تازہ ترین

’جہانِ حمد و نعت‘

ایک منفرد مجلّہ

7 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مقصوداحمدضیائی
محمد عربی نور سرمدی ﷺ کی ذات ارفع و اعلی صفات ہے،آپ ؐ کی محبت جانِ جاں ، جانِ ایماں ، یقین کی آن ، اسلام کی شان ، دین کی روح اور شریعت کی اساس ہے۔جس کے دل میں آپؐ کی محبت کی آنچ نہ ہو، وہ کافر بھی ہے منکر بھی۔ دنیا کی تمام عظمتیں آپؐ کی بارگاہ میں سرنگوں ، ساری رفعتیں آپؐ کے قدموں کی دھول اور ساری نیک نامیاں آپؐ پہ نثارہیں۔ ازخاک تا عالم پاک ، ازفرش زمیں تا عرش بریں ،از ثری تا ثریا ہر شئے آپؐ کی عظمت کی گواہ ، فضیلت کی شاہد ، کمال کی قصیدہ خواں ، جمال کی نغمہ سرا اور نوال کی بانگ درا ہیں۔زندہ  جاوید ہیں وہ زبانیں جن سے نعت ِ رسول مقبول ﷺ کے زمزمے بلند ہوں ، قابل رشک ہیں وہ قلم جن سے منقبت ِ نبیؐ کے آبشار پھوٹیں ، لائق ناز ہیں وہ صلاحیتیں جو مدحت ِ نبی رحمتؐ کی پاکیزہ فضا اور مقدس جولان گاہ میں شب و روز اڑان بھرتی ہوں۔ رسالت مآب ﷺکے عہد فرخ فال سے لے کر دنیا کی ہر زبان میں عشاق رسول اکرم ﷺ کے نعتیہ کلام کو اگر جمع کیا جاے تو بستیوں کی بستیاں کتب خانوں میں تبدیل ہوں اور یہ کام کسی ایک حکومت سے نہیں،متعدد حکومتوں سے بھی بہ مشکل تمام انجام پائے ۔
 ان سطور کا شانِ ورود یہ ہے کہ حال ہی میں "نعت اکادمی" جموں و کشمیر کے زیر اہتمام ششماہی " جہان حمد و نعت" کا اوّلین شمارہ منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا ہے۔ خوش قسمتی سے اس وقت آپ حمد و نعت کی اسی خصوصی اشاعت کے رو برو ہیں ، جس کی تہذیب و ترتیب اور اشاعت کی سعادت ادیب اریب فاضل گرامی ، جناب ڈاکٹر جوہر قدوسی صاحب زاداللہ فیوضہم المبارکہ ، ایڈیٹر ماہنامہ " الحیات "، بانی سیکرٹری" نعت اکادمی" جموں و کشمیر و مدیر ششماہی مجلہ"جہانِ حمد و نعت" کے حصہ میں آئی ۔ صاحب فضیلت اپنی شستہ و رفتہ اردو زبان ، چاندنی میں دھلی ہوئی  انشاء اور جادو نگار قلم کے حوالے سے علمی و ادبی دوائر میں نہ صرف معروف، بلکہ نیک نامی و خوش انجامی کا تمغہ زرّیں رکھتے ہیں۔ رمضان المبارک میں بحالت ِ سفر ریاست جموں و کشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں میںموصوف کی خصوصی عنایت سے " جہانِ حمد و نعت" کا یہ شمارہ موصول ہوا ، جس کے بالاستیعاب مطالعہ کی بھی توفیق مقدر ہوگئی۔ اس شمارے کو ڈاکٹر جوہر قدوسی صاحب زیدہ مجدہم کی فاضلانہ تحریری اور فکری صفات کا ترجمان اور جنبش قلم کی معراج تصور کرتے ہوئے یہ کاتب الحروف قارئین کرام سے ملتمس ہے کہ اس شمارے کو پڑھیں اور محبت رسول اکرم ﷺ میں چند قدم نہیں، ان گنت منزلیں آگے بڑھیں ۔
 قبل اس کے کہ اس دلگداز تذکرہ پر مزید کلام کیا جائے ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کرام کی خدمت میں اس گنجینہ علم و ادب کے عناوین کا اختصار پیش کر دیا جائے۔ "جہان حمد و نعت " کی یہ خصوصی اشاعت ، حمدیہ و نعتیہ شعر و ادب کا اوّلین اور زرّیں کتابی سلسلہ نیز حمدیہ و نعتیہ ادب کے فروغ و اشاعت کا اپنی قسم کا منفرد ادبی و تحقیقی مجلہ ہے ۔ اس منفرد پہچان کے حامل جریدے کی مشمولات متعدد حصوں میں ہیں۔ حصہ اول" لمعات ثنا" کے عنوان سے ہے ، جس میں حرف ِ آغاز ( اداریہ ) ، ہدیہ حمد اور ندائے نعت عناوین شامل ہیں۔ حصہ دوم"تفکرات" کے نام سے موسوم ہے: حمد و نعت : اکتشافِ فکر ، اقتضائے فن ۔ اس میں حمد و نعت گوئی کے فن اور آداب و اسلوب پر گیارہ مضامین ہیں ، جن میں کاتب الحروف (مقصوداحمدضیائی ) کا مضمون بنام" حمد و نعت کا تحلیلی مطالعہ " بھی شامل ہے۔
حصہ سوم" تدبرات" کے نام سے ہے : حمد و نعت : عکسِ تحقیق ، نقشِ تنقید ۔اس میں حمدیہ و نعتیہ شاعری پر تحقیقی و تنقیدی مضامین ہیں ، جن کی تعداد بیس ہے۔ حصہ چہارم بنام "تفہیمات"  :حمد و نعت : انتقادِ سخن ، احتسابِ اسلوب ہے۔ اس میں حمدیہ و نعتیہ فن پاروں پر تبصرے اور تاثرات شامل ہیں ۔ یہ باب انیس مضامین پرمشتمل ہے ۔ حصہ پنجم بنام" تصورات " :حمد و نعت : اقوال زریں ، افکار روشن ہے۔ اس میں حمد و نعت سے متعلق اصحابِ فکر و دانش کے منتخب اقوال پر عناوین ہیں۔ حصہ ششم بنام" تخیلات ": حمد و نعت : حمد و ثنائے ساقئ ازل ، مدح و ثنائے ساقئ کوثر ؐ ہے ، جس میں ساٹھ شعرائے کرام کا حمدیہ و نعتیہ کلام ہے ۔ علاوہ ازیں شمارے میں سولہ شعرائے کرام کا کشمیری زبان میں حمدیہ و نعتیہ کلام بھی شامل ہے۔ حصہ ہفتم : "تاثرات ": نامہ ہائے شوق ، رقعات ِ ذوق ، نقطہ ہائے نظر: صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے" عنوان سے ہے ۔آخر میں" متفرقات"کے باب پر اس دلآویز دستاویز کو ختم کر دیا گیا ہے۔
 غرضیکہ 516 صفحات پر مشتمل ششماہی"جہانِ حمد و نعت " کی یہ خصوصی اشاعت جناب ڈاکٹر جوہر قدوسی صاحب زاداللہ فیوضہم المبارکہ کے علم و ادب کی فتوحات کا ایک عظیم الشان پرچم ہے ، جس کے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوتے ہی ایک چمنستان صد رنگ کھل گیا ہے۔ آں محترم دور اندیش اور عمدہ منصوبہ ساز بھی ہیں ۔ جہاں تک ہماری نگاہ گئی ہے ، علم و کتاب اور قرطاس و قلم سے آپ کا رشتہ و تعلق وجدانی اور سرمدی قسم کا معلوم ہوتا ہے۔ آپ نفیس ادبی لٹریچر کے شیفتہ اور گرویدہ بھی معلوم ہوتے ہیں ۔ علوم و معارف کے موتیوں کی تلاش، ان سے استفادہ اور دوسروں کو بھی ان گنج ہائے گرانمایہ کا سودائی بنانے کا ذوق رکھتے ہیں ۔ آپ کی علم و ادب میں ڈوبی کاوشیں ہم جیسے طفلانہ قلم کاروں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع دیتی ہیں۔ قدرت نے آپ کو مطالعہ کے ساتھ انشاء کا بھی اچھا اور پاکیزہ ذوق عطا فرمایا ہے۔ اس گلدستہ کے محتویات و مضامین میں آپ کا یہ وصف خاص صاف عیاں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا قلم لکھتا ہی نہیں بلکہ صفحہ قرطاس پرعلم و ادب کے موتی بکھیرتا ہے ، جس کی ایک جیتی جاگتی تصویرتو" جہانِ حمد و نعت " کی یہ اشاعت خاص ہے ، اور دوسرا ماہنامہ" الحیات" کی مسلسل اشاعت اور اس کے تحت مختلف مکاتبِ فکر کی نامور شخصیات کی حیات و خدمات پر شائع شدہ ضخیم خصوصی ضمیمے ہیں ، جن کی تعداد لگ بھگ 29 ہے ۔ ڈاکٹر جوہر قدوسی صاحب حفظہ اللہ علمی و ادبی خدمات کے تعلق سے محنت شاقہ کے لیے تعریف کے مستحق ہیں ۔ آپ کی علمی و ادبی خدمات بدر کامل کی طرح ہویدا ہیں ، جن سے انکار چمکتے سورج کی برستی شعاوں کو خیط اسود کہنے کے مترادف ہے۔ یقین کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آپ کی نگارشات ہماری مذہبی صحافتی تاریخ کا خوبصورت اور با معنی حصہ رہیں گی ۔ ان شاءاللہ 
بڑی ناسپاسی ہوگی اگر اس موقع پر" نعت اکادمی" جموں و کشمیر کے سرپرست جناب پروفیسر مرغوب بانہالی صاحب ادام اللہ فیوضہم المبارکہ کا ذکر خیر نہ آئے ۔آں موصوف میدان علم و ادب کی ہستی تاباں ہیں ۔ اس شجر پر بہار کے قلم سیال سے کئی کتابیں صادر ہوئیں ۔ "جہان حمد و نعت" کے اس شمارے میں بھی آپ کے قلم گوہر بار کا عظیم شاہکار مکتوب اس اشاعت خاص کے صفحات پر چمک رہا ہے۔ آپ کی رائے کہ اس مجلہ کے اوّلین شمارے میں "نعت اکادمی" کا دستور بھی شائع کر دیا جائے ، نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے ۔ غرضیکہ موصوف کی مفید آراء نے شمارے کو تاریخی حیثیت کا حامل بنا دیا ہے۔
رابطہ؛پونچھ ،جموں و کشمیر ، موبائل نمبر؛9596664228