تازہ ترین

پیر پنچال اور چناب خطے

ایس آر ٹی سی سروس ۔۔۔خدمات کے نام پر بھدا مذاق

10 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

جموں وکشمیر سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی مدد سے ریاست میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے دعوئوں کی قلعی کھل کر رہ گئی ہے اور خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں یہ نظام بہتری کے بجائے مزید خرابیوں کا شکار ہوتاجارہاہے ۔یہ حقیقت اس حوالے سے حکام کی سنجیدگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ٹریفک حادثات کیلئے پُر خطر مانے جانے والے خطہ چناب اور خطہ پیرپنچال میں اس وقت صرف16ایس آر ٹی سی بسیں چل رہی ہیں جبکہ ان دونوں خطوں میں ایسی سینکڑوں گاڑیوں کی ضرورت ہے ۔قابل ذکر ہے کہ پیر پنچال اور چناب خطوں میں آئے روز ایک سے بڑھ کر ایک خطرناک سڑک حادثات رونماہوتے رہتے ہیں جن میں سے بیشتر کی وجہ صرف اور صرف ائورلوڈنگ ہوتی ہے ۔چونکہ ان پہاڑی خطوں کے عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولیات فراہم نہیں ہوتیں تو وہ مجبوراًپہلے سے ہی ائورلوڈ گاڑی میں سفر کرتے ہیں، جو ان کیلئے بعض اوقات وبال جان بن جاتاہے ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پیر پنچال اور چناب میں صرف 16گاڑیاں سڑکوں پر چل رہی ہیں جن میں سے کشتواڑ میں 4،ڈوڈہ میں5اوررام بن میں 3گاڑیاں جبکہ راجوری میں ایک بھی نہیں اور پونچھ میں چلنے والی ان گاڑیوں کی تعداد4 ہے ۔ ان گنی چنی گاڑیوں میں سے بھی بیشتر بین ضلع سڑکوں پر چلتی ہیں اور اضلاع کی اندرونی سڑکوں کیلئے ایس آر ٹی سی کا کوئی بندوبست نہیں ہے ۔ اگر صرف ضلع پونچھ کی ہی بات کی جائے تو چارمیں سے ایک بھی گاڑی اندرونی سڑکوں پر نہیں چلتی اور ان میں سے تین گاڑیاں جموں جبکہ ایک سرینگر سے پونچھ چلتی ہے ۔اسی طرح سے خطہ چناب کے اضلاع میں بھی اندرونی سڑکوں پر ایس آر ٹی سی بسوں کا چلن نہیں اور اضلاع کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کی تعداد بھی آٹے میںنمک کے برابر ہے ۔ایسا ہر گز نہیں کہ ایس آر ٹی سی کاحال ماضی میں بھی ایسا ہی رہاہو بلکہ کچھ برس قبل تک خطہ چناب میں تیس سے زائد گاڑیاں چلتی تھیں جبکہ اسی طرح سے خطہ پیر پنچال میں چلنے والی گاڑیوں کی تعداد بھی زیادہ تھی لیکن عوام کی طرف سے نئے نئے روٹوں کیلئے گاڑیوں کی مزیدفراہمی کے مطالبات سامنے آنے پر پہلے سے چل رہی گاڑیوں میں بھی کمی لائی جارہی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان میں سے کچھ گاڑیوں کو یاتو واپس کرلیاجاتاہے یاکچھ کو ایک مرتبہ خراب ہونے کے بعد ٹھیک ہونے میں کئی کئی مہینے لگ جاتے ہیں ۔ یہ ذکر کرنا بھی اہم ہے کہ ایس آر ٹی سی بسوں کے خراب ہونے پر انہیں ٹھیک کرنے کیلئے مقامی سطح پر کوئی بندوبست نہیں اور معمولی سے خرابی پر بھی انہیں جموں لیجانا پڑتاہے ۔ اگرچہ ڈوڈہ میں ایسا ایک ورکشاپ قائم ہے لیکن وہ بالکل ناکارہ پڑاہواہے اور اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک جیسی بات ہے ۔بہت عرصہ سے عوامی و سیاسی حلقوں کی طرف سے یہ مانگ کی جاتی رہی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں ایس آر ٹی سی کی زیادہ سے زیادہ بسیں فراہم کی جائیں تاکہ ائورلوڈنگ اور تیزرفتاری جیسے مسائل پر قابوپایاجاسکے اور لوگوںکو بہتر ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم ہوں مگر نہ جانے ان بسوں کی فراہمی تک مزید کتنے سڑک حادثات کا انتظار کیاجائے گا۔پیر پنچال اور چناب خطوں کے عوام کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے نام پر ایک بھدامذاق کیاجارہاہے اور ایسا لگتاہے کہ انتظامیہ اور حکام سب کچھ جان کر بھی بے حس اور غیر سنجیدہ بنے ہوئے ہیں نہیں تو ایسے علاقوں کیلئے ترجیحی بنیادوں پر ایس آر ٹی سی بسوں کی فراہمی کا بندوبست کیاگیاہوتا۔