تازہ ترین

دُھند کار

افسانہ

30 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ساحل احمد لون
میری بیٹی سعدیہ مجھ پہ کم اور اپنی ماں پہ زیادہ گئی ہے۔بازار سے جب بھی ہمارا گزر ہوتا ہے تومجھے ہمیشہ اُسے طرح طرح کی باتوں میں اُلجھا کر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ اگر میں ایسا نہ کروں تو بازار میں موجود بھکاریوں ،معذوروں اورکم عمر موچیوں ،جو اکثر بازاروں میں بیٹھ کر جوتوں کی پالش کرتے ہیں وغیرہ کو دیکھ کر اُس کی جھیل جیسی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرنے لگتے ہیں۔وہ پھر اکثر مجھ سے پوچھتی ہے ،’’ابو! ہم کتنی شاہانہ اور عیش و عشرت والی زندگی گزارتے ہیں مگر جو لوگ بھیک مانگتے ہیں،اتنی چھوٹی عمر میں بازار میں دن بھر بیٹھ کر لوگوں کے جوتے پالش کرتے ہیں،ٹھیلا لگا کر چیزیں فروخت کرتے ہیں،کیا اُن کی زندگی بھی بھی ہماری طرح شاہانہ اور عیش و عشرت والی ہوگی؟‘‘
وہ جذباتی نہ ہو اس لیے میں چہرے پہ ایک فرضی مسکراہٹ سجا کر کہتا ہوں ،’’ ارے ہاں بیٹا کیوں نہیں! ہماری جیسی کیا یہ تو ہم سے بھی زیادہ اچھی،خوشحال اور عیش و عشرت والی زندگی گزارتے ہیں۔‘‘
’’تو ابو! ان کے کپڑے ہم جیسے کیوں نہیں ہوتے؟ اُن کے چہروں پر ہماری طرح خوشی کیوں نہیں ہوتی؟ان کی آنکھوں میں ہر وقت کیوں کوئی درد سا چھپا ہوتا ہیں؟‘‘
اُس کا یہ سوال ہمیشہ میری بولتی بند کردیتا ہے۔میں کہہ بھی کیا سکتا ہوں!
تب اُس کی عمر زیادہ نہیں تھی ۔یہی کوئی تین ساڑھے تین سال کا عرصہ ہوا ہوگا تب سے ۔ہمارے گھر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہی ایک پُل واقع ہے۔اُس نے اسکول سے آتے وقت اُسی پُل کے پاس ایک غیر ریاستی بھکاری کو دیکھا تھا۔گھر پہنچتے ہی وہ بلک بلک کر رونے لگی ۔ہم سب حیران ہوئے کہ اسکول سے آتے ہی اُسے کیا ہوگیا۔شفقت پدری کا جذبہ میرے اندر لاوا بن کر اُبل پڑا اور میں دوڑ کر اُس کے پاس چلا گیا اور اُسے گلے لگا یا۔ اُس کے آنسو پونچھے اور شفقت سے کہا،’’ اے !میری پیاری سی گڑیا کو اسکول سے آتے ہی کیا ہوا،کسی نے مار تو نہیں،کہیں بیمار تو نہیں ہو؟‘‘
اُ س نے میرے سوالات کا نفی میں جواب دیا اور کہنے لگی،’’ ابو آپ کو پتہ ہے،جب ہم گھر سے تھوڑا دور نکلتے ہیں نا،پھر وہاں پر وہ پُل آتا ہے،وہاں پر آج ایک بھکاری تھا۔وہ رو رو کر لوگوں سے سوال کررہا تھا۔اُس کے کپڑے بھی میلے اور پھٹے ہوئے تھے‘‘۔
یہ سُن کر میں نے اطمینان کا سانس لیا اور اُس سے کہا’’ارے میں سمجھا کوئی اور مسئلہ ہے۔‘‘
بچوں کی ضد کے سامنے انسان اکثر ہار جاتا ہے۔نہ جانے اُن کے معصوم چہروں میں ایسا کون سا جادو اور ایسی کون سی کشش ہوتی ہے کہ انسان کتنا ہی پتھر دل کیوں نہ ہو،اُس کا دل بھی اُن کے سامنے موم کی طرح پگھل جاتا ہے اور انسان اُن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔اُس دن سعدیہ نے بھی میرے ساتھ ضد کی، کہنے لگی،’’ابو آپ کو خدا کا  واسطہ ہے،میری قسم ہے اور مما کی قسم ہے،دادی ممی کی قسم ہے اور آپ کو جو بھی پیارا ہے اُس کی قسم ہے کہ آپ کل مجھے اپنی گاڑی میں سکول سے لے آنا چھٹی کے وقت ۔اگر وہ بھکاری کل بھی وہیں پہ تھا تو ہم اُسے گھر لے آئینگے۔ اُسے نئے کپڑے دینگے اور پیٹ بھر کر کھانا کھلائینگے ۔‘‘یہ سن کر مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہوا ۔وہ جیسا  چاہتی ہے ویسا ہی کرنے کا عدہ کیا اور پھر فضا کو خوشگوار بنانے کے لیے میں نے مسکرا کر کہہ دیا کہ،’’سعدیہ! ابھی تک توخالی تمہاری مما ایسی تھی،اب اُس کو ایک اور ساتھی بھی مل گیا،اب تو میری خیر نہیں‘‘۔
اگلے روز وعدے کے مطابق میں اُسے سکول سے اپنی گاڑی میں لے آیا۔پُل پر پہنچے تو وہ بھکاری آج بھی وہیں پہ موجود تھا۔میں نے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور اُس کے کشکول میں ڈال دئے اور اُسے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا تاکہ میں اُسے گھر پہ کھانا کھلاؤں اور نئے کپڑے بھی دوں۔میری بات سُن کر اُسے پہلے تو یقین نہیں ہوا اور شائد کسی شک میں مبتلا ہوا مگر پھر اُس نے میری گاڑی میں ایک معصوم سی بچی کو دیکھا تو اُسے یقین ہوگیا کہ میں کوئی چور ڈاکو اور لٹیرا نہیں ہوں۔اُس کی آنکھوںمیں نمی اُتر آئی اور اُس نے مجھے خوب دعائیں دیں اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
کھانے کھانے کے بعد میں نے اُس گدا گر سے اپنے بارے میں کچھ کہنے کو کہا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور وہ رو رو کر کہنے لگا کہ،’’صاب میرا نام وِشال ہے۔میں اپنے بارے میں کیا کہوں۔۔۔کبھی میرا بھی آپ کی طرح ہی ایک ہنستا کھیلتا پریوار تھا اور پھر ایک دن گیس سلنڈر پھٹ جانے سے میرا سارا گھر خاک ہوا،میرے پریوار کے سارے لوگ جل کر راکھ ہوئے،خالی میں زندہ بچ گیا۔۔۔میں پھر بے بس ہوکر یہاں آگیا۔ اب دن بھر بھیک مانگتا ہوں اور پھر اُن پیسوں سے رات کو پیٹ کی آگ بجھاتا ہوں۔‘‘
   وِشال کی دردناک داستان سُن کر ہم سب بھی جذباتی ہوگئے۔
اُس دن کے بعد سے وشال اور ہمارا ایک اٹوٹ سا رشتہ بن گیا۔وہ مہینے میں چار پانچ بار ہمارے گھر آیاکرتا تھا۔ہم ہر بار اُسے کھانا کھلاتے اور اپنی استطاعت کے مطابق اُس کی مالی امداد بھی کرتے تھے۔وہ سعدیہ کے ساتھ خوب کھیلا کرتا تھا اور وہ بھی اُس کی بڑی قدر کیا کرتی تھی۔۔۔۔اور پھر۔۔۔۔۔اور پھر ایک دن وشال اچانک پُر اسرار طور پر غائب ہوا،نہ جانے کہاں۔ہم نے اُسے کافی تلاش کیا،پُل کے پاس جتنے بھی دُوکاندار اور چھاپڑی فروش تھے اُن سے وشال کے بارے میں پوچھا مگر کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا۔
زندگی بھی بڑی عجیب شے ہے۔حالات جو بھی ہوں،خوشی ہو یا غم،غربت ہو یا امیری ،بیماری ہو یا تندرستی،یہ ہر حال میں گزر کر ہی رہتی ہے۔وشال کو غائب ہوئے دو ڈھائی سال کا عرصہ گزر گیا اور اب وہ آہستہ آہستہ ہمارے ذہنوں سے بھی نکل چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی چند ماہ پہلے ہمارے ایک رشتہ دارلڑکے،جس کی عمر یہی سولہ سترہ برس ہوگی کو لولیس گرفتار کرکے لے گئی،اُس پر انتہا پسندوں کی اعانت کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اُس کے گھر میں اسکے عمر رسیدہ والد کے علاوہ اورکوئی نہیں ہے۔مالی حالت بھی کافی خراب ہے۔میری ماں کو جب اس بارے میں پتہ چلا تو وہ مجھ سے کہنے لگی ،’’اکرم کاکا کے بیٹے کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔وہ بے چارا خود اتنا بوڑھا ہے اور مالی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے،وہ کہاں پولیس تھانوں اور فوجی کیمپوں میں پھرتا رہے گا ۔اس لیے اگر تم سے کچھ بن پائے توتم اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اُسے چھڑوا دو۔اکرم کاکا آج خود ہمارے گھر آیا تھا۔وہ میرے سامنے گڑگڑایا۔‘‘
میں نے کارِ ثواب سمجھ کر حامی بھرلی اور اپنے طور اُسے چھڑانے کی کاوشیں کرنے لگا۔میں نے مقامی پولیس اسٹیشن سے رابطہ قائم کیا تو اُنہوں نے کہا کہ اُس پر سنگین الزامات عائد ہیں اس لیے اُسے تھانے سے سیکیورٹی ایجنسیوں کے افراد کسی نامعلوم جگہ لے گئے۔بسیار تلاش کے بعد مجھے بالآخر اُس کے ٹھکانے کا پتہ چلا اور میں وہاں اُسے چھڑانے چلا گیا۔
’’سر دیکھیے!ہمیں آپ کے عہدے کا پورا پورا لحاظ ہے ۔ہم ضرور اُسے چھوڑتے اگر ہمارے بس میں ہوتا۔مگر اُس نے سنگین جرم کیے ہیں اور پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ اُس کے خلاف صاحب نے خود ثبوت اکٹھے کیے ہیں‘‘۔میرے داخل ہوتے ہی وہاں ایک چھوٹے درجے کے ا فسر نے  مجھ سے یہ بات کہی۔
’’ٹھیک ہے۔اگر اُسے رہائی نا بھی ملے تو کوئی بات نہیں مگر کم از کم اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے میں آپ کے صاحب سے بات کرنا چاہو ں گا۔‘‘ میں  نے جواباً کہا۔
اُس نے ٹیلی فون پر اپنے صاحب سے اس بارے میں بات کی۔کچھ دیر ہوں ہاں کرنے کے بعد اُس نے رسیور نیچے رکھا اور مجھ سے کہا ،’’آپ سیدھے آگے جائیں،بلڈنگ کا دائیں طرف کاآخری کمرہ صاحب کا آفس ہے،آپ وہاں جاسکتے ہیں۔
میں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو کورٹ پتلون میں ملبوس کوئی شخص گہری سوچوں میں گم کرسی پر براجمان تھا۔دروازے کی طرف اُس کی پیٹھ تھی اور منہ دیوار کی جانب،اس لیے میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا۔میں نے دروزاہ کھولتے ہی جب اُس سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو اُس نے اپنی پہیہ دار کرسی کو گھمایا اور اب اُس کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔وہ چہرہ دیکھ کر مجھے ایک کرنٹ سا لگا۔میرا منہ سکتے سے کھلے کا کھلا رہ گیا اور میری زبان سے بس دو ہی الفاظ نکلے،
’’وِشال تم !!!!!!!!!‘‘
برپورہ پلوامہ کشمیر،
طالب علم، بی اے(آنرس)،شعبہ انگریزی،کلسٹر یونیورسٹی سرینگر