تازہ ترین

مجھ سے اچھا کون ہے!

افسانچہ

30 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شہزادہ فیصل منظور خان
صبح کے دس کے آس پاس کا وقت ہوتا۔میں ہسپتال میں نائٹ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر مین گیٹ کے عین سامنے گاڑی کا انتظار کر رہا تھا۔سفید کپڑوں میں ملبوس اسکول بیگ کاندھوں سے لٹکائے میری چھوٹی بہن کی عمر کی ایک لڑکی میرے سامنے سے گزری۔اگلے ہی پل میں پیچھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ایک پچیس تیس سالہ فیشن ایبل لونڈے نے کچھ ایسے الفاظ میں اس ننھی سی جان پر فقرہ باندھا کہ میرے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔غصہ آیا، کچھ الفاظ زباں تک لا کر پیچھے مڑا۔دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اس بے یودہ کے درشن کئے، جو کھسیانی ہنسی ہنس رہا تھا۔اس کے تیور دیکھ اسی رفتار سے سر واپس موڑا۔کنکھیوں سے اس بچی کی طرف دیکھا، جو ایک نظر اس لونڈے اور دوسری مجھ پر جمائے ہوئی پوری لال ہو چکی تھی۔میں نے دور سے آتے ہوئے ایک آٹو رکھشا کو حلقے سے دکھایا۔میں اس میں بیٹھا اور ڈرائیور سے چلنے کو کہا۔سیٹ پر آرام سے بیٹھے ابھی کچھ منٹ ہی ہوئے تھے کہ آٹو والے بھائی صاحب نے معذرت کے ساتھ ایک منٹ روک کر دوکان سے سگریٹ خریدنے کی اجازت مانگی۔ہم نے بڑی موہنی مسکراہٹ کے ساتھ کچھ بڑے ہی معززانہ کلمات میں انہیں اجازت دے دی۔دو ڈھائی منٹ میں وہ واپس آئے۔ادھر آٹو چلا اور ادھر مجھ پر اپنے رویئے کے حسن کا اس قدر شدید احساس ہوا کہ میں خود سے مخاطب ہو کر دل ہی دل میں کہنے لگا کہ " بھائی بڑے نرم دل اور شگفتہ مزاج ہو تم نے کس قدر حسنِ سلوک اور عزت کے ساتھ اس آٹو والے سے بات کی جسے تم جانتے بھی نہیں۔تم جیسے لوگ ہیں جو سماج میں خوشیاں، عزتیں اور آسانیاں پھیلاتے ہیں!" ان ہی حسین خیالات میں منزل آگئی اور ایک اور خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ ہم نے ڈرایئور صاحب کو ان کے پیسے تھما دئے۔دروازے پہ دستک دی تو دروازہ میری بہن نے کھولا۔آٹھویں جماعت میں پڑھتی ہے اور میں نے اسے اپنی آنکھوں سے بڑا ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔وہی بھن جو میرے ہر راز سے واقف اور ہر خوشی میں شریک ہے۔نہ جانے کیوں اسے سامنے پاکر میرے پورے وجود پر ایک خاموشی سی چھا گئی۔ میں نظریں بچاتے ہوئے بڑی تیزی سے کچن میں پہنچ گیا۔اماں سے اونچی آواز میں چائے مانگی۔اسے جلدی جلدی پی کر سونے سے پہلے ایک اور بلند آواز میں کہا " اماں مجھے نماز سے پہلے اٹھا دینا!"
طالب علم ،جی- ایم- سی سرینگر،موبائل نمبر؛8492838989