تازہ ترین

غزلیات

30 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اس جہاں کے لوگ بس درد آشنا کہنے کو ہیں 
آزمایا سب کو سب اہلِ وفا کہنے کو ہیں 
 
پیشوائی کی نہ ان میں رہنمائی کی صِفت 
یہ ہمارے رہنما یہ پیشوا کہنے کو ہیں 
 
وقتِ مشکل ہمنوائی کون کرتا ہے بھلا 
زندگی کی راہ میں سب ہمنوا کہنے کو ہیں 
 
کون جانے ہو گیا کیا جذبہء ایثار کو 
جو کیا کرتے ہیں جان ودل فدا کہنے کو ہیں 
 
دیکھ کر اب تو ہے میزانِ عدالت دم بخود 
عدل کی کرسی پہ اب حق آشنا کہنے کو ہیں 
 
زیست کے گرداب سے ساحلؔ پکارا دوستو
قلب ہو جن کے مثالِ آئینہ کہنے کو ہیں 
 
مراد ساحلؔ
 ممبئی، مہاراشٹر
موبائل نمبر ؛9405187859
 
کِس قدردیرکی ہے آنے میں
کیامِلاہے مُجھے رُلانے میں
تُم وفائوں کی بات کرتے ہو
اب وفائیں کہاں زمانے میں
ہرزباں پرہے اُن کاافسانہ 
کیامیراذِکر ہے فسانے میں؟
اُن کوفُرصت نہیں کہ بات کریں 
وہ ہیں مصروف دِل جلانے میں
مُسکرانانہیں ہے مُقدرمیں 
ہم ہیں مصرو‘ف غم اُٹھانے میں
دِل پہ جب کوئی چوٹ لگتی ہے 
عمرلگتی ہے بھو‘ل جانے میں
میری دُنیاچھُپی ہوئی ہے ہتاشؔ 
زیرِ لب اُس کے مُسکرانے میں
 
پیارے ہتاش 
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
زمیں سے آسمان چاہتے ہیں 
یہ پرندے اُڑان چاہتے ہیں 
رُتبہ شہرت نہ شان چاہتے ہیں 
ہم فقط اک مکان چاہتے ہیں 
جس پہ گزرا نہ ہو کوئی ہم وہ 
راستہ بے نشان چاہتے ہیں 
چھلنی کر دے جگر کو جو یک دم 
ایسا تیر و کمان چاہتے ہیں 
ہم زمیں مانگتے تھے پر نئے لوگ
آسمان کی اُڑان چاہتے ہیں 
کیا عجب ہےکہ آج کے بچّے 
ماں کی عزّت نہ مان چاہتے ہیں
 
اِندرؔ سرازی
پریم نگر ،ضلع ڈوڈہ، جموں
موبائل نمبر:  7006658731 
 
 
رات بھر چاند کی تشہیر نے دل توڑ دیا 
وحشتِ شام کی تنویر نے دل توڑ دیا 
قیدِ تنہائی نے آزاد کیا وحشت کو!
دوستو ! حلقۂ زنجیر نے دل توڑ دیا 
بارہا فصلِ بہاراں کو جلایا بھی گیا 
بارہا وادئ کشمیر نے دل توڑ دیا 
زرد چہرے کی اُداسی نے بجھایا ہے دل 
بام پر چاند کی تصویر نے دل توڑ دیا 
اک نیا نام بھی شامل تھا وفاداروں میں 
یار کی شوخئ تحریر  نے دل توڑ دیا 
اک شکاری کی طرح تیر چلایا ہم نے 
پھر مگر عبرتِ نخچیر نے دل توڑ دیا 
استعاروں نے بھرم رکھ تو لیا تھا عادل ؔ
تیرے اشعار کی تفسیر نے دل توڑ دیا 
 
اشرف عادل ؔ
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر 
موبائل نمبر؛ 9906540315
 
غزلیات
جادو یہ کیسا واعظ تیرے ہنر میں ہے
دنیا کی چاہ کیسے جگائی بشر میں ہے
 
اخلاق سے گرا ہوا ہوگا کبھی نہ وہ
انجام زندگانی کا جس کی نظر میں ہے
 
مجھ سے وفا نہ کی ہے، مجھے اسکا دُکھ نہیں
میں خوش ہوں باوفا بھی کوئی میرے گھر میں ہے
 
سب اجنبی ہیں بھیڑ میں اپنا کوئی نہیں
بستی یہ کسی بس گئی رنگیں نگر میں ہے
 
پتھر کے دیوتا ترا ہر وار سہہ لیا 
کس سے کہوں وہ درد سب میرے جگر میں ہے
 
جڑ کاٹنے سے بات بنے گی نہیں سعیدؔ
دیتا نہیں ہے پھل مگر سایہ شجر میں ہے
 
سعید احمد سعید
احمد نگر سرینگر،موبائل نمبر؛8082405102
 
 
جھونکا نسیمِ صبح کا کدھر کدھر نہیں گیا
میری گلی سے آج  تک کبھی مگر  نہیں گیا 
جلا ہے گھر غریب کا یہ بجلیوں کے وارسے
امیرِ شہر کے محل تلک نہ وہ شرر گیا
خزاں نے بے لباس کردیا ہے ہر شجر یہاں
ہوا کے زور سے کوئی پتّا بکھر نہیں گیا ہے
کئی چراغ بجھ گئے چھتیں گھروں کی اُڑ گئیں
اُجاڑ سوکھا پیڑ تھا تھا مگر وہ گر نہیں گیا
سیاہیاں گناہوں کی ہیں کس قدر شدید تر
کوئی فرشتہ رات میں یہاں اُتر نہیں گیا
وہاں نہ میلی خاک ہو جہاں مرے قدم پڑیں
تیری گلی سے آج تک، یہ سوچ کر نہیں گیا 
سفر میں جو بھٹک گیا، ارادہ اپنا ہی تو تھا
امیرِ کاروان مجھ کو چھوڑ کر نہیں گیا 
 
جاوید عارف ؔ
پہانو شوپیاں کشمیر -۱۹۲۳۰۳
فون نمبر9797111172
 
 
رہے تاریک تر، میں وہ سحر ہوں 
رہے جو بے اثر ایسا اثر ہوں 
 
تعقب میں مرے کیوں ہے زمانہ
بے منزل میں تو اک بھٹکی ڈگر ہوں 
 
سُنا ہے اُس کے تابع ہیں دوعالم 
میں کیوں اس چارہ گرسےبےخبر ہوں 
 
ہیں پنچھی اُڑ رہے سارے فضا میں 
پرندہ میں مگر بے بال و پر ہوں
 
ہے مجھ سے کیا رقابت آندھیوں کو
میں تو صحرا میں اک تنہا شجر ہوں
 
اُمیدِ صبح ہے مصباحؔ قائم
میں گزری رات کا پچھلا پہر ہوں
 
مصباح فاروق
طالبہ :شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی 
misbahfarooq223@gmail.com
 
 
یادوں کو مٹانا بھول گئے 
اشکوں کو بہانا بھول گئے 
 
سر خم جو کیا ہے پیشِ صنم
ہم سر کو اٹھانا بھول گئے 
 
وہ تو رہبر خود کو کہتے ہیں
ہمیں راہ دکھانا بھول گئے 
 
اسرارجو دل میں دفن کئے 
وہی تم سے چھپانا بھول گئے 
 
رکھتے ہیں طبیعت برہم سی 
ہنسنے کا بہانا بھول گئے 
 
سب چھوڑ کے جن کو اپنایا
اُنہیں ہم یاد آنا بھول گئے
 
واہ ! کیا تدبیریں زیبؔ کمال 
خود کو ہی پانا بھول گئے 
 
زیب ؔ 
طالبہ بارہویں جماعت 
سوپور،موبائل نمبر؛9070885416