تازہ ترین

آہ! ابن رساؔ

ایساکہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے

10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مر سلہ: مجید مجروح ۔۔۔۔ آلوچی باغ
 ریاست جموں وکشمیرکے مایہ نازسپوت پروفیسرخیرات محمد ابن ِ رساؔگزشتہ دنوں لاہورپاکستان میں رحلت فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ مرحوم ریاست جموں و کشمیر کے اعلیٰ پایہ شاعر رساؔجاودانی کے فراند ارجمند تھے۔ پروفیسرخیرات صاحب کوعلم وتحقیق اور دنیائے ادب کے ساتھ والہانہ وابستگی ورثے میں ملی تھی اور ان حوالوں سے آپ ایک درخشندہ تارے تھے۔ آپ کوملتان یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلراورپنجاب یونیورسٹی لاہوراورالخیریونیورسٹی پی اوکے،کے وائس چانسلرکے طورپرخدمات انجام دینے کاشرف بھی حاصل رہا۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد پروفیسرموصوف کوپاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں بہتری لانے کاکام سونپاگیا تھا جسے موصوف نے بحسن و خوبی انجام دیا۔ ریاست جموں وکشمیرکے عالمی شہرت یافتہ اُردواورکشمیری شاعر رساؔجاودانی کے فرزندپروفیسرخیرات کاجنم 5؍اکتوبر 1926کوبھدرواہ جموں میں ہوا تھا۔ بارہویں جماعت تک تعلیم گورنمنٹ بوائزہائرسیکنڈری ا سکول بھدرواہ اوربی ایس سی کی تعلیم جی جی ایم سائنس کالج جموں اورایم ایس سی۔کیمسٹری کی ڈگری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی تھی۔ملک کی تقسیم کے بعد پروفیسرخیرات پاکستان ہجرت کر کے چلے گئے اورچلتے چلتے وہاں سے اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں براؤن یونیورسٹی امریکہ پہنچے جہاں سے انہوں نے 1959 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔پروفیسرخیرات کونمایاںتعلیمی و تدریسی خدمات کیلئے پاکستانی حکومت کی جانب سے سب سے اعلیٰ سویلین ایوارڈ’’ستارہ ٔ امتیاز‘‘اور’’اقبال سنٹینری میڈل ‘‘کے علاوہ براؤن یونیورسٹی یوایس ا ے (امریکہ) نے’’ پوٹرپرائز‘‘سے بھی نوازا ۔مر حوم ابن رساؔ سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقارعلی بھٹواورسابق صدرِ پاکستان ضیاء الحق کے قریبی ساتھیوں میں سمجھے جاتے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹونے پروفیسرخیرات محمدابن رساؔکوامریکہ سے واپس لاکرملتان یونیورسٹی پاکستان کاپہلاوائس چانسلرنامزدکیا اوراس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے انہیں پنجاب یونیورسٹی لاہورکاوائس چانسلربنایا۔پروفیسرخیرات نے جنرل اسلامک ایجوکیشنل،سائٹنفک اینڈکلچرل آرگنائزیشن (ISESCO)میں ڈپٹی ڈائریکٹرکی حیثیت سے1984تا1991 خدمات انجام دیں ۔ اس کے علاوہ  آپ نےپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف جنیٹکس جیسے مقتدر ادارے کے سرپرست اعلیٰ کے طورپربھی کام کیا۔ مرحوم پر وفیسر صاحب نے آرگینک کیمسٹری میں تین درجن سے زائد کتابیں لکھیں جنہیں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں  پڑھایاجارہاہے۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس پر ریاستی عوام کا سر فخر سے اونچا ہوجاتاہے ۔ پروفیسرخیرات محمدابن رساؔکی وفات پر پاکستان کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیرکے تعلیمی، ادبی اورسیاسی حلقوں سے بڑے پیمانے پرتعزیت کااظہارکرتے ہوئے ان کی وفات کو برصغیر کے علمی ، تدریسی اور ادبی حلقوں کے لئے ناتلافی نقصان قراردیاجارہاہے۔پروفیسرخیرات محمدابن رساکی نمازجنازہ آج شام لاہوریونیورسٹی کی جامع مسجد میں ادا کی گئی جس میں ان کے اشک بار اہل خانہ ، دوستوں ،احباب اور علمی شخصیات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان کی جنت نشینی کے لئے دست بدعا ہوئے ۔ بعد ازاںریاست کے اس عظیم سپوت کوسپردِ خاک کیا گیا۔ اگرچہ پروفیسر خیرات  مرحوم اب ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی علمی خدمات ، تدریسی کاوشیں ، تصنیفات اور قابل قدر ادبی شخصیت نوواردانِ علم وادب کے لئے مشعل ِ راہ بنی رہے گی ۔