تازہ ترین

مزید خبرں

27 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

کمشنر سیکرٹر ی اطلاعات نے محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا، عملے کی شکایات سنیں

جموں//محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کے کمشنر سیکرٹری منوج کمار دویدی نے آج یہاں محکمہ کے میڈیا کمپلیکس میں ایک میٹنگ طلب کر کے ادارے کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات جموں نریشن کمار ، ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات و رابطہ عامہ جموں میناکشی وید ،یوتھ انفارمیشن آفیسر عمران رشید کٹاریہ ، فیلڈ پبلسٹی آفیسر وپن بھگت ، کلچرل آفیسر پرول کھجوریہ اور فوٹو آفیسر احمد خان کے علاوہ محکمہ کے دیگر سینئر افسران و اہلکار موجود تھے۔جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لئے اٹھائے جارہے اقدامات کے بارے میں تفصیلات دیں۔فنکاروں کے گریڈ پر نظر ثانی کرنے ، کنٹریکچول /کیجول عملے کی مستقلی ، ای ۔ بلنگ کو شروع کرنے اور عملے کی کمی پر قابو پانے کے علاوہ ڈی پی سی کے معاملات پر سیر حاصل بحث کی گئی ۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سیکرٹری نے محکمہ کی کارکردگی میں مزید نکھار لانے پر زور دیا تاکہ حکومت اور میڈیا کے درمیان رابطے کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔انہوں نے فیلڈ سرگرمیوں میں مزید بہتری لانے کی تلقین کی ۔اُنہوں نے محکمہ میں خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے اور ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کی میٹنگ بلانے پر بھی زور دیا۔کمشنر سیکرٹری نے متعلقہ افسرو ں کو ہدایت دی کہ وہ بیک ٹو ولیج پروگرام کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دیں۔ انہوں نے ریاست کے تین صوبوں کے لئے الگ الگ ڈاکیومنٹری تیار کرنے کے لئے کہا۔محکمہ کی کارکردگی میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس میں مزید بہتری لانے کے لئے عملے سے تجاویز طلب کیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ کے اہلکاروں کی تمام شکایات کا مناسب جائزہ لیا جائے گا تاکہ ان کا بروقت ازالہ کیا جاسکے۔بعد میں کمشنر سیکرٹری نے دفتر کے مختلف شعبوں کا معائینہ کیا۔
 
       

مئیر کا کوٹ بھلوا ل میں ڈمپنگ گرائونڈ کا دورہ

جموں //جموں میونسپل کارپوریشن کے مئیر چندر موہن شرما نے چیف ٹرانسپورٹ افسر طلعت محمود و دیگر افسروں کے ہمراہ کوٹ بھلوال میں کالا گھام ،کوٹ بھلوال میں میونسپل کوڈا ذخیرہ کرنے کے میدان کا دورہ کیا  اور مذکورہ مقام پر ڈمپنگ سائٹ کا جائزہ لیا۔ملحقہ دیہات کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس موقعہ پر اکٹھا ہوئی اور مئیرسے ملاقات کرکے انہیں ڈمپنگ سائٹ سے متعلق اپنی شکایات پیش کیں۔مقامی لوگوں نے شکایت کی سائٹ پر غیر مناسب طریقہ سے پالی تھین اور کوڈا کرکٹ رکھا گیا ہے ،جو کہ ادھر اُدھر پھیل گیا ہے ،جسکی وجہ سے موسم گرما میں بد بو پھیلتی ہے۔مئیرنے لوگوں کی شکایات کو بغور سنا اور جے ایم سی افسروں سے فوری طور ڈمپنگ سائٹ کی دیوار بندی اور ڈمپنگ سائٹ کو ڈھکنے کی ہدایت دی۔انہوں ے مذکورہ مقام پر مزید صفائی کرمچاریوں کو مستقل بنیادوں پر تعینات کرنے اور پورے علاقہ میں  باقاعدگی سے چونے کا چھڑکائو کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے لوگوں کو جے ایم سی کے ساتھ شہر کو صاف رکھنے میں تعاون کرنے کی اپیل کیاور یقین دلایا کہ جموں میونسپل کارپوریشن اپنے طور سے ہی گھریلو اور کمرشل کوڈا کرکٹ علحیدہ کرنے کا اکم نیک نیتی سے کر رہی ہے اور ڈمپنگ سائٹ کو سائنسی طریقہ سے برقرار رکھنے کی کام کر رہی ہے۔
 
 

این سی پی کی نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے کی اپیل 

جموں // این سی پی کی سٹوڈنٹس ونگ نے ریاست کے نوجوانوں سے منشیات کی بدعت سے دور رہنے کی اپیل کی ۔ ایک پریس بیان کے مطابق اس سلسلہ میں زیر قیادت قومی ایگزیکٹو ممبر و نامور سماجی کارکن انجینئر ریشی کیلم ایک اجلاس کا اہتمام کیا گیا ،جس میںریاست میں منشیات کی بدعت پر کافی تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں پارٹی کے کارکنوں اور اہم سول سوسائٹی ممبروں نے حصہ لیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر ریشی کول کیلم نے طلاب اور نوجوانوں سے منشیات سے دور رہنے کی اپیل کی ،تاکہ انکا مستقبل تباہ وہنے سے بچ جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں منشیات کے خلاف عالمی دن کو کسی کے جنم دن کے طور پر نہیں منانا چاہیے بلکہ اس کے اصل مفہوم کو سمجھنا چاہیے،تاکہ ہمارا سماج منشیات سے پاک رہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار اور سماج کو منشیات کی بدعت کے خلاف چوکس رہنا چاہیے اور اس کا پتہ لگانا چاہیے کہ منشیات کہاں سے ہماری ریاست میں داخل ہوتے ہیں ۔انہوں نے منشیات سپلائی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا، تاکہ ہمارے سماج کو منشیات سے نجات حاصل ہو۔
 
 

ریاست جموں و کشمیر میں ہیلتھ سروسز کا فقدان : رتن گپتا

جموں //ینشنل کانفرنس نے ریاست جموں و کشمیرکو نیتی آیوگ کی رپورٹ میں ساتویں نمبر پر رکھنے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل میں یہ کار کردگی کی بنا پر حقیقت سے بعید ہے۔پارٹی کے ریاستی سیکرٹری رتن لعل گپتا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اصل میںریاست میں صحت خدمات ابتر ہیںاور دیہی  علاقوں اور قصبہ جات میں طبی عملہ و دیگر انفراسٹریکچر کی کمی سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فقط عمارتوں سے ہی ادارے قائم نہیں ہوتے ہیں،جب تک کہ انکو منظور شدہ طبی عملہ سے فعال نہ بنایا جائے تب تک  ایسے خدمات کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر کی مثال دی جسے منظور شدہ10ڈاکٹروں میں سے فقط ایک نیم طبی عملہ کا اہلکار چلا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معمالہ کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ منظور شدہ ڈاکٹر کہاں پر اٹیچ کئے گئے ہیں۔انہوںنے محکمہ صحت و طبی تعلیم سے تمام اٹئیچ کئے گئے اہلکاروں کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ وہ اپنے تعیناتی کی جگہوں پر اپنے خدمات انجام دے سکیں۔گپتا نے عملہ کی باقاعدگی کی مانیٹرنگ کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سپر اسپیشلٹی ہسپتال اور گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال کے متعدد یونٹوں میں  سینئر ڈاکٹروں کی ریٹائر منٹ کے بعدسست رفتاری کے رویہ پر بھی افسوس کاا ظہار کیا اور پوچھا ہے کہ سرکار کس طرح سے اہم شعبہ کو فراموش کرسکتا ہے۔
 
 
 

ست شرما کا وارڈ نمبر 35 میں میکڈم بچھانے کے کام کا افتتاح 

جموں //سابقہ وزیر و ایم ایل اے ست شرما نے جموں ویسٹ اسمبلی حلقہ کے وارڈ نمبر 35 میں امبا تھیٹر کے نزدیک سڑک پر میکڈم بچھانے کے کام کا افتتاح کیا۔انکے ہمراہ محکمہ تعمیرات عامہ کے اہلکار ، وارڈ نمبر 35  کے کارپوریٹر یش پال شرما ،بی جے پی کے ریاستی سیکرٹری پردمن سنگھ ،بی جے پی کے ضلع صدر ایودھیا گپتا،مقامی لوگ اور علاقہ کے سیاسی و سماجی کارکن بھی تھے۔اس کام کی تکمیل پر 1.22 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ ہے۔اس موقعہ پر اپنے خطاب میں ست شرما نے کہا کہ بی جے پی اپنے بنیادی اصولوں  سب کا ساتھ ،سب کا وکاس کا ہمیشہ سے ہی وعدہ بند رہاہے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرکے انکے طرز زندگی میں بہتری لاکر جموں ویسٹ حلقہ کو ایک ماڈل حلقہ بنانے کی کو ششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے دیگر لوگوں کے ہمراہ علاقہ کا بھی دورہ کیا اور علاقہ کے باشندوں سے کام کے معیار پر نگاہ رکھنے کی اپیل کی اور اگر کوئی تفاوت پائی جاتی ہے ،تو اس مدعے کا اٹھایا جائے۔اس موقعہ پر کارپوریٹر یش پال شرما نے کہا کہ علاقہ میں بیشتر سڑکیں بشمول اندرونی سڑکوں کا کام مکمل کیا گیا ہے۔انہوںنے لوگوں کو یقین دلایا کہ انکے دیگر مطالبات کو متعلقہ حکام کے ساتھ ازالہ کرنے کے لئے اُٹھایا جائے گا۔انہوں نے مقامی لوگوں سے اپنے گرد و نواح کو صاف و شفاف رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے سوچھ بھارت کے نیک کام کو فروغ دینے کی اپیل کی۔کلدیپ گپتا، شمشیر شرما ، سنجے بھٹ، بنٹی، ارون بامزائے،یوگ راج کول، سندیش ڈوگرہ ،کنو پروترہ ،سنیل سرمل بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔
 

آرینز گروپ آف کالجز اورآنند کمار کے درمیان معاہدہ

جموں//آرینز گروپ آف کالجز ،راجپورہ، چندی گڑھ کی جانب سے منعقدہ سکالرشپ میلہ میں نامور میتھ مٹشن اور سُپر 30 شہرت یافتہ آنند کمار نے شرکت کی۔گروپ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق انہوں نے  ملک کے متعددحصوں کے ذہین اور ضرورتمند طلاب کی نشاندہی اور مدد کرنے کے لئے آرئینز کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔آنند کمار نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بہار کے ضرورت مند، ذہین اور مستحق طلاب کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد کیلئے آرئینز کے ساتھ اشتراک کرنے میں مسرت ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہر ایک طلاب علم آئی آئی ٹی میں داخلہ نہیں لے سکتا ہے اور دیگر متعدد نجی تعلیمی اداروںمیں بھاری فیس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرئینز بہار کے طلاب کو اپنے اعلیٰ تعلیمی خواب پورا کرنے کیلئیمالی طور سے مدد کرکے قابل ستائش کام انجام دے رہے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپُر 30شہرت یافتہ آنند کمار آجکل رہتک روشن کی آنے والی فلم ’’ سُپر۔30‘‘کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔
 
 

جموں و کشمیر حد بندی

جموں و کشمیرمیں حد بندی کے سوال کا جواب دینے پر پارلیمنٹ کی خاموشی

جموں//25 جون، 2019 کو بی جے پی کے نعرے لوک سبھا میں گونجتے رہے، لیکن جموں و کشمیر میں حد بندی کے معاملے پر حکومت کوئی جواب نہیں دے سکی۔ جموں و کشمیر میں حد بندی 1995 کے بعد سے نہیں ہوئی ہے جبکہ آئین کے مطابق حد بندی ہر مردم شماری کے بعد پورے ملک میں ہر 10 سال کے بعد ہونی چاہئے۔ ہندستانی آئین کے ماہر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کی پارلیمنٹ کے ہر رکن کے سامنے یہ سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ اس سوال کا جواب دینے میں کیوں ناکام  رہی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے 1988 میں 32000 ووٹوں کے فرق سے لوک سبھا کا ضمنی انتخابات جیتا اور کانگریس کے امیدوار کو شکست دے کر بھی 10 ویں لوک سبھا میں داخل نہیں ہوسکے۔ جسٹس سردار کلدیپ سنگھ کی صدارت والی سپریم کورٹ بینچ نے ادھمپور سے کانگریس امیدوار کی جیت کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ پروفیسر بھیم سنگھ کی عرضی قبول کی گئی، لیکن وہ پارلیمنٹ کے رکن کا حلف نہیں لے سکے، کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلہ کے اعلان سے دو دن پہلے ہی 10 ویں لوک سبھا تحلیل کر دی گئی تھی۔یہ اراکین پارلیمنٹ کے لئے ایک موقع تھا، خاص طور پر بی جے پی کو جموں و کشمیر میں حد بندی کا مسئلہ اٹھانے کا جو 1995 سے ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 170 کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر آئین کے سیکشن 47 اور 141 کے تحت نہیں کی گئی ہے جو حیرت انگیز ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے۔ 1951 میں شہریوں کا قومی رجسٹر پہلی بار وجود میں آیا۔ آسام کے شہریوں کا مسئلہ بھی آسام تک محدود رہا اور بعد میں ہندستانی آئین کو شمال مشرق میں نافذ کیا گیا یعنی ہندوستانی آئین کا ہی کنٹرول رہا۔ دوسری طرف جموں و کشمیر میں ہندستانی آئین آرٹیکل 370 کی وجہ سے نافذ ہی نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے نام پر ہی 1952 تک مہاراجہ کی حکومت کا آئینی حق رہاکیونکہ ہندستانی آئین میں ایک عارضی رزق آرٹیکل 370 ڈالا گیا تھا، جسے آئین کے ماسٹر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، جسے جموں و کشمیر میں تسلیم کیا گیا ہے۔ 1950 سے آرٹیکل 370 آج تک عارضی چل رہا ہے اور ہندستانی پارلیمنٹ کو جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی بھی قانون بنانے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی جموں و کشمیر میں دفاع، خارجی امور اور مواصلات وغیرہ موضوعات پر پارلیمنٹ کوئی قانون بنا سکتی ہے۔ یہ سراسر آرٹیکل 370 کی مداخلت تھی جسے ہندستانی آئین ساز اسمبلی اور بعد میں ہندستانی پارلیمنٹ نے 70 سالوں سے جیسے قبر میں زندہ رکھا ہو، کاش کہ لوک سبھا میں حد بندی  پربحث ہوتی یا تمام ممبران پارلیمنٹ کو اپنی بات کہنے کا وقت ملتا، جب تک آرٹیکل 370 آئین میں ایک عارضی رزق کی شکل میں موجود ہے، تب تک جموں و کشمیر میں ہندستانی پارلیمنٹ کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ اس کا ثبوت کل جو لوک سبھا میں تماشہ ہوا وہی کافی ہے۔یہ المیہ ہے کہ جموں و کشمیر کو اب تک یونین کا حصہ نہیں سمجھا گیا ہے۔ آج کی حکمران بی جے پی نے جموں و کشمیر کی حیثیت پر کانگریس کو گالی دیتے ہوئے کئی دہائی گزاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل لوک سبھا کے اندر بی جے پی نے سوال اٹھانے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ بی جے پی بنچ نے ایوان کے سامنے ہندستانی آئین کے دفاع کرنے کے علاوہ جموں و کشمیر کے آئین کا دفاع کرکے آگے خودسپردگی کردی۔ ہندستانی پارلیمنٹ کو کیا کرنا چاہئے، یہ ایک سوال ہے، جس کا جواب ہندستان کے ممبران پارلیمنٹ کو آج ہی دینا ہو گا کیونکہ کل تک بہت تاخیر ہو جائے گی۔