تازہ ترین

آئینی حکومت ریاستی عوام کا حق :نیشنل کانفرنس

انتخابات فورا نہ کرائے گئے تو سپریم کورٹ کا رخ کریں گے

27 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ ریاست میں عوامی منتخبہ حکومت عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور اگر مرکزی حکومت نے فوری طور پر یہاں اسمبلی انتخابات نہیں کرائے تو پارٹی سپریم کورٹ کا رُخ کریگی۔ان باتوں کا اظہار این سی لیڈران نے پارلیمانی انتخابات میں جیت کے بعد پارٹی سے وابستہ افراد کیساتھ رابطہ مہم کو جاری رکھتے ہوئے ڈاک بنگلہ بارہمولہ میں حلقہ انتخاب بارہمولہ اور سنگرامہ کے عہدیداروں اور کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن میں پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر ان عبدالرحیم راتھر، جاوید احمد ڈار، بشارت بخاری، ڈاکٹر سجاد اوڑی، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، جگدیش سنگھ آزار، غلام حسن راہی، جنک سنگھ سوڑھی، خواجہ محمد یعقوب وانی، ایڈوکیٹ نیلوفر مسعود، ایڈوکیٹ شاہد علی، اور دیگر عہدیداران بھی موجو دتھے۔ جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ہماری ریاست کے گورنر انتظامی کام کم اور سیاست زیادہ کرتے ہیں، گورنر موصوف دعوے کرتے ہیں کہ بلدیاتی، پنچایتی اور پارلیمانی انتخابات کے دوران ایک چڑیا بھی نہیں مری۔ اگر گورنر ایسا دعویٰ کررہے ہیں تو اسمبلی انتخابات کرانے سے وہ کیوں کترا رہے ہیں؟‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کو معلوم ہے کہ اگر اس وقت الیکشن ہوئے تو ایک مخصوص جماعت بھرپور منڈیٹ کیساتھ الیکشن جیت جائے گی ، اس لئے انتخابات کے انعقاد کو مختلف بہانوں کے ذریعے سردخانے میں رکھا جارہا ہے۔ ساگر نے مرکز سے مخاطب ہوئے کہا کہ ’’آپ الیکشن کے انعقاد میں کتنا ہی لیت و لعل کیوں نہ کریں، آپ ہمیں دبانے اور زیر کرنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں، جب کبھی بھی الیکشن ہونگے ہماری شاندار کامیابی کو آپ کسی بھی صورت میں روک نہیں سکتے۔ عوامی منتخبہ حکومت ریاست جموںوکشمیر کے عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور اگر یہاں فوری طور الیکشن کی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا جاتا ہے تو نیشنل کانفرنس سپریم کورٹ کا رُخ کریگی‘‘۔ پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی اور سینئر لیڈر عبدالرحیم راتھر نے اپنی تقریر میں کشمیر میں نئی پارٹیوں کے قیام کو یہاں کے عوام کی آواز کو تقسیم کرنے کی ایک مذموم سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’وادی میں نئی پارٹیاں بنانے کا جو رجحان شروع ہوا ہے یہ سب کچھ کشمیریوں آواز کو کمزور کرنے کیلئے کیا جارہا ہے۔ جموں اور لداخ میں کوئی نئی پارٹی کیوں نہیں بن رہی ہے؟ کشمیر میں ہی یہ ایسی سرگرمیاں کیوں؟ اس پر ہمیں غور کرنا ہے اور ہمیں ایسے تمام ارادوں اور مذموم منصوبہ کو متحد ہوکر ناکام بنانا ہے جن کا مقصد کشمیریوں کو آواز کو تقسیم اور کمزور کرنا ہے۔‘‘ پارٹی لیڈران نے کہا کہ دفعہ370اور 35اے ہمارے وجود کیلئے ضروری ہے اور نیشنل کانفرنس ان دفعات کا دفاع کرنے کیلئے میدانِ کارزار میں برسرجہد ہے۔ نیشنل کانفرنس جتنی مضبوط ہوگی اُتنا ہی ریاست کی خصوصی پوزیشن کو تحفظ بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔ نیشنل کانفرنس سے غلطیاں ہوئی ہونگی لیکن یہی جماعت یہاں کے لوگوں کی اصل آواز ہے۔ جب ہم چاروں طرف نظر دوڑاتے ہیں تو نیشنل کانفرنس کے سوا اور کوئی بھی ایسی جماعت نظر نہیں آتی جو ریاستی مفادات کا تحفظ کرنے کا مادہ رکھتی ہے۔ پارٹی لیڈران نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور نیشنل کانفرنس اس کے سیاسی حل کی وکالت کرتی آئی ہے ، اگر مرکز حریت کیساتھ بات کرتا ہے تو ہماری جماعت اس کا خیر مقدم کریگی۔