈناہرگز مشکل نہیں ہے۔دراصل ہم دین دین چلّاتے ہیں، دینی تعلیمات کا ورد کرتے ہیں، دینی حقوق کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں لیکن گھریلو اور سماجی سطح پرعملاً دین کا نمونہ پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ہم نے دین اسلام کو کتابی باتیں سمجھ رکھا ہے اور عملی زندگی میں اِس کے نفاذ کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ عام لوگوں کی بات ہی نہیں ہمارے کتنے واعظین ہیں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو اپنی جائیداد میں سے شرعی حصہ دینے کی وصیت کی ہوتی ہے؟ یا کتنے دین دار بھائی والد کی وفات کے بعد اپنی بہنوں کو سامنے لاکر اُن کو ترکہ میں سے اپنا حصہ بخوشی سونپ دیتے ہیں؟
ہمارے یہاں شہر و دیہات میں کچھ ایک خوش نصیب گھرانوں کو چھوڑ کر اکثر وبیش ترخاتونِ خانہ کسی نہ کسی صورت ظلم و جبر، ذہنی عذاب اور ناانصافیوں کی چکی میں ضرور پستی رہتی ہیں۔ اکثر گھروں میں عورت پورا دن گھر کے کام کاج میں مزدور کی طرح باگ دوڑ کرتی رہتی ہے، حتیٰ کہ یہ آبگینے کھیت کھلیانوںمیں تپتی دھوپ میں دن بھر گھر کے مردوں اور اجنبیوںکے شانہ بشانہ مزدوروں کی طرح وہ کام کرتی رہتی ہیں جو اُن کے کرنے کا نہیں ہوتا ۔ پھر اس تھکی ماندی کمزور جان سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ یہ مردوں کے سارے حقوق ادا کرے اور اگر کبھی بوجوہ کوئی کوتاہی ہوجائے تو یکایک ان کے مردوں کو دین کی تعلیمات اور عورت کی ذمہ داریاں یا د آجاتی ہیں۔ جس مخلوق کی نفسیاتی ا ور جسمانی ساخت ہی اللہ رب العزت نے نرم و نازک بنائی ہو اُن سے سخت جانی کے کام کروانے کے بعد کم ازکم اسے وہ عزت واکرام اور محبت والفت ملنی چاہیے کہ اس کی ساری تھکان یک لخت دور ہو مگر بدقسمتی سے ہمارے سماج میں یہ سب نہیںہورہا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرخاتون کو’’ آبگینہ‘‘ قرار دیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک سفر میں خواتین اونٹوںپر سوار تھیں۔ حدی خوانوں نے جب حدی میں تیزی پیدا کی تو اونٹوں کی رفتار غیرمعمولی انداز میں تیز ہونے لگی، اس موقعے پر آپ ؐ نے ہدایت فرمائی کہ اونٹوں کو آرام سے چلاؤ ،اِن پر آبگینے ہیں۔
 اسلام نے عورت کی چار دیواری کے اندر اُٹھک بیٹھک کوپسند یدہ فرمایا ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ گھر کی چار دیواری کو اُن کے لیے قید خانہ بنایا جائے۔ اس کے لئے شرعی حدودو میں اور بوقت ضرورت مسجد یا بازار جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں ۔ نیز یہ مردوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ معاشی ذمہ داریاں خود سنبھالیں لیکن خاتونِ خانہ کے لیے اپنا گھر پوری کائنات جیسی وسعت رکھنے والا بنانے چمنستان بنائیں ۔اس کے لئے گھر کے محرم مرد وہ تمام اسباب پیدا کریں کہ عورت کو کوئی احساس محرومی نہ ہو۔ گھر کے محرم خاتونِ خانہ کی ہر فطری اورپاک و جائز خواہش کا احترام کریں، اُن کی عزت و تکریم کریں، اُنہیں گھر کی ملکہ یا مالکن ہونے کا احساس دلایں، اُن کے شعور کی گہرائیوں میں یہ بات بٹھا دیں کہ گھر میں رہ کر جو اہم ذمہ داریاں وہ انجام دے رہی ہیں اُن کا کوئی مول نہیں ۔ اس کے برعکس اکثر وبیش ترکیا دیکھا جاتا ہے کہ بچپن سے ہی حوا کی بیٹی کوغیر محسوس طورطریقے سے احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں کمتر ہے ۔ یہ احساس کمتری پھرزندگی بھر اُس کے ذہن پر سوار رہتی ہے ، نتیجتاً اللہ کی یہ پیاری پیاری مخلوق بسااوقات اپنی شناخت اور اپنی شخصیت کھو بیٹھتی ہے۔یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کچھ معاملات میں مرد کو عورت پر فوقیت دی گئی ہے۔ بے شک مرد کو قوّام کہا گیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ الٹی سوچ والے مرد حضرات قوّامیت کا یہ معانی سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ عورت پر ڈکٹیٹر بنائے گئے ہیں۔قوّامیت کا اصل مطلب یہ ہے کہ مرد عورت کے لئے ایک مہربان نگران اور گائیڈ ہے۔ بالفاظ دیگر وہ اُ س کے نازک پن کا احترام کرتے ہوئے اُسے بازاروںاور دفاتر کی زینت بنائے نہ سرد و گرم موسم کے بے رحم تھپیڑوں کے سپرد ہونے دے بلکہ اُسے گھر میں بٹھا کر خود زندگی کی ہر مشکل کا سامنا کرے اور اپنی بیوی بچوں کو ہر طرح کا آرام فراہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ اُن کو تحفظ بھی فراہم کرے۔کسب معاش کے لیے دوڑ دھوپ اللہ نے مرد کے ذمہ رکھا ہے، مگروہ گھر کی عورتوں کا محافظ بھی ہوتا ہے۔ہمارے یہاں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ گھر کے اہم مشوروں اور فیصلوں میں عورت سے رائے پوچھی نہیں جاتی اور اگر کوئی پو چھ بھی لے تو اس کو خاطر میںلانا ضروری نہیں سمجھا جاتا ، حتیٰ کہ شادی بیاہ کے موقع پر لڑکی کی مرضی کو ثانوی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ کہیں کہیںگھریلو تشدد کاروگ بھی گھر کی خواتین کو لگا رہتا ہے، نئی نویلی دلہن کے ہاتھوں کی مہندی ابھی سوکھی بھی نہیں ہوتی کہ سسرال میں ان کی مار پیٹ، بے عزتی اور تشدد سے لہو لہاں کردیا جاتا ہے، ایسے میں خود کشی اور خودسوزی  جیسے لرزہ خیز سانحات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔حد یہ کہ بازاروں میں صبح سویرے گوالوں ، سبزی فرشوں اور نانوائیوں کے پاس خواتین ہی خرید وفروخت کے لئے نوکرانی بناکر بھیجی جاتی ہیں اور گھر کے مرد حضرات بستر وں میں پڑے میٹھی نیند کے مزے اٹھارہے ہوتے ہیں ۔ اگر مرد کو کوئی واقعی عذر ہو تو بات الگ ہے مگر عذر کی عدم موجودگی میں یہ طرزعمل بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم زمانۂ جاہلیت کے خدا فراموش معاشرے میں بچیوں کو زندہ درگور کرنے پر ہمیشہ اُن جہلاء  پر لعنت ملامت کرتے ہیںمگر جس معاشرے میں بچیوں کی پیدائش پر افسوس و ماتم کیا جائے کیا وہ اُس پرانی جاہلیت کا جدید روپ نہیں ؟ ہمارے یہاں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اہل خانہ سوگوار ہوجاتے ہیںاور بیٹے کی پیدائش ہوتو مٹھایاں بانٹ کر خوشیوں کا برملا اظہار کیا جاتا ہے اور نذر و نیاز کئے جاتے ہیں ۔ غور طلب ہے کہ جو عورت اپنی اولاد کو نو مہینے اپنے کوکھ میں پال کر تکلیف پر تکلیف برداشت کرتی ہے اوریہ تکلیف کتنی شدید ہوتی ہے اُس کا اندازہ صرف ایک ہی ماں ہی لگا سکتی ہے، اُسی ماں کے سامنے جب گھر میں لڑکی کی پیدائش پر ناگواری کا اظہار کیا جائے تو اُس بے چاری کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی؟ کیسے نشتر چلتے ہوں گے؟ اس کا سینہ کس قدر چھلنی ہوتا ہوگا؟حد یہ ہے کہ ہمارے سماج میں بھی جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کے ذریعے سے پہلے ہی ماں کی کوکھ میں پلنے والے بچے کا جنس معلوم کیا جاتا ہے۔ لڑکی ہونے کی صورت میںبدنصیب ماؤں کو اپنا حمل ضائع کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ سب اپنے آپ کو مہذب اور پڑھا لکھاکہلانے و الے اور زمانۂ جاہلیت  پر لعنت و ملامت کرنے والے کرتے ہیں۔یہ دوغلاپن نہیں تو اورکیا ہے؟؟حالانکہ بیٹیوں کے بارے میں حد سے زیادہ محبت ااور شفقت کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہمارے رہبرکامل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ان لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے اور پھر وہ اُن سے نیک سلوک کرے تو یہ اُس کے لیے جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنیں گی۔ جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئیں گے‘‘۔ یہ فرماکر رہبرکاملؐ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگشت مبارک کو جوڑ کر دکھایا۔‘‘(بخاری ومسلم)
دنیا بھر میں ہر سال ماہِ مئی کی دوسری اتوار کو ماؤں کے عالمی دن(Mothers Day) کے طور پر منایا جاتا ہے مگر ہماری شریعت ہر سال ، ہر ماہ ، ہر ہفتہ ، ہر دن ، ہر لمحہ پر محیط ہے ۔ ماں کی عزت سال بھر میں صرف ایک دن نہیں بلکہ ہماری زندگی کی ہر گھڑی،ہر پل ،ہر لمحہ اور ہر سانس ہمارے والدین بالخصوص ماؤں کے ساتھ منسوب ہے، ہمیں اپنے والدین کی ایک ایک پکار پر لبیک کہنے کا حکم دیا گیا ہے، ہمارے لیے ہماری اطاعت کا ، ہماری دعاؤں کا، ہماری فکر کا ، ہمارے ایمان کا اور ہماری ہر سانس میں اپنی ماؤں کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ہم اگرقرآن کو اپنا لائحہ عمل بنائیں گے تو ہمیں Mothers day یاWomens Empowerment جیسے موضوعات پر کا نفرنسیں بلا کر صنف ِنازک کے حقوق کی اہمیت چیخ چیخ کر اُجاگر کرنے کی ہر گز ضرورت نہ ہوگی بلکہ دین کا صحیح فہم وادراک حاصل ہونے سے وہ صالح معاشرہ خود بخود معرض وجود آئے گا جہاں کوئی خاتون مظلوم ہوگی نہ کوئی مردظالم بنارہے گا،جہاں یتیموں ، بیواؤں ، کمزور و بے نواؤں اور مظلوموں کے حقوق کی خودبخود پاسداری ہوگی، جہاں خواتین اپنے گھروں کی ہنستی مسکراتی رانیاں ہوں گی، جہاں بیٹیاں بوجھ نہیں سمجھی جا ئیں گی بلکہ اُنہیں سرآنکھوں پر لاڈ پیار کے ساتھ بٹھایا جائے گا،جہاں صالح معاشرے کی تعمیر میں پھر مرد اور عورت دونوں برابر اپنا حصہ ڈال کر دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کے ساتھ ساتھ آخرت کی فلاح و کامرانی کو بھی یقینی بنا لیں گے۔
ہم جب صنف نازک کو درپیش متعدد مسائل پر غیر جانبدار ہوکر دینی شعور کے ساتھ غور کریں گے تو یہ بات از خود اپنے سامنے عیاں ہوجائے گی کہ عورتوں کی حالتِ زار کے لیے غیر اقوام بالخصوص مغرب کو مو ردِ الزام ٹھہرا نا بجا ہے مگر ہم اپنی ذاتی خامیوں، کوتاہیوں اور بے حسیوں کو منافقت کے پردوں میں چھپاکر بھی اللہ کی ہمہ وقت نگاہ اور نگرانی میں ہیں۔ بہر حال عورتوں کے حقوق اور اختیارات پر بے مقصدکانفرنسیں منعقد کرنے اور تقریریں جھاڑنے کے بجائے ہمیں اپنے گھروں میں اُن کے حقوق کی پاسداری کرنی چاہیے اور اُنہیں وہ فخریہ مقام عطاکرنے کی پہل کر نی چاہئے جو اسلام نے اُنہیں دیا ہے، کیونکہ اسلام کی تعلیمات میں ہی انسانیت کی فلاح اور ترقی کا راز مضمر ہے۔ یا د رکھئے اسلام تھیوری کا نام نہیں بلکہ اسلام عمل ، خداخوفی ، اور محبت ِ انسانیت کا نام ہے۔ ہم سے ہر شخص فرداًفرداً اگر دین مبین کو عملاً   معاملاتِ زندگی میں سرتاپا شامل کرلے تو پھر نہ ہی مسلم خواتین ظلم و جبر کی بھٹی میں پس جائیں گی اور نہ ہی اُنہیں کوئی اور اپنے لئے نظریہ ٔ حیات، تہذیب ، تمدن اور حقوق مستعار لینے کی ضرورت پڑے گی۔ 