تازہ ترین

اتھواجن میں کان کنوں کی منتقلی میں رکاوٹیں

متعدد کنبے بے روزگار،گورنرانتظامیہ سے متاثرین فریادی

3 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز احمد
سرینگر//اتھواجن میں کانوں سے پتھر نکالنے کیلئے کان کنوں کی آری پورہ منتقلی میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیںجسکی وجہ سے کئی کانکن کنبے روز گار ہوگئے ہیں۔ اتھواجن سے آئے ایک وفد نے بتایا’’ ریاستی سرکار نے سال 2016میں عدالت عالیہ کے حکم پر اتھواجن میں قائم  Queriesکو بند کرکے کانکنان کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا علان کیا تھا مگر تین سال کا عرصہ گزر جانے کے بائوجود بھی کانکنان کی منتقلی نہیں ہوسکی ہے‘‘۔  وفد نے بتایا ’’ ریاستی حکومت کے فیصلے کے بعد اگرچہ اتھواجن سے پتھر نکالنے کا سلسلہ بند ہوناتھا اور مگر چند خود غرض عناصرنے اتھواجن سے پتھر نکالنے کا سلسلہ پابندی کے بائوجود بھی جاری رکھا۔ وفد نے بتایا کہ خود غرض کانکنان نے Royalityسے بچنے کیلئے کانکنان کی اتھواجن منتقلی میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں جسکی وجہ سے آری پورہ منتقل ہونے کیلئے تیار ہوئے کانکنان فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ وفد نے بتایا ’’ آری پورہ کو تین سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا جن میں سے ایک سیکٹر پر محکمہ جنگلات نے مالکانہ حقوق جلتاکر کانوں اور زمین کو اپنے قبضہ میں لیا ہے۔وفد نے بتایا ’’ آری پورہ منتقلی کیلئے راضی ہونے والے کانکنان مختلف محکمہ جات کے درمیان رسہ کشی کی وجہ سے بے روز گار ہوگئے ہیں کیونکہ صوبائی انتظامیہ کی ہدایت کے بائوجود بھی کانکنان کو  وہاں منتقل نہیں کیا جارہا ہے۔ محکمہ جیولوجی اینڈ مائنگ کے ضلع مائنگ آفیسر سرینگر سرتاج احمد نے بتایا ’’ بے شک اتھواجن میں چند خود غرض کانکنان پابندی کے باوجود بھی رات کے دوران پتھر نکالتے ہیں اور یہی لوگ آری پورہ میں دیگر کانکنان کی بحالی میں بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کانکنان سے لیڈر منتخب کرنے کی گذارش کی تھی تاکہ سرکار کی جانب سے تیار کی گئی کانوں اور دکانوں کو کانکنان کے حوالے کیا جائے مگر ان کے لیڈران نے کسی بھی دلچسپی کا اظہار نہیں جبکہ چند کانکنان پہلے ہی منتقل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کانکنان کے لیڈران منتقلی کیلئے تیار ہوئے تو محکمہ جنگلات نے آری پورہ کے ایک سیکٹر پر اپنے مالکانہ حقوق جتلاکر مشکلات کھڑی کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صوبائی کمشنر تک پہنچا جنہوں نے بی ایس ایف ، پی ایچ ای اور محکمہ جنگلات کو این او سی جاری کرنے کی ہدایت دی مگر محکمہ جنگلات نے ابتک این او سی جاری نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھواجن میں غیر قانونی طور پر پتھر نکالنے کا کام سال 2016کے دوران دن دھاڑے ہوتا تھا مگر پولیس کی مداخلت کے بعد اب یہ کام رات کو شروع ہوا جو ابھی بھی جاری ہے کیونکہ محکمہ وہاں لوگوں کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ وہاں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم متعلقہ علاقوں میں پتھروں کو نکالنے کا عمل کو روکنے کیلئے سیکورٹی اداروں کی ضرورت ہے اور سیکورٹی اداروں کا تعاون حاصل ہوتے ہی ہم لوگ رات کے دوران پتھروں کو نکالنے کے عمل کو روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات سے این او سی حاصل کرنے کے فوراً بعد کانکنان کو آری پورہ منتقل کیا جائے گا۔