تازہ ترین

مغل شاہراہ حادثہ | ٹریفک حکام کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں

1 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
مغل شاہراہ پر پیر گلی کے نزدیک رونما ہوئے المناک سڑک حادثے کے بعد ٹریفک پولیس اور محکمہ موٹروہیکل کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کیونکہ یہ حادثہ کسی ایک غلطی یا لاپرواہی کے نتیجہ میں رونما نہیں ہوابلکہ حادثے کاشکار ہونے والا ٹیمپو ٹریولر ائورلوڈبھی تھا، تیزرفتار بھی ،اس میں گانے بھی بج رہے تھے اور دوسری گاڑیوں پر سبقت لیجانے کی کوشش میں ائورٹیکنگ بھی کی جارہی تھی ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس ٹیمپو کے روٹ پرمٹ کی معیاد2017میں ہی ختم ہوگئی تھی جس کی پھر تجدید کروانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی گئی اور یہ گاڑی دو سال سے زائد عرصہ تک سڑکوں پر غیر قانونی طور پر چلائی جاتی رہی ۔واضح رہے کہ چند روز قبل پیش آئے اس حادثے میں مرکزی معاونت والی سکیم پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت چلائے جارہے کشش انسٹی ٹیوٹ کی 9طالبات سمیت 11افراد افرا د لقمہ اجل بن گئے جبکہ 6طالبات اور گاڑی کا ڈرائیور زخمی حالت میں سرینگر کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔حادثے کے وقت گاڑی میں 18افراد سوار تھے جبکہ ایک ٹیمپو میں ڈرائیور سمیت 13افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔حادثے سے قبل ان اٹھارہ افراد کے علاوہ اسی ٹیمپو میں دو یا اس سے زائد مزیدطالبات بھی سوار تھیںجن میں سے ایک چندی مڑھ کے مقام پر اتر کرساتھ والے ٹیمپو میں سوار ہوگئی جبکہ ایک نے ٹیمپو میں جگہ نہ ہونے اور اس کی تیزرفتاری کی وجہ سے پیر گلی کے مقام پر اترنے کافیصلہ لیا اور وہ بھی دوسری گاڑی میں سوار ہوگئی ۔ اس طرح سے ایک 13سواریوں کی گنجائش والی گاڑی میں 20یا اس سے زائد افراد سوار کئے گئے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ سرنکوٹ سے لیکر پوشانہ تک چار مقامات پر پولیس ناکے ہونے کے باوجود کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی اور نہ ہی ائورلوڈنگ پر ٹریفک عملے نے بھی کوئی کارروائی جو عموماًمغل شاہراہ پر کسی نہ کسی مقام پر ناکہ لگائے ہوتاہے ۔پوشانہ کے مقام پر فوج اور پولیس کی طرف سے ہر ایک گاڑی کو رکواکر اس کی تلاشی لی جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں مسافروں کا تلاشی کے چکر میں آدھا آدھا دن ضائع ہوجاتاہے لیکن یہاں بھی کسی نے یہ پوچھنے کی ضرورت محسو س نہیں کی کہ ٹیمپو میں کیوں بیس افراد سوار کئے گئے ہیں ۔اس بھیانک حادثے میں معجزاتی طور پر بچ جانے والی طالبات کاکہناہے کہ پورے سفر کے دوران ٹیمپو کاڈرائیور گاڑی تیزرفتاری سے چلاتارہااور گانے بھی خوب بجتے رہے لیکن ان کے منع کرنے کے باجود اس نے ایک نہ سنی ۔ابھی تواس حادثے کے حوالے سے سرکاری تحقیقات کسی انجام تک پہنچی ہی نہیں ہے نہیں تو اس سے جڑے کئی دیگر عوامل بھی سامنے آسکتے ہیں۔یہ حادثہ جہاںمحکمہ موٹروہیکل ، ٹریفک اور پولیس اہلکاران کی لاپرواہی کانتیجہ ہے وہیں کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کے عہدیداران کو بھی بری الذمہ نہیں قرارد یاجاسکتاجنہوں نے گاڑی میں اتنی زیادہ سواریاں سوار ہونے دیں ۔ریاستی حکومت کی طرف سے معمولاًہر حادثے کی طرح اس مرتبہ بھی افسوس کا اظہار کیاگیا اور مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے ایکس گریشیا ریلیف دینے کا اعلان ہوالیکن دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ تیزرفتاری، ائورلوڈنگ، روٹ پرمٹ اور دوران سفر گانے بجانے پر متعلقین کے خلاف کیا کوئی کارروائی ہوگی بھی یا نہیں ۔یہ حادثہ حکام کیلئے چشم کشاہے اور اس کے بعد انہیں گہری نیند سے جاگتے ہوئے ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے چاہئیں اور ایسے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو غیر قانونی طور پر گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دیتے ہیں ۔