تازہ ترین

پہاڑی علاقوں میں ائورلوڈنگ ایک سنگین مسئلہ !

3 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 ریاست کے پہاڑی علاقوں خاص طور پر خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب میں چلنے والی مسافر گاڑیوں میں ائورلوڈنگ ایک سنگین مسئلہ بن گیاہے اور اسی کی وجہ سے آئے رو ز دل دہلادینے والے سڑک حادثات رونماہورہے ہیں ۔ پیر کے روز کشتواڑ کے کیشوان علاقے میں پیش آیا سڑک حادثہ بھی بظاہر ائورلوڈنگ کا ہی نتیجہ ہے جس کے باعث15خواتین سمیت 36افراد لقمہ اجل بنے، جن میں ایک ہی کنبے کے 4افراد بھی شامل ہیں جبکہ 16افراد زخمی ہوئے جن میں سے 15کی حالت گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں ابھی بھی نازک بنی ہوئی ہے ۔متعلقہ حکام کی لاپرواہی کا عالم یہ ہے کہ حادثے کے وقت منی بس میں دو گناسے بھی زائد مسافر سوار تھے ۔ایک منی بس میں 26افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے لیکن اس حادثے کے وقت گاڑی پر 52سے بھی زیادہ مسافر بھرے گئے تھے ۔پہاڑی علاقوں میں چلنے والی اس قدر ائورلوڈ گاڑیوں کو جب ڈرائیور کی معمولی سے بھی کوتاہی سے بھی حادثہ پیش آئے گاتوان میں سوار مسافروں میں سے کسی ایک کا بھی صحیح سلامت بچ جانا ناممکن ہے کیونکہ ان علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ ہی ایساہے کہ گاڑی حادثے کاشکار ہوکر کئی سوفٹ گہری کھائیوں یا ندی نالوں میں جاگرتی ہے ۔ساتھ ہی خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کی سڑکوں کا حال بھی بیان سے باہر ہے جن کی پہلے تودہائیوں تک تعمیر ہی نہیں ہوپاتی اور پھر مرمت کے کام میں بھی برسہابرس لگ جاتے ہیں ۔اس پر ستم یہ کہ ان علاقوں کی سڑکیں بہت زیادہ تنگ بھی ہیں جن پر یکطرفہ گاڑیوں کا چلن بھی مشکل ہوتاہے ۔ایسی سڑکوں اور ایسے علاقوں میں ڈرائیونگ کے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ ایک معمول بن گیاہے کہ جب تک گاڑی مسافروں سے کھچا کھچ بھر نہ جائے تب تک ڈرائیور بس اڈہ سے باہر نہیں نکلتے اور پھرمنزل پر پہنچنے تک راستے میں سواریاں بٹھانے کا سلسلہ جاری رہتاہے ۔جہاں ڈرائیوروں کو زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کا لالچ لگا رہتا ہے وہیں مسافروں کیلئے پریشانی یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے وقت پر گاڑی نہیں ملتی تو وہ پھر مجبوراًپہلے سے ہی ائورلوڈ گاڑی میں سوار ہوجاتے ہیں ۔حکام کی طرف سے ائورلوڈنگ اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائیوں کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن نہ ہی ٹریفک کے ناقص نظام پر توجہ دی جارہی ہے اور نہ ہی ائورلوڈنگ کی بنیادی وجوہات کاحل تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔پہاڑی خطوں میں سب سے اہم مسئلہ مسافرگاڑیوں کی کمی ہے ۔اگرچہ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے متعدد بار روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں چلانے کی باتیں ہوئیں اور سرکاری ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے کے وعدے کئے گئے لیکن عملاًکوئی بھی اقدام نہیں کیا جاسکا اور سرکاری ٹرانسپورٹ نظام بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتا گیا اور اب اپنی آخری سانس لے رہاہے ۔یوں ریاست میں ٹریفک کا سارا نظام پرائیویٹ گاڑیوں پر منحصر ہے اور یہاں سب کچھ ٹرانسپورٹروں کی من مرضی سے ہوتاہے ۔ان ٹرانسپورٹروں کے سامنے ٹریفک حکام بھی کہیں بے بس نظر آتے ہیں تو کہیںمصلحت پسندی سے کام لیاجاتاہے ۔اس طرح کے ٹریفک نظام کے رائج رہتے ہوئے کبھی مغل شاہراہ لہولہان ہوگی تو کبھی خطہ چناب سوگوار بنے گا۔غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کے لائسنسوں کی منسوخی بھی ایک اہم فیصلہ ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو بہتر سے بہتر ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کی جائیں اور ہر علاقے میں چلنے کیلئے گاڑیوں کی مناسب تعداد دستیاب رکھی جائے تاکہ مسافرائورلوڈ گاڑی پر سفر کرنے پر مجبور نہ ہوں ۔