تازہ ترین

قومی تعلیمی مسودہ 2019:سنٹرل یونیورسٹی کشمیر میں ایک روزہ اجلاس

27 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ارشاد احمد
گاندربل //سنٹرل یونیورسٹی کشمیر میں شعبہ سکول ایجوکیشن کے زیر اہتمام قومی تعلیمی مسودہ 2019 کے تحت ایک روزہ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسرمعراج الدین،وائس چانسلر اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ پروفیسر مشتاق احمد صدیقی،کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد،وائس چانسلر سنٹرل یونیورسٹی جموں پروفیسر اشوک ایما،رجسٹرار سنٹرل یونیورسٹی کشمیر پروفیسر فیاض احمد نکہ،ڈائریکٹر جی ایم بٹ،سابق سربراہ شعبہ تعلیم کشمیر یونیورسٹی پروفیسر اے جی مدہوش،شعبہ سکول آف ایجوکیشن ڈاکٹر ظہور احمد گیلانی،سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے ارکان مختلف شعبوں میں زیر تعلیم سکالروں،طلباء اور فیکلٹی ممبران سمیت دیگر افراد موجود تھے.اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسرمعراج الدین میر نے کہا کہ قومی ایجوکیشن مسودہ 2019 کو تیار کرتے وقت ہمیں ابتدائی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے خاطرخواہ انتظامات کرنے چاہئیں تاکہ تعلیم کو مناسب سمت فراہم ہوسکے جس کے لئے ہمیں اسکول کی تعلیم بنیاد بنانی پڑے گی جس کے خاطر خواہ نتائج یونیورسٹی کے طلباء اور دیگر اداروں میں زیر تعلیم طالب علموں سے حاصل ہونگے اس کے لئے ہمیں تعلیمی نظام اور پالیسیوں میں بدلاو لانے کی ضرورت ہے۔اجلاس سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی تعلیمی مسودہ 2019 کو آج کل کے دور کے تقاضوں کے مطابق پرائمری سکول سے تیار کرنے کی ضرورت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ تعلیمی پالیسی اور اس کے مسودہ کے بارے میں کچھ اچھی چیزیں بھی موجود ہیں جن کے بارے میں سنجیدگی سے توجہ دینی کی ضرورت ہے۔یونیورسٹی کی درجہ بندی میں تین قسموں میں ریسرچ یونیورسٹی،تدریس اور کالج شامل ہیں جو ہر حال میں بہتر اور معیاری تعلیمی پالیسی 2019 میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔سنٹرل یونیورسٹی جموں کے وائس چانسلر پروفیسر اشوک ایما نے کہا کہ مسودہ قومی تعلیم کی پالیسی 2019 کو مسودہ دینے کے لئے قائم کمیٹی کو ایک اکیڈمی کے ماہر سربراہ ہونا چاہئے تاکہ پالیسی کو زیادہ فعال بنانے میں کامیاب ہوسکے۔ اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کے وائس چانسلر مشتاق احمد صدیقی نے اسکول کا نیا مسودہ پالیسی میں زیادہ چیزیں یورپی اور شمالی امریکی تعلیم نظام کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔