تازہ ترین

مزید خبریں

27 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک

’آؤ چلیں گائوں کی اور‘

افسران نئے تجربوں سے مستفید

گورنر انتظامیہ کو تحریری طورعامی مسائل سے آگاہ کریں گے

اشفاق سعید 

سرینگر// ریاست کے دیہی علاقوں میں تعمیر وترقی کیلئے منصوبہ بندی،افسران کو دیہات کے عوامی مسائل سے روشناس کرنے ، پنچایتی راج اداروں کو متحرک بنانے ، اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور سرکاری خدمات عوام کی دہلیز پر فراہم کرنے جیسے مقاصد کے ساتھ گورنر انتظامیہ نے 20جون کو بیک ٹو ولیج پروگرام شروع کیا جو آج اختتام پذیر ہو رہا ہے ۔ ریاست کے4ہزار اعلیٰ افسران کو ہر ایک پنچایتی حلقوں میں تعینات رکھا گیا تھا جن کے سامنے لوگوں نے مسائل پیش کئے۔ تاہم اس پروگرام کے ذریعے افسران کو بھی کام کرنے کیلئے ایک نیا تجربہ ملا ۔ پروگرام کے تحت ہر ایک افسر کو دو دن اور ایک رات متعلقہ گائوں میں ہی قیام کرنا پڑا اور اس دوران دیہی مجلس کا انعقاد اورعوام کے ساتھ بات چیت کرکے ان کے مسائل قلمبند کرنا اور پھر خدمات کی فراہمی کے حوالے سے رپورٹ تحریری طور پر حکام کو پیش کرنا ہے۔اس دوران آبی ذخائر کے تحفظ کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی کا خط بھی عوام تک پہنچایا گیا۔اس پروگرام کے تحت افسران نے صفائی ستھرائی اور سماج میں بہتر خدمات کیلئے ملازمین ، مقامی لوگوں اور طلاب میں اسناد بھی پیش کیں ۔ دیہی ترقی کے ڈائریکٹر کشمیر قاضی سرور نے اس حوالے سے بتایا کہ اس پروگرام سے لوگ مستفید ہوں گے اورافسران کو بھی کام کرنے کا نیا تجربہ ملے گا ۔انہوں نے کہا ’’ ہمیںاس پروگرام سے نئے تجربات ہوئے ہیں‘‘ ۔قاضی سرور کو بیک ٹو ولیج پروگرام کے تحت پانپور میں تعینات کیا گیا تھا جہاں انہوں نے کئی ایک گرام سبھا میں حصہ لیکر لوگوں کے مسائل او ر مشکلات سنے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام مستقبل میں بھی شروع رہنے چاہئیں تاکہ لوگوں کے مسائل حل ہو سکیں ۔ ڈائریکٹر انڈسٹریز اینڈ کامرس محمود شاہ کو اس پروگرام کے تحت کرناہ بھیجا گیا تھا جہاں انہوں نے کئی ایک پروجیکٹوں کے کام کاج کا جائزہ لیا اور لوگوں کی روئداد سنی ۔انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مجھے اس دورے کے بعد یہ تجربہ حاصل ہوا کہ میں اب لوگوں کے مشکلات کے مطابق ہی نئے منصوبے ترتیب دوں گا ۔ڈائریکٹر ہاٹی کلچر کشمیر اعجاز احمد بٹ کو گریز کے بگتور علاقے میں تعینات کیا گیا تھا جہاں انہوں نے کئی ایک نئے پروجیکٹوں کے افتتاح کے بعد لوگوں کے مسائل سنے اور گرام سبھا میں شامل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ایک افسر کو لوگوں کے مسائل ،علاقے کی اقتصادی اور جغرافیائی پوزیشن کا تب پتہ چلتا ہے جب وہ خود اُس علاقے کا دورہ کر کے لوگوں کی باتیں سنتا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان ڈاکٹر اویس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سب سے اچھی بات اس میں یہ رہی کہ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اُن کے 50فیصد مسائل موقعہ پر ہی حل کئے گئے۔
 
 
 

جنوبی کشمیرمیں لوگوں نے انتظامیہ کو مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا  

سرینگر// ایک ہفتہ طویل پروگرام’آئو چلیں گائوں کی اور‘ پروگرام کے ساتویں دن نامزد افسروں نے جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے لوگوں کے ساتھ اِستفسار کیا ۔ اس دوران مقامی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس پروگرام میں حصہ لیا اور اپنے اپنے معاملات کو حکمرانوں کی نوٹس میں لایا۔کولگام میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے گرام سبھائوں اور میٹنگوں میں شرکت کی اور دور ہ کرنے والے افسروں کو اپنے اپنے مسائل کے بارے میںجانکاری دی۔ لوگوں نے حکومت کے اس قدم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دیہی علاقوں کے ترقیاتی منظرنامے میں مدد ملے گی۔ترقی پسند کاشتکار عبدالحمید گنائی نے کہا کہ اِس پروگرام کی بدولت ضلع کے کسانوں کو کافی فائدہ ملا ہے۔ڈی سی ڈاکٹر شمیم احمدوانی نے کہا کہ’’ بیک ٹو ولیج ‘‘پروگرام کے ذریعے سے ضلع کے دُور افتادہ علاقوں تک پہنچنے میں مددملی ہے۔پلوامہ میں دِن کی شروعات مختلف پنچایتی حلقوں میں متعدد سرگرمیوں سے ہوئیں ۔ اس دوران لوگوں نے اپنے اپنے مطالبات نامزد افسروں کی نوٹس میں لائے ۔ ڈائریکٹر فائنانس محکمہ تعلیم غلام محمد نے ایڈیشنل ڈی سی ترال شبیر احمد کے ہمراہ ستورہ گائوں میں عوامی دربار کا اِنعقاد کر کے لوگوں کے مسائل کے بارے میںجانکاری حاصل کی۔اسی طرح ڈائریکٹر فائنانس ہیلتھ رفیع احمد اور جوائنٹ ڈائریکٹر ایف سی ایس اینڈ سی اے نذیر احمد کاکہ پورہ اور پنگلن گائوں میں عوامی درباروںکا انعقاد کیا۔ اس موقعہ پر لوگوں نے پانی ، بجلی ، صحت ، کھیل کود ، آبپاشی، سڑک رابطے ، فلاحی سکیموں اور دیگر شعبوں سے جڑے معاملات کو اُجاگر کیا۔ کئی مقامات پر گرام سبھائوں کا بھی انعقاد کیا گیا اور لوگوں کی ترقیاتی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔شوپیاں میں بھی نامزد افسروں نے متعدد علاقوں کا دورہ کر کے لوگوں کی دہلیز پر ہی ان کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔نامزد افسروں نے ڈوم پورہ اور کیگام پنچایتی حلقوں میں گرام سبھائوں کا اِنعقاد کر کے لوگوں سے ترقیاتی سکیموں کے تعلق سے فیڈ بیک حاصل کیا۔اننت ناگ میں 70پنچایتی حلقوں میں یہ پروگرام شروع ہوا جن میں ویسو، قاضی گنڈ ، شاہ آباد، ویری ناگ اور ہلر بلاک شامل ہیں۔ڈائریکٹر فائنانس امتیاز احمد وانی اور ڈائریکٹر فشریز آر این پنڈتا نے مختلف حلقوں کا دورہ کر کے وہاں عوام اور پی آر آئی ارکان ، سول سوسائٹی اور طلاب کے ساتھ بات چیت کی اور ان کے مسائل سنے ۔دورہ کرنے والے افسروں نے سرکاری اداروں اور تنصیبات کا بھی معائینہ کیا ۔ اس دوران ثقافتی پروگرام اور کھیل سرگرمیاں بھی منعقد ہوئیں جبکہ متعلقین میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔اے سی ڈی اننت ناگ محمد اسلم ، ویسو ،قاضی گنڈ ، ویری ناگ اور شا ہ آباد کے بلاک ڈیولپمنٹ افسروں کے علاوہ متعلقہ محکموں کے کئی دیگر افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔
 
 

 شمالی کشمیر میں جوش و خروش دیکھنے کو ملا

سرینگر// ایک ہفتہ طویل پروگرام کے ساتویں دن شمالی کشمیر کے متعدد دیہات میں کافی جوش و خروش دیکھنے کو ملا اور وہاں کا دورہ کرنے والے افسروں کا مقامی لوگوں نے والہانہ استقبال کیا ۔ پروگرام میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ بانڈی پورہ میں افسروں نے دور افتادہ پنچائتوں کا دورہ کیا جن میں بانڈی پورہ کے ادارہ ، سریندر ، چونٹی مولہ ، بٹھو کے علاوہ گریز وادی کے داور، شاہ پورہ ، بڈوآب ، سونہ واری کے گُند پرنگ اور ترگام شامل ہیں ۔ گُجر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے روائتی انداز سے نامزد افسروں کا استقبال کیا اور اس دوران روائتی گانے بھی پیش کئے گئے ۔ مقامی لوگوں نے بیک ٹو ولیج پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ کسی اعلیٰ افسر نے اُن کے گاؤں کا دورہ کیا ۔ کُدھارہ گاؤں کی روشن جان نے کہا کہ پہلی مرتبہ وہ بااختیار محسوس کر رہی ہیں کیونکہ اُن کے مسائل کی طرف حکومت کی طرف سے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ ڈی سی بانڈی پورہ ڈاکٹر شہباز احمد مرزا ، ایڈیشنل ڈی سی ظہور احمد میر ، اے ڈی ڈی سی محمد یوسف میر اور کئی دیگر افسروں نے مختلف پنچائتوں کا دورہ کر کے بیک ٹو ولیج پروگرام میں شرکت کی ۔ بارہمولہ میںساتویں دن مختلف پنچائتی حلقوں کو بیک ٹو ولیج پروگرام کے دائرے میں لایا گیا جس دوران وہاں کئی ترقیاتی کاموں کی شروعات بھی ہوئی ۔ سنگرامہ ، ٹنگمرگ ، رفیع آباد ، تُجر ، کھئی پورہ اور دیگر بلاکوں کے پنچائتی حلقوں میں عوامی رابطہ مہم چلائی گئی ۔ لالڈ سنگرامہ میں آر ٹی او کشمیر اکرم اللہ ٹاک نے ایک کھیل کے میدان کا افتتاح کیا ۔ انہوں نے وہاں ایک گرام سبھا کا بھی انعقاد کیا جس میں مقامی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے اپنے مسائل کو حکام کی نوٹس میں لایا ۔ ڈائریکٹر اسٹیٹس طارق حسین گنائی نے بابا ریشی ، چونٹھ پتھری میں پی آر آئی ارکان کے ساتھ بات چیت کی اور ترقیاتی منظر نامے کا جائیزہ لیا ۔ انہوں نے وہاں ایک کلورٹ کا بھی افتتاح کیا ۔ عوامی رابطہ پروگرام کے دوران کئی عوامی کاموں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ۔ اس دوران افسروں نے عوامی نوعیت کے کئی اداروں اور تنصیبات کا دورہ کیا اور لوگوں کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کی ۔ 
 
 
 

وسطی کشمیر میںعوامی دربار لوگوں کی بھاری شرکت 

سرینگر// وسطی کشمیر میں پروگرام کے تحت منعقد کی گئی گرام سبھاؤں اور بیداری پروگراموں میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی جس میں خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی شامل تھی ۔ بڈگام میں کمشنر سیکرٹری محنت و روز گار سوربھ بھگت نے شیخ پورہ پنچائتی حلقے میں عوامی رابطے کی ایک مجلس منعقد کی اور لوگوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ ڈی سی بڈگام ڈاکٹر سید سحرش اصغر نے اس موقعہ پر ضلع بڈگام میں بیک ٹو ولیج پروگرام کی سرگرمیوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بڈگام ضلع کے بچوں میں کافی صلاحتیں موجود ہیں اور وہ خاص طور سے تعلیم ، کھیل کود اور دیگر شعبوں میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں ۔ اس موقعہ پر شیخ پورہ اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے بنیادی نوعیت کے معاملات افسروں کی نوٹس میں لائے ۔ مختلف محکموں کے افسروں نے لوگوں کو دیہی علاقوں کی بہبودی کیلئے عملائے جا رہے پروگراموں کے بارے میں جانکاری دی ۔ بعد میں شیخ پورہ سٹیڈیم میں سوربھ بھگت نے ایک کرکٹ میچ کا افتتاح کیا اور کھلاڑیوں میں کھیل کٹ تقسیم کئے ۔ دریں اثنا ہری پورہ ہرن میں ڈائریکٹر کمانڈ ایریا کشمیر محمد ہارون ملک نے عوامی رابطہ پروگرام منعقد کیا اور مختلف سرگرمیاں انجام دیں ۔ ظہور احمد ماگرے پرسنل آفیسر محکمہ تعلیم نے گریند خُرد پنچائت حلقے کا دورہ کر کے لوگوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ سوئی بُگ بلاک میں 16 پنچائتی حلقوں کو اس مہم کے دائرے میں لایا گیا ۔ ایڈیشنل سیکرٹری جی اے ڈی پرویز احمد رانا  اور کئی دیگر افسروں نے مختلف بلاکوں کا دورہ کر کے لوگوں کے ساتھ استفسار کیا اور اُن کے مطالبات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ چوتھے مرحلے کے دوران بڈگام میں 13 ، رٹھسن میں 10 اور چرار شریف میں 7 پنچائتوں کا افسروں نے دورہ کیا ۔ چرار شریف بلاک میں یہ پروگرام ڈپٹی سیکرٹری آر اینڈ بی ظہور احمد رینہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر سیاحت سرفراز احمد کی سربراہی میں منعقد کئے گئے ۔ گاندر بل ضلع میں گُٹلی باغ میں ایک کھیل کے میدان کا افتتاح اور کرکٹ میچ کے انعقاد سے ہوا ۔ اس موقعہ پر اے ڈی ڈی سی گابدر بل شفقت اقبال نے مقامی کھلاڑیوں لوگوں میں خوراک کٹ بھی تقسیم کئے ۔ اس موقعہ پر لوگوں نے پانی ، بجلی ، صحت ، تعلیم ، ایم جی نریگا اور دیگر شعبوں کے معاملات اُن کی نوٹس میں لائے ۔ اے ڈی ڈی سی کے ہمراہ اے سی ڈی گاندر بل محمد اشرف اور کئی دیگر افسران بھی تھے ۔ دریں اثنا کئی دیگر نامزد گزٹیڈ افسروں نے ضلع کے مختلف پنچائتی حلقوں کا دورہ کر کے لوگوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔سرینگر میں اپنی نوعیت کیے اس منفرد پروگرام میں متعدد سرگرمیاں عملائی گئیں جن میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی ۔ جن بلاکوں میں توسیع پروگرام شروع کیا گیا اُن میں سرینگر بلاک کا لسجن بی اور ہارون بلاک کے تھید بی اور فقیر گُجری اے شامل ہیں ۔ ان حلقوں میں نامزد افسروں نے مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کی اور اُن کی ترقیاتی ضروریات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ مقامی لوگوں نے اُن کے مسائل حل کرنے میں انتظامیہ کی مداخلت طلب کی۔ ان مسائل کا تعلق بجلی ، پانی ، ڈرنیج ، سڑک رابطوں ، تعلیم اور دیگر شعبوں سے تھا ۔ نامزد افسران کل ایک بار پھر ان حلقوں کا دورہ کر کے مختلف ترقیاتی کاموں کا معائینہ کریں گے اور لوگوں کے مسائل کے تعلق سے ایک رپورٹ تشکیل دیں گے تا کہ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ضلع انتظامیہ کی طرف سے لازمی اقدامات کئے جا سکیں ۔ 
 
 

 شیری میں ہوٹل مو مو کیفے کا افتتاح

بارہمولہ/فیاض بخاری/ شیری بارہمولہ میں بدھ کوایک منفرد اور شاندا ر ہوٹل دی مو مو کیفے کا افتتاح کیا گیا ۔یہاں کشمیر ی اور دیگر پکوان مناسب قیمتوں پر دستیاب رکھے جارہے ہیں ۔اس موقع پر علاقے کی نامور شخصیات بھی موجود تھیں۔ 
 
 

چرار شریف میں لنگر

بڈگام //چرارشریف میں درگاہ حضرت شیخ العالمؒ کے احاطے میں آج تقریبا26 کوینٹل چاول ، راجماش 6 کوینٹل، پیاز 2کوینٹل، مولی 2 کوینٹل اور کدو1 کوینٹل پر لنگر تیار کرکے بعد از نماز  عصر عوام میں تقسیم کرنے کا عمل شروع کیا جائیگا۔جو دیر گئے تک جاری رہے گا۔ اس سلسلہ میں تحصیل بھر کے مضافاتی علاقوں سے وابستہ لوگ پہلے کی طرح ابھی بھی پیش پیش رہے ۔ 
 
 
 
 

کمشنر سیکریٹر ی اطلاعات نے محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا

جموں// محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کے کمشنر سیکریٹری منوج کمار دویدی نے محکمہ کے میڈیا کمپلیکس میں ایک میٹنگ طلب کر کے ادارے کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات جموں نریشن کمار ، ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات و رابطہ عامہ جموں میناکشی وید ،یوتھ انفارمیشن آفیسر عمران رشید کٹاریہ ، فیلڈ پبلسٹی آفیسر وپن بھگت ، کلچرل آفیسر پرول کھجوریہ اور فوٹوافسر احمد خان کے علاوہ محکمہ کے دیگر سینئر افسران و اہلکار موجود تھے۔جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لئے کئے جارہے اقدامات کے بارے میں تفصیلات دیں۔فنکاروں کے گریڈ پر نظر ثانی کرنے ، کنٹریکچول /کیجول عملے کی مستقلی ، ای بلنگ کو شروع کرنے اور عملے کی کمی پر قابو پانے کے علاوہ ڈی پی سی کے معاملات پر سیر حاصل بحث کی گئی ۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سیکریٹری نے محکمہ کی کارکردگی میں مزید نکھار لانے پر زور دیا تاکہ حکومت اور میڈیا کے درمیان رابطے کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔انہوں نے فیلڈ سرگرمیوں میں مزید بہتری لانے کی تلقین کی ۔اُنہوں نے محکمہ میں خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے اور ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کی میٹنگ بلانے پر بھی زور دیا۔کمشنر سیکریٹری نے متعلقہ افسرو ں کو ہدایت دی کہ وہ بیک ٹو ولیج پروگرام کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دیں۔ انہوں نے ریاست کے تین صوبوں کے لئے الگ الگ ڈاکیومنٹری تیار کرنے کے لئے کہا۔
 
 
 

 کرگل میں زیر تعمیر کورٹ کمپلیکس جلد مکمل کرنیکی ہدایت

کرگل// جموں کشمیر ہائی کورٹ کے جج جسٹس تاشی ربستان نے کرگل اور لہیہ کے دورے کے دوران کانفرنس ہال بارو میں انتظامیہ اور عدلیہ کے اعلیٰ افسروں کی ایک میٹنگ طلب کی ۔ ڈپٹی کمشنر کرگل بصیر الحق چودھری ، پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کرگل ریاض الحق مرزا، ایس پی کرگل ڈاکٹر ونود کمار اور کئی دیگر افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے ۔ میٹنگ کے دوران جسٹس ربستان نے افسروں سے کربا تھانگ کرگل میں کورٹ کمپلیکس کی تعمیر کیلئے اراضی تفویض کرنے سے جُڑے معاملات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ انہوں نے ڈی سی کرگل کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور سے پہلے سے الاٹ شدہ اراضی تفویض کریں انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تنازاعات کو فوری طور سے حل کیا جانا چاہئیے ۔ جسٹس نے ضلع ہیڈ کوارٹر پر کورٹ کمپلیکس تعمیر کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر سے متعلق ڈی پی آر 15 جولائی تک داخل کی جانی چاہئیے ۔ انہوں نے دراس ، سانکو اور زانسکار میں کورٹ کمپلیکس کی تعمیر کے حوالے سے ڈی پی آر جلد از جلد تیار کرنے کی بھی وکالت کی ۔ انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ سولر پاور سہولیات ، ای کورٹ نظام ، لفٹ اور دیگر سہولیات کا مد ڈی پی آر تیار کرتے وقت ضرور شامل کریں ۔ انہوں نے تمام عدالتوں میں ریمپ تعمیر کرنے کیلئے ڈی پی آر تیار کرنے کی بھی ہدایت دی ۔ دریں اثنا جسٹس تاشی ربستان نے کھمبا تھانگ کرگل میں ڈسٹرکٹ جیل کی تعمیر سے متعلق پیش رفت کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی ۔ انہوں نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ باقی ماندہ کام جلد از جلد مکمل کریں ۔
 
 

کرگل میں گہما گہمی 

سرینگر// عوامی رابطہ مہم ’’آئو چلیں گائوں کی اور ‘‘کے سلسلے میں کرگل ضلع مختلف گرام پنچایتوں میں کئی پروگرام منعقد ہوئے ۔ ضلع کے واکھاہ ، مشکواور چانی گنڈ پنچایتوں کے علاوہ افتی اور پدم پنچایتوں میں بھی گرام سبھائیں منعقد ہوئیں  جن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔جموں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر پنکج مگوترہ اور خاطر تواضع محکمہ کے ایڈیشنل سیکرٹری تلک راج نے پنچایتی راج اداروں کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران ترقیاتی سرگرمیوں کا جائز ہ لیا۔نامزد افسروں نے پنچایتی راج اداروں کے ممبران اور معزز شہریوں سے مختلف فلاحی سکیموں کی عمل آوری کے سلسلے میں فیڈ بیک حاصل کیااور لوگوں کو درپیش مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔اس دوران دیگر کئی افسران نے بھی ضلع کے مختلف پنچایت حلقوںمیںعوامی رابط پروگراموں میں شرکت کی۔
 
 

اروند کمارآئی بی اور سمنت کمار گوئل راچیف مقرر

نئی دلی// مرکزی کابینہ کی تعیناتی کمیٹی جس کی سربراہی وزیراعظم نریندر مودی کررہے ہیں ،نے آئی پی ایس آفئیسر اروند کمار اور سمنت کمارگوئل کو بالترتیب انٹی جنس بیورو(آئی بی ) اور ریسرچ اینڈ انیالسز ونگ(را)کے سربراہ کے طور تعینات کیا ہے ،اروند کمار سابق آئی بی چیف راجیو جین کی جگہ لین گے جو 30جون کو سبکدوش ہونگے جبکہ گوئل اپنے پیش رو انیل کے دھاسمانا کی جگہ سنیچر کو لیں گے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جین اور دھاسمانا جنہیں2016میں خفیہ ایجنسیوں کی کمان دی گئی تھی ،کو دسمبر میں 6ماہ کی مدت کار میں توسیع کی گئی تھی ۔اروند کمار 59ایک1984بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہیں جو آسام میگھالیہ کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں اس وقت آئی بی کے سپیشل ڈائریکٹر تھے ۔جبکہ گوئل پنجاب کیڈر سے 1984بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہیں اور اس وقت راء کے سپیشل سیکریٹری ہیں ۔ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جموں وکشمیر میں پلوامہ فدایئین حملے کے بعد بالا کوٹ پر فضائی حملوں میں کلیدی رول ادا کیا تھا جبکہ سرجیکل سٹرائک میں بھی اہم تھے۔
 
 
 

لیتہ پورہ پلوا مہ فدائین حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں تھی :مرکز

سرینگر//لیتہ پورہ پلوا مہ فدائین حملے میں انٹیلی جنس کی ناکام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مرکز نے واضح کیا کہ جموں کشمیر گزشتہ تین دہائیوں سے عسکریت سے متاثر ہے اور اس کے پیچھے پاکستان کی پشت پناہی ہے ۔ لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ کے امور جے کیشن ریڈی نے بتایا کہ پلوامہ حملے میں انٹیلی جنس کی کوئی کوتاہی نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر گزشتہ تین دہائیوں سے عسکریت کا شکار ہے اور تمام کارروائی سرحد کے اس پار سے عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ ریڈ ی نے کہا کہ جموں کشمیر میں عسکریت مخالف کارروائیاں جاری ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشنوں میں بڑی تعداد میں جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں تمام ایجنسیاں پورے تال میل سے کام کر رہی ہے جبکہ انٹیلی جنس ایجنسیاں وقت وقت پر فورسز کو اطلاعات فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے پلوامہ حملے میں ملوث افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارورائی عمل میں لائی جبکہ کئی ایک کو گرفتار بھی کیا گیا ۔
 
 
 

 سیاحتی صنعت تباہی کے دہانے پر:تاریگامی 

ٹی وی چینلوں کی منفی نشریات بڑ اسبب

سرینگر// سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہاہے کہ کشمیر وادی میں سیاحتی صنعت تباہی کے دہانے پر ہے اور جہاں ہائوس بوٹ خالی ہیں وہیں ٹیکسی ڈرائیوروں اور شکارا مالکان کا کاروبار بھی ٹھپ ہوکر رہ گیاہے ۔اپنے ایک بیان میں تاریگامی نے کہاکہ یہ شعبہ اپنے سب سے بڑے بحران سے گزر رہاہے اور کئی ہوٹل بند ہوگئے ہیں جن سے عملے کو نکال دیاگیاہے جبکہ اس صنعت سے جڑے افراد خود کوئی متبادل یا یہاں تک کہ روزگار کے مواقع تلاش کررہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ شعبہ سیاحت سے جڑے تاجر بشمول ہینڈی کرافٹ ، ریستوران اورٹرانسپورٹروں کو بھی مالی بحران کا سامناہے اوراس شعبے سے وابستہ افراد کو اپنے اہل خانہ کیلئے روزی روٹی کا بندوبست کرنا مشکل ہورہاہے ۔انہوں نے کہاکہ ٹی وی چینلوں نے کشمیر کے تئیں منفی پروپیگنڈا پھیلا کر خوف کا ماحول پیدا کررکھاہے جس سے شعبہ سیاحت کو نقصان پہنچاہے ۔تاریگامی نے کہاکہ منفی خاص کر تشدد پر مبنی مسلسل نشریات جو وادی کشمیرمیں اصل حقیقت نہیں ہے، کو چلاکر کشمیر میں سیاحوں کی آمد کو کم کردیاگیاہے اور بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا کشمیر کے حوالے سے اچھی باتوں کو نہیں دکھارہا۔تاریگامی کاکہناتھاکہ گزشتہ روز ہی ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ایک سیاح کنبے کے اہربل کولگام میں کھوجانے والے بیگ کو واپس کیا جس میں 10لاکھ روپے کے زیورات تھے ،کشمیری مہمان نواز ہیں جنہوں نے ہمیشہ سیاحوں کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت جو کشمیر کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پردوبارہ جگہ دلانے کیلئے اشتہار پر بڑے پیمانے پر پیسے خرچ کررہی ہے ،ابھی تک خاص کامیابی حاصل نہیں کرپائی ۔ان کاکہناتھاکہ 2014کے سیلاب اور2016کے حالات نے پہلے ہی کشمیر میں سیاحتی صنعت کو نقصان پہنچایا جس کے بعد منفی نشریات نے اسے تباہ کیاہے ۔تاریگامی نے کہاکہ سیاحتی صنعت سے جڑے لوگوں نے مختلف مالیاتی اداروں سے قرضے لے رکھے ہیں جن پر وہ بھاری شرح سود ادا کررہے ہیں ، کئی شکارا مالکان اب سبزیاں فروخت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ ٹریول ایجنٹوں نے اپنے دفاتر بند کردیئے ہیں تاکہ کرایہ سے بچتے ہوئے کسی دوسری جگہ کام تلاش کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شعبے سے جڑے افراد کے بچائو کیلئے سامنے آئے جو اس وقت ایک بحران سے دوچار ہیں ۔ 
 
 
 

فحش ریمارکس پر کولگام کا نوجوان گرفتار، عدالتی ریمانڈپر آسام پولیس کی تحویل میں

سرینگر//آسام پولیس نے کشمیری نوجوان کی طرف سے سوشل میڈیا پر فحش ریمارکس پوسٹ کرنے کی پاداش میں انہیں گرفتار کرلیا۔ معلوم ہوا ہے کہ آسام کرائم برانچ نے بی جے پی کارکن کی شکایت پر مذکورہ نوجوان کیخلاف کارروائی عمل میں لائی ہے۔ آسام پولیس نے کشمیری نوجوان کی طرف سے سوشل میڈیا پر فحش ریمارکس اپلوڈ کرنے کی پاداش میں انہیں گرفتار کرلیا ہے۔سید عباس ساکن کولگام نامی نوجوان کو آسام پولیس نے اُس وقت گرفتار کرلیا جب مذکورہ نوجوان نے 13جون 2019کو جھارکھنڈ میں ہوئے مانوازوں کے حملے میں مارے گئے سی آر پی ایف کی بیوہ کے خلاف فیس بک پر فحش ریمارکس پوسٹ کئے۔اس سلسلے میں آسام پولیس کی خصوصی ٹیم نے سید عباس کو کولگام سے گرفتار کرنے کے بعد 22جون 2019کو کولگام کی ضلع عدالت میں پیش کیا جہاں پر مذکورہ نوجوان کو سفری ریمانڈ پر دے کر آسام پہنچایا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کرائم برانچ آسام کی خصوصی ٹیم نے بی جے پی کارکن کی شکایت پر مذکورہ فحش فقرے کسنے والے نوجوان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی ۔ معلوم ہوا کہ بی جے پی کارکن نے آسام کے ضلع کامرپ میں کمال پور پولیس تھانے میں شکایت مذکورہ نوجوان کیخلاف شکایت درج کرائی جس میں نوجوان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نوجوان نے سنیل کلیتا نامی سی آر پی ایف اہلکار کی بیوہ کیخلاف فیس بک پر فحش ریمارکس اپلوڈ کئے تھے جس کے بعد بھاجپا کارکن نے نوجوان کیخلاف شکایت درج کرکے آسام پولیس سے کڑی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔معلوم ہوا کہ کولگام سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے گوہاٹی سے تعلق رکھنے والی نیوز چینل کے فیس بک پیج پر مہلوک سی آر پی ایف اہلکار کی اہلیہ کے خلاف فحش فقرے پوسٹ کئے تھے۔ادھر شکایت موصول ہونے کے بعد آسام کے وزیر اعلیٰ سربا نندھا سنوال نے مقامی پولیس کو نوجوان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔
 
 
 

جموں و کشمیرمیں حد بندی کا سوال 

پارلیمنٹ کی خاموشی افسوسناک:بھیم سنگھ

سرینگر//نیشنل پینتھرس پارٹی کے سرپرست پورفیسر بھیم سنگھ نے کہاہے کہیہ المیہ ہے کہ جموں و کشمیر کو اب تک یونین کا حصہ نہیں سمجھا گیا ہے۔ آج کی حکمران بی جے پی نے جموں و کشمیر کی حیثیت پر کانگریس کو گالی دیتے ہوئے کئی دہائی گزاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل لوک سبھا کے اندر بی جے پی نے سوال اٹھانے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ بی جے پی بنچ نے ایوان کے سامنے ہندستانی آئین کے دفاع کرنے کے علاوہ جموں و کشمیر کے آئین کا دفاع کرکے آگے خودسپردگی کردی۔ ہندستانی پارلیمنٹ کو کیا کرنا چاہئے، یہ ایک سوال ہے، جس کا جواب ہندستان کے ممبران پارلیمنٹ کو آج ہی دینا ہو گا کیونکہ کل تک بہت تاخیر ہو جائے گی۔
 
 
 

 جنگلات کی آگ سے متعلق قومی ایکشن منصوبہ

 مانیٹرنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں پی سی سی ایف کی شرکت

سری نگر// پی سی سی ایف سریش چُگ نے نئی دہلی میں فارسٹ فائیر مینجمنٹ سے متعلق قومی ایکشن پلان کی مانیٹرنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں شرکت کی جس میں تمام ریاستوں کے پی سی سی ایف ایس نے شرکت کی اور جنگلوں میں لگنے والی آگ پر قابو پانے سے متعلق ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا ۔ سیکرٹری جنگلات کی سربراہی میں قایم کی گئی اس مانیٹرنگ کمیٹی کو نیشنل گرین ٹربیونل کی ہدایات کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے ۔ میٹنگ میں مختلف ریاستوں کی کارکردگی اور جنگلات کے آگ پر روک لگانے کیلئے اقدامات کا جائیزہ لیا گیا ۔ جموں کشمیر کے تعلق سے بتایا گیا کہ 153 کروڑ روپے کا ایک ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے جس میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ آگ لگنے کے بعد کے اقدامات وضح کئے گئے ہیں اور اس میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا بھی شامل ہے ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ جموں کشمیر میں موسمِ گرما اور موسمِ خزاں میں آگ کی زیادہ وارداتیں رونما ہوتی ہیں اور پچھلے چھ ماہ کے دوران جموں میں اس طرح کے 157 جبکہ کشمیر میں 28 حادثات رونما ہوئے ۔ اس موقعہ پر مختلف ریاستوں کو درپیش مشکلات کو بھی زیر بحث لایا گیا ۔ میٹنگ کی صدارت ماحولیات اور جنگلات کے مرکزی سیکرٹری سی کے مشرا نے کی جبکہ اس میٹنگ میں کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔ میٹنگ میں آندھر پردیش ، راجستھان ، گجرات ، یو پی ، اترا کھنڈ ، میگالیہ ، جموں کشمیر ، آسام اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے پی سی سی ایف ایس نے شرکت کی ۔