تازہ ترین

مہنگائی۔۔۔ غرباء کاکوئی چارہ گرہے؟

6 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 ریاستی عوام ارباب ِ حل و عقد سے بجا طور شاکی ہیں کہ کمر توڑ مہنگائی میں کوئی کمی آنے کی بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں شدت وحدت آرہی ہے ۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ غریب عوام کی قوتِ خرید کمزور سے کمزور تر ہو نا اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ ان کے لئے زندگی اجیرن بن جائے اور وہ دووقت کی روٹی آرام سے کھانے سے قاصر رہیں ۔اس وقت بازاروں کا حال یہ ہے کہ ساگ سبزی سے لے کر تمام دیگر اشیائے خوردونوش تک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں کہ عام آدمی کا کچومر نکلتاجا رہاہے۔ اس پر ستم یہ کہ سرکاری نرخ ناموں کی شکل میں خوردنی چیزوں کے جو قیمتیں مشتہر کی جاتی ہیں ان کی وقعت ردی کا غذ سے زیادہ نہیں کیونکہ خرید وفروخت میں عملاًان کی طرف ادنیٰ سی بھی توجہ نہیں کی جا تی۔ دوکاندار تو دوکاندار ، خریدار بھی یہ قبل ازوقت جا ن رہے ہوتے ہیں کہ کسی چیز کی جو قیمت ریٹ لسٹ پر دی گئی ہے اس کی کو ئی اہمیت ہی نہیں۔ آج کل ایک طرف گراں فروشی ، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا دوردورہ ہے اور دوسری طرف ان حوالوں سے انتظا میہ کی بے حسی اپنے عروج پر ہے۔ کہنے کو صارفین کو خود غرض دو کا نداروں سے بچانے کے لئے ایک سرکاری صیغہ چیکنگ اسکارڈ کے نام سے موجودہے مگر یہ مکمل طور مفلوج ہے۔ اس کے پاس قاعدے قانون نافذ کر انے کے کلی اختیار ات ہیں مگر ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ چیکنگ اسکارڈ س گراں فروشوںاور ذخیرہ اندوزوں کے مافیا کا توڑ کیوں کر نے لگیں جب گراں بازاری کے دم قدم سے ان لوگوں کااپنا حقہ پانی چلتا رہتاہے، بھلے ہی عام آ دمی کو ساگ سبزی اور دال چاول ، دودھ گوشت ، پو لٹری اور انڈے وغیرہ بازاروں میںسر کاری نرخوں پر نہیں بلکہ دوکانداروں اور ریڑھی بانوں کی منہ ما نگی قیمتوں پر حاصل کر نا پڑ تی ہوں۔ ایڈمنسٹریشن کی تغافل شعاری کی اصل وجہ یہ ہے کہ برسہا برس سے یہا ں ایک ایسا ورک کلچر پنپ رہاہے جس کی غیبی عنایت سے معمولی سرکاری اہل کار سے لے کر اعلیٰ افسر تک کسی ایک میں بھی مواخذے کاڈر یا جوابدہی کااحساس اس کی موٹی کھال کو چھوکر بھی نہیں جا تا، لہٰذا ان کوکبھی ذرا بھی لاج شرم کر کے عوام کے تئیں اپنے فرائض نبھانے اور ذمہ داریاں ادا کر نے کی چٹی نہیں پڑتی ۔ بس اپنے اپنے دائرہ کار میں یہ فکر ہمہ وقت لگی رہتی ہے کہ کسی طرح اختیارات کے ناجائز استعمال سے اپنی جیبیں موٹی کریںچاہے ا س سے عام آدمی کاجینا دشوار تر ہو۔ قاعدے قانون ان کے لئے موم کی گڑیا ہوتے ہیں جن کو جب اورجہاں چاہیں اپنے ذاتی اغراض کے خم خانے میںبے فکری سے توڑ دیں۔ اس نراج کے سبب عام صارفین کو بازاروں میں جو مختلف النو ع ما ریں سہنا پڑرہی ہیں،ان کے طفیل غر باء کا زندہ رہنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ ریاستی انتظامیہ سابقہ حکومتوں کی مانند عوام کو درپیش روز مرہ زندگی کے مختلف مسائل سے نجات دلانے میں ناکام نظر آرہی ہے ،اس لئے حسب سابق مہنگائی کا بھوت کا بلاکسی مزاحمت کے اپنا ڈیرا ہر جگہ جمانا قابل فہم امر ہے۔ جب کوئی پوچھنے والا ہی کہیں موجود نہ ہو تو بلیک مارکیٹنگ کا عروج ، گراں فروشی کی وبا اورمنافع خوری کا راج تاج اپنی جوبن پر کیوں نہ آئے؟ بہر کیف اس سب سے عام آ دمی کا جینا دوبھر ہو رہا ہے۔ ان حالات میں ڈویژ نل انتظامیہ کی فعالیت سے عام آدمی کا کچھ نہ کچھ بھلا ہوتا ، لیکن اس کا وجود بھی ان حوالوں سے محض علامتی سا دکھا ئی دے رہا ہے جب کہ غریب لوگ گراں فروشی کا تختۂ مشق بن ر ہے ہیں۔ بایں ہمہ اگر صارفین اپنے روزمرہ مسائل کی جانب ارباب ِ حل وعقد کی تو جہ مبذول کرا نے کی بھول کر تے ہیں تو حکو مت سے اپنی کوئی شنوائی نہیں پاتے ۔ اس صورت حال جمہو ریت کراہتی ہے اور عوام کی حا کمیت کا تصور پا ما ل ہو نا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ بازاروں میںلا قانونیت کا حال یہ ہے کہ نا نو ائی روز بروزروٹی کا وزن کم کر رہے ہیں ، قصاب گو شت کے سرکا ری ریٹ لسٹ کی جگہ اپنی من مانی کے خوگر بنے ہوئے ہیں اورکھلے بندوں بے یارومددگارگاہکو ں کو دودوہاتھ لوٹ رہے ہیں، سبزی فروش گلی سڑی سبزیوں کے منہ مانگے دام وصولتے ہیں، میوہ فروش من مانی قیمتوں پر میوہ بیچنے سے مہنگائی کا دیو ہیکل بھو ت عام آدمی کے کمزور کندھو ں پرمہنگائی کا بھاری بھرکم بو جھ لا د تاجا رہا ہے۔ اس اندھ کار سے عام آ دمی یہ سوچ سوچ کر چکرا تا ہے کہ سرکا ری محصولات سے لے کر اشیائے خور دنی تک کی قیمتیں آسمان تک بڑ ھا کر اُسے بلی کا بکرا بنا نے میں ارباب ِ حل و عقد کو کیونکر ذ ہنی سکون محسو س ہوتاہے؟ وہ اس بارے میں کبھی حرف ِشکا یت زبان پر لانے کی بھو ل کر ے تو اس کی سنوائی کیوں نہیں ہو تی ؟پانی کا مطا لبہ ہویا بجلی سپلا ئی میں معقولیت کی مانگ ہو ، اس کے نصیب میں ارباِب ِاقتدار سے گراں کی گو شی اوربے نیازی ہی کیوں آتی ہے؟ لوگ سڑک اور نالی کی تعمیر و مرمت میںبے انتہاتسا ہل کارونا روئے تو کسی حاکم با لا کے کا ن پر جو ں تک کیوں نہیں رینگتی؟ اگر کوئی رشوت خو ری اوربد نظمی کا دُکھڑا سنانے کی جسارت کرے تو وہ شرپسند اور سماج دشمن کیوںکہلا تاہے؟ بہر صورت اگر ریا ستی انتظامیہ واقعی چا ہتی ہے کہ یہ خرید وفروخت کا یہ فاسد کلچر عام آدمی کا بیڑہ مزید غرق نہ کر ے تو اسے چاہیے کہ اول بازاروں میں گراں فروشی کا ارتکاب کر نے والے ہر چھوٹے بڑے تاجر کو قانو ن کی خوراک پلائے ، دوم بنا کسی رُو رعایت کے ہر شخص کے ساتھ قا نون کے مطا بق صورت حال سے نپٹ لے، سوم عوامی خدمات کے شعبے میں فوراً سے پیشتر سدھار لا یا جا ئے تا کہ پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ ایک کاغذی گھوڑا ثابت نہ ہو ، چہارم گرا ں بازاری کے ذمہ دار عنا صر کو قانون کے شکنجے میں لاکر اس عام تا ثر کو جھٹلا ئے کہ خو د ارباب ِ اختیار مہنگا ئی کوبڑ ھا وا دینے والو ں کی پشت پنا ہی کر رہی ہے ، پنجم مارکیٹ چیکنگ اسکارڈ کو جمود کے لحاف سے نکال باہر کیا جا ئے ۔ اگر عملا ً یہ سب کیا گیا تویہ عام آ دمی کے تئیںگورنر انتظامیہ کا جذ بۂ خیرسگالی سمجھا جا ئے گا جس کی صرف ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگ گز شتہ سالہا سال سے ترس رہے ہیں۔