تازہ ترین

سڑکوں کی خستہ حالی پر توجہ دینے کی ضرورت!

4 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

جدید دور میں سڑکوں اور شاہراہوں کو ترقی کی شہہ رگ کہا جاتا ہے ، کیونکہ آبادی کی اکثریت کو اپنے روزمرہ امور کی انجام دہی کےلئے کم و بیش روزانہ سفر درپیش ہوتا ہے، لیکن فی الوقت وادیٔ کشمیر میں سڑکوں کی جو حالت زار ہے اُس نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے، کیونکہ شہرو مضافات اور دیہات و قصبہ جات میں میکڈم اُکھڑ جانے اور جگہ جگہ کھڈے بننے کی وجہ سے جابجا سڑکیں تباہ ہو گئی  ہیں، جس کی وجہ سے نہ صر ف عام لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات کا سامنا ہےبلکہ سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ حادثات کے خطرات لگے رہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ گزرے موسم سرما کی شدید برفباری اور بعد کی یخ بستگی سڑکوں سے میکڈم کی کوالٹی اور اسکو بچھانے کےلئے موسم کے انتخاب میں ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سڑکوں کی مرمت اور ان پر میکڈم بچھانے کا کام موسم خزاں کے آخری حصے میں کیا جاتا ہے ، جوکم درجہ حرارت کی وجہ سے پورے طرح جمنے میں ناکام رہتا ہے ۔ا س کام میں تاخیر کےلئے ہمیشہ فنڈس کی عدم فراہمی کی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں۔ حالانکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ سڑکوں پر میکڈم بچھانے کے کام میںموسم، درجہ حرارت اور میکڈم کو اچھی طرح دبانے اور سڑکوں کی سطح اس طرح تیار کرنے کہ بارش کا پانی ان پر جمع ہو کر جذب نہ ہو، ایسی باتوں کا انتہائی خیال رکھنے کی ضرورت ہے ، لیکن عام طور پر ایسا نہیں کیا جاتا ۔ سرینگر اور جموں شہروں کی بیشتر سڑکیں ویران ہوچکی ہیں اور معمولی بارشوں کے بعد یہ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں ۔جب کہ خشک مو سم میں گرد وغبار سے راہ گیروں اور مکینوں کی حالت بگڑ جاتی ہے ۔ سڑکوں کی اس خستہ حالت کیلئے گوکہ غیر معیاری مٹیریل کے استعمال کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے لیکن صرف غیر معیاری مٹیریل کا استعمال ہی اکیلے اس صورتحال کیلئے ذمہ دار نہیں ہے بلکہ سڑکوں کی تعمیر کے وقت مؤثر منصوبہ بندی کا نہ ہونا سب سے بڑی وجہ ہے۔ ریاست میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے کام کررہے مختلف محکموں کے مابین کوئی تال میل نہیں ہے ۔محکمہ تعمیرات عامہ سڑک تعمیر کرلیتا ہے ،اس کے بعد آب رسانی والے پائپیں بچھانے کیلئے ایک اچھی بھلی سڑک کا حلیہ ہی بگاڑ دیتے ہیں اور اس عمل کے دوران اگر سڑک کا کچھ حصہ اکھڑنے سے بچ جاتا ہے تو وہ محکمہ بجلی،محکمہ مواصلات اور یو ای ای ڈی محکمہ کی نذر ہوجاتا ہے ۔ ریاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی کام کرنے سے قبل ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ہے اور بے ہنگم انداز میں ترقیاتی پروجیکٹ در دست لئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی پروجیکٹ پھر کامیابی سے ہمکنار نہیںہوپاتا ہے اور بدلتے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اس میں بار بار ترامیم کرنا پڑتی ہیں جس کا غیر ضروری بوجھ سرکاری خزانہ پر پڑتا ہے ۔سڑکوں کی خستہ حالی کیلئے بھی مناسب منصوبہ بندی کا فقدان اصل وجہ ہے ۔شہر میں خال خال ہی کوئی سڑک ایسی ہے جو مناسب نکاسی نظام سے جڑی ہو، ورنہ بیشتر سڑکوں کا خدا ہی حافظ ہے ۔دیہی علاقوں کاحال اور بُرا ہے ۔ بیشتر علاقوں میں سڑکوں میں جابجا کھڈے بن گئے ہیں اور لوگوں کے لئے سفر ایک دشوار گزار عمل بن گیا ہے ۔ ارباب اقتدار کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ مختلف محکموں کے مابین تال میل کے فقدان کی وجہ سے راحت ملنے کی بجائے نہ صرف لوگوں کے مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے بلکہ خزانہ عامرہ کوبھی کروڑوں روپے کا چونا لگ جاتا ہے۔ شہروقصبہ جات کو جازب نظر بنانے اور ترقی کی رفتار میں تیزی لانے کیلئے معیاری سڑکوں کا ہونا ضروری ہے اور معیاری سڑکیں بہتر اور فعال منصوبہ بندی کے بغیر نہیں بن سکتیں ۔وقت کا تقاضا ہے کہ سڑکوں پر بھی نظر کرم ہواور ایسا جامع منصوبہ مرتب دیا جائے کہ مرحلہ وار طریقہ پر ترجیح کے لحاظ سے شہرودیہات کی تمام سڑکوں کو نکاسی نظام سے جوڑاجائے ،جس سے نہ صرف لوگوں کو راحت نصیب ہوگی بلکہ خزانہ عامرہ پر بھی غیر ضروری بوجھ نہیں پڑے گا۔