تازہ ترین

اسکولی ٹرانسپورٹ۔۔۔۔۔ ایک حوصلہ افزاء پیش رفت!

28 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر کے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے اسکولی بچوں کو لانے اور لے جانے والی گاڑیوں کے حوالے سے جاری کردہ تازہ حکمنامہ نہ صرف وقت کی اہم ضرورت تھی بلکہ سنجیدہ فکر سماجی حلقوں کی جانب سے اس کے لئے عرصہ دراز سے مطالبہ کیا جا تا رہا ہے۔ ماضی میں کئی مرتبہ ان کالموں میں بھی اس کی ضرورت کا احساس اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق ضلع سرینگر میں چلائے جانے والے اسکولوں کی انتظامیہ اور پرنسپل صاحبان کو اس حکمنامے کے ذریعے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں کےلئے استعمال ہونے والی گاڑیوں میں بچوں کی اوور لوڈنگ سے اجتناب کریں اور منظور شدہ نشستوں سے زیادہ بچوں کو سوار نہ کریں نیز کسی قسم کے حادثہ سے محفوظ رہنے کےلئے سیٹ بیلٹ باندھنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسکولوں پر یہ بھی باور کیا گیا ہے کہ اس کام کےلئے صرف وہیں گاڑیاںاستعمال کی جائیں جنہیںمتعلقہ حکام کی جانب سے کمرشل پرمٹ دیا گیا ہو، کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی سکول پرائیوٹ گاڑیوں میں بچوں کو سوار کرتے ہیں اور اُن میں سے کچھ ڈرائیور کمرشل لائسنس یافتہ بھی نہیں ہوتے ۔حکمنامے میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ان گاڑیوں کو چلانے والوں کے پاس کم از کم ڈرائیونگ کا پانچ سالہ تجربہ ہونا چاہئے۔ نیز بچوں کو سنبھالنے کےلئے گاڑی میں ایک اٹیڈنٹ کا ہونا بھی لازمی قرار دیاگیا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے قواعد و ضوابط اور عدالت عظمیٰ کی ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کےلئے سکولوں کے پرنسپل صاحبان کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جو ایک انتہائی حوصلہ افزاء اور خوش آئند اقدام ہے۔تعلیمی شعبہ چونکہ ہر سماج میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتاہے، لہٰذا اس میں موجود خوبیوں اور خامیوں کو سماجی سطح پر زیر بحث لایا جانا بہت ضروری ہے۔ فی الوقت ریاست میں نجی تعلیمی شعبہ کا ایک اہم رول ہے اور لاکھوں بچے اس کے توسط سے تعلیم حاصل کر کے زندگی کے ابتدائی مراحل کی تربیت میں مصروف ہیں، لہٰذا سماج کی مثبت ترقی میں اس کے رول کو نظر انداز نہیں جاسکتا، تاہم متعدد معاملات ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر چہ اسکولوں کی مختلف انجمنیں بھی اپنے اراکین کو اُن ہدایات، جو اصل میں عدالت عظمیٰ کے احکامات کے مطابق مرتب کی گئی ہیں، پر عمل درآمد کیلئے زور ڈالتی رہتی ہیں،لیکن اسکے باوجود روزانہ سڑکوں پر ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، جب طلبہ کو لانے لے جانے والی کئی گاڑیاں طوفانی رفتار کے ساتھ چلتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہیں ۔ خاص کر جن گاڑیوں میںچھوٹی کلاسوں کے بچے سوار ہوتے ہیں انہیں تیز رفتاری کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھ کر دیکھنے والوں کا دل دہل جاتا ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ سبھی کو اس میں شمار کیا جاسکتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ متعدد ڈرائیور اکثر تیز رفتاری کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں، حالانکہ بیشتر ریاستوں میں اسکولی گاڑیوں پر رفتار قابو کرنے والے آلات(Speed Governer)نصب کرنے کی ہدایات موجود ہیں، جنکے تحت کوئی بھی ایسی گاڑی چالیس کلو میٹر سے زیادہ رفتار پر چلنے کی اہل نہیں ہوسکتی ، مگر یہاں ایسا کچھ نظر نہیںآتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لاپرواہ طبعیت کے حامل ڈرائیور اپنی رفتار پر قابو نہیں رکھتے،جس کی وجہ سے بچوں کو ہمیشہ خطرات کا سامنا رہتا ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کئی اسکول گاڑیوں میں سیٹنگ سہولیات کے مطابق طلبہ کو سوار نہیں کرتے۔ خاص کر چھوٹی گاڑیوں میں منظور شدہ نشستوں سے زیادہ مقدار میں سواریاں بٹھائی جاتی ہیں، حالانکہ ریاستی حکومت کی جانب سے یہ واضح ہدایات موجود ہیں کہ اسکولی گاڑیوں میں منظور شدہ نشستوں سے زیادہ بچوں کو نہیں بٹھایا جانا چاہئے مگر متعدد اسکولوں ،خاص کر پری نرسری، نرسری اور پرائمری درجوں کے سکولوں، کی طرف سےچلائی جانے والی گاڑیوں میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ٹھُنسےٹھُنسے نظر آنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اسکےعلاوہ سکولوں کی جانب سے کرائے پر حاصل کی جانے والی گاڑیوں پر سرکاری ہدایات کے مطابق زدر رنگ اور ان پر جلی حروف میں سکول کا نام اور رابطہ نمبر درج ہونا چاہئے اور اکثر سکولوں کی گاڑیوں میں ایسا ضرور ہوتا ہے لیکن کئی ایسے سکول بھی ہیں جن کی طرف سے اس معاملے میں کوتاہی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔کیا اسکی کبھی جانچ ہوتی ہے؟ یہ محکمہ ٹریفک کنٹرول ہی بتا سکتا ہے، تاہم یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہوگا کہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے خال خال ہی ایسی جانچ کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اگر چہ اسکولوں کے انتظامی صیغوں کی جانب سے بار بار ایسی یقین دہانیاں کرائی جاتی رہی ہیں مگر ہدایات کی خلاف ورزی کے معاملات کو یکسر مسترد نہیںکیاجاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ والدین کی جانب سے شکایات درج کئے جانے کے نتیجہ میں اسکولی منتظمین کاروائیاں کرتے ہیں، لیکن پرائیوٹ اسکولوں کے منتظمین پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ خود بھی ایک ایسا میکانزم قائم کریں جس کے تحت وہ وقتاً فوقتاً از خود ایسے معاملات جائزہ لیتے رہیں۔ بہر حال بچے ہمارا مستقبل ہیں اور قوم کی فلاح و بہبود کی بنیا د نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور انہیں بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مضمر ہے، لہٰذا اس جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فی الوقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سرینگر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے اور انتظامیہ میں یہ احساس اُجاگر ہونا چاہئے کہ ایسے احکامات ریاست کے سارے اضلاع کےلئے جاری ہوں اور ان پر عملد درآمد یقینی بنایا جانا چاہئے۔