تازہ ترین

تعطیل

افسانچہ

30 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد عفان ظہورؔ
اللہ کے فضل سے وسیم کو دس روز کی چھٹی مل ہی گئی۔وہ بہت خوش تھا ،آفس کے ڈیسک پہ بیٹھے بیٹھے اکثر اُسے  ماں کی آواز سنائی دینے لگتی۔پھر رفتہ  رفتہ ڈیسک پر لگی تصویر سے ماں باہر آکر جیسے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگتی۔ماں کا زرد چہرا،اسکے کھردرے ہاتھ اورگالوں کے سیاہ داغ ،وسیم کو یہ سب اب بھی یاد تھا،سات سال گھر سے دوٗر رہنے کے بعد بھی۔ان سات سالوں میں کیا کیا نہیں ہوا تھا۔ماں کی نیم جان جوانی اک طرف پھانسی کے پھندے پہ چڑھ رہی تھی تو دوسریطرف وسیم کی نو وارد جوانی قفس ِ روزگار میں عمر قید ہورہی تھی۔سات سال فقت سات سال ۔اور ایسا لگ رہا تھا جیسے اِن سات سالوں میں ایک تو ساے کا ئیناتیں اجڑبھی چکی ہیں اور نئے سرے سے اب تعمیر بھی ہورہی ہیں۔
مضطرب دل اور بے تاب ذہن کے ساتھ وصیم اپنے فلیٹ کی طرف چل رہا تھا۔ہوا کا خنک جھونکا اس کے جسم سے ٹکرایا تو اسے معاً اپنی ما ں کے ٹھنڈے آنسوں یاد آئے جو اسکے گالوں پرسے رینگتے ہوئے اک دن وسیم کے ماتھے پر آ گِرے تھے ،جب وسیم ماں کی گود میں کرّاہتا اپنے باپ کیلئے جہنّم کی دعا مانگ رہا تھا ،جب وہ اسکی ماں کو جھنجوڑکر چلا گیا تھا،جب وسیم نے پہلی دفعہ اپنے اُس باپ پر ہاتھ اٹھا یا تھا جس سے وہ تب تک آنکھ ملا نے سے بھی ڈرتا آیا تھا۔
جنوری کی یخ راتوں میں وسیم کا  پورا جسم جیسے لاوے کے پھوّارے چھوڑنے لگا۔کپکپاتے ہاتھ سے اپنا ماتھا رگڑ تے وسیم وہ دن یاد کر رہا تھا جب وہ سات برس پہلے اپنے گھر سے بھاگا تھا، صرف اسلئے کہ اسکے باپ نے اسکے رہتے گھر میں واپس داخل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور وسیم نے پہلی دفعہ گھر سے دور کھیتوں میں سوکر رات گزاری تھیاور پوری رات اس زبان کو چبا تا رہا تھا، جس سے اس نے اپنے باپ کی توہین کی تھی۔ اپنے اس ہاتھ کو زور زور سے زمین پر پٹکتا رہا تھاجو اسکے باپ پر اٹھا تھا،جب اس نے خود کو دھتکارتے ہوئے اپنے اس بازوٗ پر بلیڈ سے ضرب لگائے تھے جس بازو سے اس نے اپنے باپ کو دھکّا دیا تھا۔
لرزتے ہاتھ سے وسیم اپنے بازوٗ پر ابھرے نشان کو سہلا رہا تھا۔یہ ابھرے ہوئے نشان وسیم کو اپنے نصیب کی شکنیں لگنے لگے۔وہ ان میں ڈوٗب کر  پھر اس دن کو یاد کرنے لگا  جب اسکی ایک حرکت  نے پوٗرے گھر کے حالات بدل دئے تھے،جب اسکے ایک طمانچے نے اسکی ماں کو ہمیشہ کیلئے اس ظلم و جبر سے آزاد کر دیا تھا،لیکن ساتھ ہی اسکے باپ کی انا چُور چُور ہوئی تھی،وہ انا جو اسکے باپ نے برسوں  استوار کر رکھی تھی اورجس کی کو برقرار رکھنے کیلئے اس کی ماں نے اپنی ساری زندگی نچھاور کر دی تھی۔ برسوں زخم کھائے تھے او ر اب اسکے ایک طمانچے نے ان سب کوششوںپرپانی پھیر دیا تھا۔ یہ کڑوا سچ کہ ’کچھ زندگیا ںرایٗگاں چلی جاتی ہیںـــــــ‘  اسے اندر ہی اندر توڑ رہا تھا۔
اپنی حسّاسیت کو کوستے ہوئے وسیم اپنے فلیٹ میں داخل ہوا۔بیڈروٗم میں قدم رکھتے ہی اسے سات سال پہلے گزرے سارے منظر یاد آنے لگے۔ کیسے اسکا باپ ہر بار اسکی ماں کو پیٹ کر کھرّاٹے مارتا ہوا سو جاتا تھا اور اسکی ماں رات بھر رو دھو کر صبح اسکے لئے ایسے چائے لاتی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔جیسے رات گزرا ہوا محض ایک ڈرائونا خواب تھا  اور معاملہ یوں ہی رفع دفع ہو جاتاتھا۔
اسکا ذہن چیخ رہا تھا’’کیا ضرورت تھی مجھے ہاتھ اٹھانے ؟کیا ضروٗرت تھی اخلاق جھاڑنے کی؟،۔۔۔۔کیا ضروٗرت تھی؟۔۔۔آخر کیا ضروٗرت تھی؟‘‘
اسکے باپ کا سرخ گال اور لرزتے ہوئے ہونٹ یکسر اسکے ذہن میںپھرنے لگے۔۔گول ۔۔۔گول۔۔۔گول ۔۔اور وہ چکرا کر بیڈ پہ گر پڑا۔اسکی آنکھوں سے آنسوںٗایسے بہہ رہے تھے جیسے آسمان برف کے بڑے بڑے گالے گرا گرا کر ہلکان ہو رہا ہو۔
کچھ دیر بعد اس نے ہوش سنبھالا اورفون اٹھا کراپنی بہن کو میسیج کرنے لگا:
’’چھوٹی !میں اس سال بھی گھر نہیں آ پائوں گا ۔میری چھٹّیاں پھر رد ہوگئیں ہیں۔انشاء اللہ اگلے سال آنے کی پوٗری کوشش کروٗںگا۔‘‘
میسیج بھیج کے وہ چھٹیاں بتانے کیلئے ہل اسٹیشن تجویز کرنے لگا۔
ایسا ہل اسٹیشن، جہاں بے تحاشا برف باری ہورہی ہو۔اتنی کہ برف کی تہیں اسکی جلد،اسکے ذہن اور اسکی روٗح پر اس قدر منجمد ہوجائیں کہ اسکے ابھرے ہوئے تمام زخم دب جائیں اور اسکا دل ہمیشہ کیلئے یخ بستہ ہوجائے، یعنی بے احساس۔۔۔۔۔  
���
طالب علم،شعبہ اردو جامع ملیہ اسلامیہ نئی دہلی
90فٹ الٰہی باغ،سرینگر،موبائل نمبر7889437961